سورة النسآء - آیت 130

وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِّن سَعَتِهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنی وسعت سے غنی کر دے گا اور اللہ ہمیشہ سے وسعت والا، کمال حکمت والا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اکٹھا رہنے کی کوئی شکل باقی نہ رہے تو جدائی کی صورت میں دونوں کو تسلی دی گئی ہے۔ گھر کی چار دیواری اور میاں بیوی کے تعلقات معاشرے کی اکائی اور بنیادی یونٹ کی حیثیت رکھتے ہیں یہ یونٹ جس قدر خوشحال اور اس کا ماحول جتناخوشگوار ہوگا۔ اتنا ہی معاشرہ مضبوط اور اچھے خطوط پر استوار ہوگا۔ اس یونٹ کو توڑ پھوڑ سے بچانے کے لیے قرآن مجید نے متعدد ہدایات جاری فرمائی ہیں۔ لیکن بسا اوقات معاملات اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ان پر قابو پانا کسی کے اختیار میں نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں مرد کو طلاق دینے اور عورت کو خلع لینے کا اختیار دیا ہے۔ یہ انقطاع طلاق کی صورت میں ہو یا خلع کی شکل میں بہتر سے بہتر صورت میں وقوع پذیر ہونا چاہیے۔ یہاں تک فرمایا کہ میاں بیوی کو آپس میں علیحدگی اختیار کرتے وقت سابقہ تعلقات اور محبت کو نہیں بھولنا چاہیے۔[ البقرۃ: ٢٣٧] علیحدگی کی صورت میں فریقین کو یہ تسلی دی جارہی ہے کہ اگر تم نے آپس میں علیحدگی کا فیصلہ کرلیا ہے تو گھبرانے اور حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنے اپنے مقام پر اپنی رحمت سے نوازے گا اور ایک دوسرے سے بے نیاز کر دے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ وسعت و کشادگی کا مالک ہے۔ اگر اس نے تمہیں ناگزیر حالت میں ایک دوسرے سے الگ ہونے کی اجازت عنایت فرمائی ہے تو اس کی حکمت یہ ہے کہ مزید لڑائی جھگڑے سے بچاؤ معاشرے میں تمہاری عزت، خاندان میں بھرم اور اولاد کے مستقبل پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب نہ ہونے پائیں۔ ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس (رض) کی بیوی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا اے اللہ کے رسول! میں ثابت بن قیس (رض) کے اخلاق اور دین پر کوئی عیب نہیں لگاتی لیکن میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تو اس کا باغ اس کو واپس کرے گی ؟ اس نے کہا ہاں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ثابت بن قیس کو فرمایا باغ کو قبول کرو اور اسے ایک طلاق دے دو۔“ [ رواہ البخاری : کتاب الطلاق، باب الخلع وکیف الطلاق فیہ ] مسائل ١۔ ناگزیر صورت حال میں میاں‘ بیوی رشتہ توڑ سکتے ہیں۔ ٢۔ میاں بیوی کے درمیان تفریق ہونے کی صورت میں ہر کسی کا اللہ کفیل ہے۔