سورة النسآء - آیت 128

وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۗ وَأُحْضِرَتِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی قسم کی زیادتی یا بے رخی سے ڈرے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں کسی طرح کی صلح کرلیں اور صلح بہتر ہے، اور تمام طبیعتوں میں حرص (حاضر) رکھی گئی ہے اور اگر تم نیکی کرو اور ڈرتے رہو تو بے شک اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پورا باخبر ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : تسلسل جاری ہے یتامیٰ اور عورتوں کے حقوق کا تعین کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے بار بار مردوں کو حکم دیا ہے کہ عورتوں کے حق مہر خندہ پیشانی اور دل کی رغبت کے ساتھ دیا کرو۔ اگر وہ اپنی خوشی سے حق مہر معاف کریں تو بھی اس انداز سے کھاؤ اور استعمال کرو کہ انہیں تمہارے بارے میں ہلکے پن اور حریص ہونے کا گمان پیدا نہ ہو۔ یہاں عورتوں کو تلقین فرمائی جا رہی ہے کہ اگر کسی عورت کو ایسے خاوند کے ساتھ واسطہ پڑا ہے جو حریص اور لالچی ہے یا کسی وجہ سے مجبور ہو کر چاہتا ہے کہ اسے حق مہر معاف کردیا جائے‘ بصورت دیگر خاوند کی طرف سے اعراض اور اختلاف کا خطرہ ہے تو تنازعہ کھڑا کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ عورت اپنے خاوند کے اختلاف اور اعراض سے بچنے کے لیے اپنے حقوق سے دست بردار ہونے کے بارے میں غور کرے۔ ایسا کرنے کا اسے اختیار ہے اس پر اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ گھر اجاڑنے سے بہتر ہے کہ عورت اپنے حقوق میں نرمی اختیار کرلے۔ اس سے عورت کا بھرم قائم رہنے کے ساتھ گھریلو ماحول میں خوشگوار تبدیلی آئے گی۔ یہ ہدایت اس لیے کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں خوش حال اور تمہارے گھروں کو آباد دیکھنا چاہتا ہے۔ یہاں دونوں کو ہر حال میں صلح کارویہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے گو انسان حریص واقع ہوا ہے لیکن اس کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرکے اختلافات سے بچنا چاہیے۔ اگر عورت بوڑھی ہوچکی ہو یا خاوند کو اس کی کوئی عادت پسند نہیں تو بھی نباہ کرنا چاہیے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ اچھی طرح خبر گیر ہے کہ کون تم میں صلح جو، ایثار پسند اور گھر آباد رکھنا چاہتا ہے اور کون ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ مسائل ١۔ میاں بیوی کے درمیان صلح جوئی اور اصلاح کا ماحول ہونا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نیکی اور تقویٰ اختیار کرنے والے کو جانتا ہے۔