سورة البينة - آیت 7

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وہی مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین اور کفار کے مقابلے میں صالح کردار ایمان والوں کا مقام اور انعام۔ دین اسلام کے اوصاف حمیدہ میں جو اوصاف سب سے نمایاں اور مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں پہلا وصف یہ ہے کہ دین اسلام کسی مخصوص قوم اور علاقے کے لوگوں کو دعوت نہیں دیتا، اس کی دعوت رنگ و نسل، جغرافیائی حدود اور زمانے کی قیود سے بالاتر ہے۔ اس لیے قرآن مجید کھلے الفاظ میں دعوت دیتا ہے کہ جو لوگ بھی اللہ اور نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں اور صالح اعمال اختیار کریں وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔ دوسرے مقام پر اس بات کی یوں وضاحت کی گئی ہے۔ ” بے شک مسلمانوں، یہودیوں، عیسائیوں اور بےدین لوگوں میں سے جو بھی اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، انہیں نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“ (البقرۃ: ٦٢) انبیائے کرام (علیہ السلام) کے بعد نہ صرف تمام لوگوں میں بلکہ اللہ کی مخلوق میں صحابہ کرام (رض) کی جماعت سب سے افضل ہے جن کے ایمان اور اعمال کو ان کے بعد آنے والے لوگوں کے لیے معیار قرار دیا گیا ہے۔ (فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اہْتَدَوْا وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ہُمْ فِیْ شِقَاقٍ فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللّٰہُ وَ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ) (البقرۃ: ١٣٧) ” اگر وہ تمہاری طرح ایمان لائیں تو ہدایت پائیں گے اور اگر منہ موڑیں تو وہ واضح ضد کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کے مقابلہ میں آپ کو کافی ہوگا اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔“ ان کی جزا ان کے رب کے ہاں یہ ہے کہ ان کو ہمیشہ رہنے والی جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل کیا جائے گا، ایسی جنتیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ صحابہ پر راضی ہوگیا اور صحابہ (رض) اپنے رب پر راضی ہوئے، یہ صلہ ہر وہ شخص پائے گا جو اپنے رب پر خالص ایمان لایا اور نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقے کے مطابق صالح اعمال کرنے کے ساتھ اپنے رب سے ڈرتا رہا۔ رب تعالیٰ سے ڈرنے کی شرط اس لیے رکھی گئی ہے کہ اس کے بغیر ایمان اور اعمال میں اخلاص پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے۔ صحابہ (رض) کا مقام اور احترام : ” حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ سول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے زمانہ کے لوگ سب سے بہتر ہیں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ اس کے بعد کچھ لوگ آئیں گے‘ جن کی گواہی ان کی قسم سے، اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔“ (رواہ البخاری : باب لاَ یَشْہَدُ عَلَی شَہَادَۃِ جَوْرٍ إِذَا أُشْہِدَ ) (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَا تَسُبُّوْا اَصْحَابِیْ فَلَوْاَنَّ اَحَدَکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَھَبًا مَّا بَلَغَ مُدَّ اَحَدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَہٗ) (رواہ البخاری : باب مناقب ابی بکر) ” حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میرے اصحاب (رض) کو برا مت کہو۔ کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو وہ صحابہ (رض) کے آدھے مد (چوتھائی کلو گرام) کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔“ (قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ سَبَّ نَبِّیًا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ اَصْحَابَہٗ جُلِدَ) (رواہ الطبرانی فی الصغیر) ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور جو صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے مارے جائیں۔“ مسائل ١۔ جو لوگ سچے دل کے ساتھ ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے ہیں وہ اللہ کی پوری مخلوق میں بہتر ہیں۔ ٢۔ بہترین لوگوں کے لیے ان کے رب نے جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ٣۔ بہترین لوگ ہمیشہ کی جنت میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ صحابہ پر راضی ہوا اور صحابہ اپنے رب پر راضی ہوگئے۔ تفسیربالقرآن جنت اور اس کی نعمتوں کی ایک جھلک : (الحجر : ٤٧۔ ٤٨) (الرعد : ٣٥) (الواقعہ : ٢٨ تا ٣٠) (الحاقہ : ٢٣) (حم السجدہ : ٣١)