سورة الغاشية - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اللہ کے نام سے جو بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

سورۃ الغاشیہ کا تعارف یہ مکی سورت ہے اس کا نام اس کی پہلی آیت کا آخری حصہ ہے یہ ایک رکوع اور چھبیس آیات پر مشتمل ہے اس سورت میں بنیادی طور پر دو مضمون بیان کیے گئے ہیں پہلا یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کے بارے میں غافل یا اس کا انکار کرتے ہیں انہیں انتباہ کیا گیا ہے جس میں مخاطب کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔ اس میں بظاہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں یہاں ہر اس شخص کو مخاطب کیا گیا ہے جو قیامت کو جھٹلانے والا ہے چنانچہ ارشاد ہوا : کیا تمھارے پاس ہر چیز پر چھا جانے والی آفت کی خبر نہیں پہنچی اس دن کئی چہرئے خوف زدہ ہوں گے جو شدید کرب میں مبتلا ہوں گے اور انہیں دہکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا جائے گا وہاں انہیں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور کھانے کے لیے کانٹے دار جھاڑیاں دی جائیں گی ان کے مقابلے میں وہ خوش نصیب ہوں گے جنہیں جنت عالیہ میں رکھا جائے گا وہ اس میں کسی قسم کی بے ہودگی اور آلودگی نہیں پائیں گے اس میں چشمے جاری ہوں گے جنتی جنت میں ٹیک لگا کر قطار اندر قطار تشریف فرما ہوں گے۔ جہنمیوں کے لیے عذاب اور جنتیوں کے لیے انعام کا ذکر کرنے کے بعد اونٹ کی خلقت اور پہاڑوں کی تنصیب اور زمین کی وسعت کا ذکر فرما کر حکم ہوا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ لوگوں کو نصیحت کرتے رہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی پر جبر کرنے والا نہیں بنایا البتہ جو شخص اس سے منہ موڑے گا وہ بڑے عذاب میں مبتلا ہوگا حقیقت یہ ہے کہ ہماری طرف ہی لوگوں کا پلٹنا ہے اور ان کا حساب لینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔