سورة الأعلى - آیت 2

الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

وہ جس نے پیدا کیا، پس درست بنایا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تسبیح اس لیے بھی کرنا ہے کیونکہ وہ پوری کائنات کی بقا اور فنا کا مالک ہے۔ ” اللہ“ ہی وہ ذات ہے جس نے اس کائنات کو بنایا اور انسان کو پیدا فرمایا ہے، نہ صرف انسان کو پیدا کیا بلکہ اس کے اعضاء اور جوارح کو اس طرح بنایا اور درست فرمایا ہے کہ پوری مخلوق میں انسان ” اللہ“ کی قدرت کا عظیم شاہکار قرار پایا ہے، انسان کو پیدا فرما کر اسے زمین و آسمانوں میں ایسی تکریم دی جو تکریم کسی اور مخلوق کو نہیں دی گئی۔ یہاں تک انسان کے اعضاء اور جوارح کا تعلق ہے اس میں اس طرح توازن قائم کیا ہے کہ ہر عضو اور جوڑ اپنی انتہا پر پہنچ کر ٹھہر جاتا ہے، یہی توازن اس نے ہر چیز میں پیدا کیا ہے اور اس کی راہنمائی کا بندوبست فرمایا ہے۔ اسی نے انسان اور ہر چیز کی تقدیر بنائی ہے جس میں آگا پیچھا نہیں ہو سکتا۔ اسی ذات نے چارہ نکالا اور پھر وہی اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کرکٹ بنا دیتا ہے۔ چارے سے مراد تمام قسم کی نباتات ہے جو اپنے خالق کے حکم سے زمین سے نکلتی ہے، اس کے بعد پروان چڑھتی ہے اور پھر کوڑا کرکٹ بن کر ختم ہوجاتی ہیں۔ یہی انسان کی موت وحیات اور قیامت کے دن اٹھائے جانے کا معاملہ ہے۔ اہل علم نے ہدایت کے مدارج کی بہت سی قسمیں بیان فرمائی ہیں لیکن بنیادی طور پر اس کی چار قسمیں ہیں : 1 طبعی اور فطری ہدایت 2 الہامی ہدایت 3 توفیقی ہدایت 4 وحی کی ہدایت۔ طبعی اور فطری ہدایت : چاند، سورج اور سیارے طبعی رہنمائی کے مطابق اپنے مدار میں رواں دواں ہیں، ہوائیں اسی اصول کے تحت رخ بدلتی اور چلتی ہیں، بادل فطری رہنمائی سے ہی راستے تبدیل کرتے اور برستے ہیں حتیٰ کہ اسی اصول کے تحت درخت روشنی کی تلاش میں ایک دوسرے سے اوپر نکلتے ہیں، فطری ہدایت کے مطابق ہی مرغی کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی ماں کے قدموں میں جا پڑتا ہے، بطخ کا بچہ خود بخود پانی کی طرف چلتا ہے اور انسان کا نومولود اپنے ماں کی چھاتی کے ساتھ چمٹتا ہے۔ قرآن نے اس طبعی اور فطری ہدایت کی اس طرح نشاندہی فرمائی ہے : (وَھَدَیْنَاہ النَّجْدَیْنِ) (البلد : ١٠) ” ہم نے اسے دو واضح راستے دکھا دیئے۔“ الہامی ہدایت : الہام، وحی کی ایک قسم ہے مگر وحی اور الہام میں فرق یہ ہے کہ وحی صرف انبیاء کے ساتھ خاص ہے جب کہ الہام انبیاء کے علاوہ نیک اور عام آدمی حتی کہ مکھی کو بھی الہام ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے شہد کی مکھیوں کے لیے وحی یعنی الہام کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں کوئی بات القا فرما دیتا ہے، اسے ہدایت وہبی بھی کہا جاتا ہے۔ ہدایت بمعنٰی توفیق اور استقامت : ہدایت کی تیسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی عنایت اور توفیق سے اپنے بندے کی رہنمائی کرتے ہوئے اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر یہ دعا کرتے تھے۔ (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ) (رواہ الترمذی : کتاب الدعوات) ” اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا۔“ (اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَأَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ) (رواہ الترمذی : باب ماء فی جامع الدعوات) ” اے اللہ! میری راہنمائی فرما اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما۔“ وحی اور حقیقی ہدایت : یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اس ہدایت کی دوشکلیں ہیں اور دونوں آپس میں لازم وملزوم اور ضروری ہیں۔ ایک ہدایت ہے ہر نیکی کی توفیق اور اس کی ادائیگی کا طریقہ جو ہر حال میں سنت نبوی کے مطابق ہونا چاہیے، دوسری اس کی روح اور اصل ہے اسے قرآن مجید نے اخلاص سے تعبیر فرمایا ہے یعنی جو نیکی کی جائے وہ ” اللہ“ کی رضا کے لیے کی جائے اور اس کے اثرات انسان کے روح اور اعمال پر مرتب ہونے چاہئیں۔ (عَنْ عَبْدِاللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَنَّہُ کَانَ یَقُول اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْہُدَی وَالتُّقَی وَالْعَفَافَ وَالْغِنَی) (رواہ البخاری : باب التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ یَعْمَلْ) ” حضرت عبداللہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، تندرستی اور استغناکا سوال کرتا ہوں۔“ مسائل ١۔ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن یاد کروانا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا تھا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ظاہر اور باطن کو جانتا ہے اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں رہتی ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے دین پر عمل کرنا اور لوگوں تک پہنچانا آسان کردیا۔