سورة النسآء - آیت 105

إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی، تاکہ تو لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ نے تجھے دکھایا ہے اور تو خیانت کرنے والوں کی خاطر جھگڑنے والا نہ بن۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : امت کو خارجی خطرات سے بچانے کے لیے اسلحہ اور مسلسل جہاد کی ضرورت ہے۔ داخلی انتشار سے محفوظ رکھنے کے لیے کرپٹ لوگوں کی طرفداری سے بچنا اور سب کے لیے قانون شریعت یکساں طور پر نافذ کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید صرف اس لیے نازل نہیں فرمایا کہ اسے گلدانوں میں سجا کر رکھ دیا جائے۔ نزول قرآن کا مقصد یہ ہے کہ اخلاص، توجہ اور غور و خوض کے ساتھ اس کی تلاوت کی جائے۔ تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہوئے اسے اللہ کا قانون سمجھ کر اللہ کے بندوں پر نافذ کیا جائے۔ تاکہ انفرادی اور اجتماعی معاملات عدل و انصاف کے ساتھ چلتے رہیں۔ باہمی اختلاف کی صورت میں قرآن مجید ہی ان کے درمیان فیصل ہو۔ اسی لیے تو رات و انجیل نازل کی گئی تھیں۔ جس معاشرے میں قرآن مجید کا حکم جاری نہیں ہوتا ایسے لوگوں کو ظالم، فاسق اور کافر قرار دیا گیا ہے۔ جس کی تفصیل سورۃ المائدہ آیت ٤٥ تا ٥٠ میں بیان ہوئی ہے۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِقَامَۃُ حَدٍّ مِّنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنْ مَطَرِ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً فِیْ بِلَاد اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب إقامۃ الحدود] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی حدود میں سے کسی حد کو کسی ملک میں نافذ کرنا چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔“ یہاں ایک پیش آمدہ واقعہ اور مقدمہ کے سلسلہ میں آپ کو ہدایات دی گئی ہیں۔ جو عدل و انصاف کے اصولوں کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جج کا غیر جانب دارہونا، کتاب و سنت کے مطابق فیصلے کرنا، وکیل ہویا رشتہ دار اس کا مجرم کی حمایت سے اجتناب کرنا‘ اس کے بعد شہادتوں کا درست ہونا ضروری ہے۔ یہ وہ چار بنیادی تقاضے ہیں جن کے بغیر کسی معاشرے میں عدل و انصاف کا بول بالا نہیں ہوسکتا۔ جج کو اپنی معلومات کے مطابق صحیح فیصلہ کرنا چاہیے اگر وہ بے علمی میں غلط معلومات کی بنا پر غلط فیصلہ کرتا ہے تو اس کا سارا گناہ غلط معلومات دینے والوں کو ہوگا۔ جانتے بوجھتے غلط فیصلہ کی بنیاد پر لیا ہوا مال حلال نہیں آگ کا ٹکڑا ہوگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فیصلہ کرنے سے پہلے بعض اوقات یہ بات بیان بھی کیا کرتے تھے جیساکہ حدیث میں ہے : (عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ إِلَیَّ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَّکُوْنَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہٖ مِنْ بَعْضٍ وَأَقْضِیَ لَہٗ عَلٰی نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہٗ مِنْ حَقِّ أَخِیْہِ شَیْءًا فَلَایَأْخُذْ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَہٗ قِطْعَۃً مِّنَ النَّارِ) [ رواہ البخاری : کتاب الحیل، باب إذا غضب جاریۃ فزعم أنھا ماتت ] ” حضرت ام سلمہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا تم میرے پاس اپنے فیصلے لے کر آتے ہومیں ایک بشر ہوں ہو سکتا ہے کہ تم میں کوئی دوسرے سے دلائل پیش کرنے میں زیادہ مہارت رکھتاہو۔ میں تو اسی بنیاد پر فیصلہ کرتاہوں جو بات سنتا ہوں میں جس کے لیے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کردوں۔ تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوتاہوں۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے۔ ٢۔ کسی شخص کو مجرم کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔ ٣۔ ہر دم اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنی چاہیے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی رحیم اور بخشنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن قیام عدل : ١۔ فیصلہ انصاف سے کرنا چاہیے۔ (النساء : ٥٨) ٢۔ فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ (المائدۃ: ٤٩) ٣۔ اللہ کا حکم نافذ نہ کرنے والے کافر ہیں۔ (المائدۃ: ٤٤) ٤۔ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا ظالم ہوتا ہے۔ (المائدۃ: ٤٥) ٥۔ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے فاسق ہیں۔ (المائدۃ: ٤٧)