سورة الانشقاق - آیت 1

إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

جب آسمان پھٹ جائے گا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط سورت : سورت ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ“ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ قیامت پر ایمان لانے اور حق بات قبول کرنے کی وجہ سے ایمانداروں کو مذاق کرتے ہیں وہ کافر ہیں۔ قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ کفار جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس کی ابتدا اس طرح ہوگی۔ جونہی اسرافیل صورپھونکے گا تو آسمان پھٹ جائے گا اور اسے اس کے رب کا یہی حکم ہوگا جس پر عمل پیرا ہونا آسمان پر رب تعالیٰ کا حق ہے۔ زمین مسلسل زلزلوں کی وجہ سے ہر چیز باہر پھینک دے گی اور اس کا پیٹ خالی ہوجائے گا اور اسے بالکل برابر کردیا جائے گا، اسے بھی اس کے رب کا یہی حکم ہوگا اور ایسا کرنا اس پر اس کے رب کا حق ہے کیونکہ زمین و آسمانوں کو صرف اسی نے ہی پیدا کیا ہے مخلوق ہونے کا تقاضا ہے کہ دونوں اپنے رب کے حکم کی تعمیل کریں۔ یہاں رب ذوالجلال نے اپنے لیے ” اللہ“ کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے دونوں مرتبہ رب کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ رب کا معنٰی خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ زمین و آسمانوں کو یہ معلوم ہے کہ ہمیں پیدا کرنے والا صرف ” اللہ“ ہے جو ہمارا خالق اور مالک ہے اس لیے ہمیں ہر حال میں اس کا حکم ماننا چاہے اس کا حکم ماننا ہم پر فرض ہے کیونکہ ہمارے پیدا کرنے والے کا ہم پر حق ہے۔ یہ الفاظ لا کر ہر انسان کو سمجھایا گیا ہے کہ اے انسان! تجھے بھی اپنے رب کا حکم ماننا چاہیے کیونکہ وہی تیرا خالق، رازق اور حقیقی مالک ہے تجھے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ تو اپنے رب کے حضور پہنچنے کے لیے کوشش کرتا ہے جس کے نتیجے میں تو اس سے ضرور ملاقات کرے گا۔ اس کوشش میں انسان کی شعوری اور غیر شعوری ہر قسم کی کوشش شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے اور قیامت پر یقین کرنے والے لوگ شعوری طور پر کوشش کرتے ہیں کہ ہم اپنے رب کے احکام کی تعمیل کریں کیونکہ ہم نے اس کے حضور پیش ہونا ہے اس لیے وہ اس کیلئے کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوں تو ان کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے اور ان کا رب ان پر راضی ہوجائے ان کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جو زندگی بھر دنیا کے پیچھے لگے رہتے ہیں اور انہیں اپنے رب کی ملاقات کی کوئی فکر نہیں ہوتی حالانکہ غیر شعوری طور پر وہ بھی اسی راہ کے راہی ہیں اور بالآخر وہ بھی اپنے رب کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔ قیامت کے دن زمین ان کیلئے اپنے پیٹ سے ہر چیز باہر نکال دے گی اور جو کچھ اس کے سینے میں راز ہیں وہ اگل دے گی، اسے دوسرے مقام پر یوں بیان کیا گیا ہے۔ ” جب زمین پوری شدت کے ساتھ ہلادی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ نکال کر باہر پھینک دے گی اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے؟ اس دن زمین اپنے حالات بیان کرے گی کیونکہ آپ کے رب نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہوگا۔“ (الزلزال : ٥) مسائل ١۔ آسمان پھٹ جائے گا اور زمین ہموار ہوجائے گی کیونکہ ایسا کرنا ان کے لیے لازم ہے۔ ٢۔ زمین سب کچھ نکال باہر کرے گی کیونکہ اسے اس کے رب کی طرف سے یہی حکم ہوگا۔ ٣۔ ہر انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے آگے بڑھا جارہا ہے۔ تفسیربالقرآن قیامت کے دن زمین و آسمانوں کا ایک منظر : ١۔ اس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور زمین چٹیل میدان ہوگی۔ (الکھف : ٤٧) ٢۔ اس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے۔ (المزل : ١٤) ٣۔ زمین و آسمانوں پر قیامت بھاری ہوگی۔ (الاعراف : ١٨٧) ٤۔ زمین کو ہلا کر تہہ و بالا کردیا جائے گا۔ (واقعہ : ٣، ٤) ٥۔ جب زمین کو ہلا دیا جائے گا پوری طرح ہلا دیا جانا۔ (الزلزال : ١) ٦۔ جب واقعہ ہوگی واقعہ ہونے والی۔ (الواقعہ : ١) ٧۔ لوگو! اپنے رب سے ڈر جاؤ قیامت کا زلزلہ بہت سخت ہے۔ (الحج : ١)