سورة النسآء - آیت 93

وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے، اس میں ہمیشہ رہنے والا ہے اور اللہ اس پر غصے ہوگیا اور اس نے اس پر لعنت کی اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جان بوجھ کر مومن کو قتل کرنے کی سزا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک موقع پر بیت اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ کے گھر! تیرا احترام و اکرام اور جلالت و منزلت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں مومن کی عزت تجھ سے بڑھ کر ہے۔ [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الفتن، باب حرمۃ دم المؤمن ومالہ] ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر سے واپس تشریف لا رہے تھے راستے میں ایک جگہ پڑاؤ فرمایا۔ کچھ صحابہ کرام ” وَنْ“ کے درختوں پر چڑھ کر پیلو توڑ رہے تھے جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود بھی شامل تھے۔ آپ کے ساتھ کھڑا ایک صحابی عبداللہ بن مسعود (رض) کی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر مسکرانے لگا۔ یہ صورت حال دیکھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مومن کی شان کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ یہ پنڈلیاں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہیں۔ [ مسند احمد : کتاب مسند العشرۃ المبشرین بالجنۃ، باب مسند علی (رض) ] اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک ایمان اور کلمے کی اتنی قدر ہے کہ آپ سے حضرت مقداد بن اسود نے استفسار کیا اگر میری کسی کافر کے ساتھ مڈھ بھیڑ ہو اور وہ تلوار سے میرا ہاتھ کاٹ دے۔ جب میں اس پر وار کروں تو وہ درخت کی اوٹ میں جان بچانے کے لیے کلمۂ شہادت پکاراُٹھے تو ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ آپ نے فرمایا تجھے اپنا ہاتھ روکنا ہوگا۔ بے شک اس نے تجھے زخمی کیا ہے اگر تو نے اس پر حملہ کیا۔ تو تو اس کے مقام پر کھڑا ہوگا یعنی وہ مظلوم اور تو ظالم ہوگا۔ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب شھود الملائکۃ بدرا] قرآن مجید کے اس فرمان میں مومن کو عمداً قتل کرنے والے کی پانچ سزاؤں کا بیان ہوا ہے : (١) جہنم میں داخلہ (٢) اس میں ہمیشگی (٣) اللہ کا غضب (٤) اللہ کی لعنت (٥) عذاب عظیم۔ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (سِبَابُ الْمُسْلِم فُسُوْقٌ وَقِتَالُہٗ کُفْرٌ) مومن کو گالی دینا اللہ کی نافرمانی اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الإیمان‘ باب خوف المؤمن من أن یحبط عملہ] مسائل ١۔ بلاوجہ مومن کو قتل کرنے والے پر اللہ کا غضب، اس کی لعنت اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔