سورة النسآء - آیت 76

الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

وہ لوگ جو ایمان لائے وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ باطل معبود کے راستے میں لڑتے ہیں۔ پس تم شیطان کے دوستوں سے لڑو، بے شک شیطان کی چال ہمیشہ نہایت کمزور رہی ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جہاد فی سبیل اللہ اور لڑائی کا فرق بیان کیا گیا ہے۔ یہاں دو جماعتوں اور لشکروں کی محاذ آرائی اور باہمی جنگ و جدل کی وجوہات‘ محرکات اور ان کے مشن کا فرق نمایاں کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ صاحب ایمان لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے جنگ و جدل کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں کفار طاغوت کے مشن کی بالا دستی کے لیے برسر پیکار ہوتے ہیں۔ تیسرے پارے میں وضاحت گزر چکی ہے کہ طاغوت سے مراد ہر وہ قوت جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف ہو یہ حکمرانوں یا سیاستدانوں کی شکل میں ہوں یا عام انسانوں کے روپ میں‘ کفار ہوں یا اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے منافق گویا اللہ اور اس کے رسول کے مخالف کہ جس شکل و صورت میں ہوں۔ وہ طاغوت کے ساتھی تصور ہوں گے۔ پہلی آیت میں مظلوموں کی مدد کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ کفار کی اصل طاقت کا پول کھول دیا جائے تاکہ مجاہد کسی کمزوری اور گھبراہٹ کے بغیرآگے بڑھیں۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ کفار کا کروفر محض دکھاوا ہے اندر سے یہ کمزور اور کھوکھلے ہیں۔ پھر اس کی کمزوری کی وجہ بیان فرمائی کہ اپنے خالق کے باغی اور سچا مشن نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دلوں میں جرأت اور ان کے قدموں میں استقامت پیدا نہیں ہوتی۔ مسلمان ایمان کی دولت اور اپنے وسائل کے مطابق مکمل تیاری‘ باہمی اتحاد‘ اور کلمۃ اللہ کی سربلندی کے لیے سینہ سپر ہوں تو دنیا کی کوئی قوت مسلمانوں کو سرنگوں نہیں کرسکتی کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ مجاہدو! تم ہی غالب آؤ گے بشرطیکہ ایمان کامل کے اسلحہ سے لیس ہوجاؤ۔ مسلمانوں کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ مسلمان جب بھی ایمان‘ اتحاد اور جہاد کے جذبہ سے سرشار ہو کر میدان کارزار میں اترے فتح و کامرانی نے ان کے قدم چومے اور اللہ کی مدد کالی گھٹا اور موسلا دھار بارش کی طرح مسلمانوں پر سایہ فگن رہی۔ کفار اور اشرار بالآخر ہر میدان میں منہ کی کھا کر واپس ہوئے۔ کیونکہ قوت و جبروت اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ مکرو فریب اور ضعف و کمزوری شیطان کے حصہ میں آئی ہے۔ مسائل ١۔ ایمان دار اللہ کے لیے لڑتے ہیں اور کافر شیطان کے لیے برسر پیکار ہیں۔ ٢۔ شیطان کے ساتھی اور ان کے حربے نہایت کمزور ہوا کرتے ہیں۔