سورة المعارج - آیت 29

وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : بے شک اللہ کے عذاب سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے لیکن جن لوگوں نے قرآن کے بیان کردہ اوصاف اپنائے وہ جہنم کے عذاب سے بے خوف ہوں گے، جہنم کے عذاب سے مامون رہنے والوں کے اوصاف میں یہ صفت بھی ہوتی ہے۔ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہنے والوں میں یہ وصف بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ہاں انہیں اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے کا حق ہے۔ اس سے ان پر کوئی ملامت نہیں جو لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے سوا کسی اور کے ساتھ ازدواجی تعلقات اور اس جیسی حرکات کریں گے وہ حد سے نکل جانے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مرد اور عورت میں ایک دوسرے کے ساتھ ملاپ کرنے کا جذبہ اور قوت رکھی ہے، اس کے لیے میاں بیوی کا رشتہ قائم فرمایا ہے۔ اگر کسی شخص میں جنسی قوت زیادہ ہو یا اس کی معاشرتی ضرورت ہو تو اسے چار بیویوں کے ساتھ لونڈیاں رکھنے کا حق دیا گیا ہے بشرطیکہ وہ شریعت کے مقرر کردہ اصولوں کی پابندی کرے۔ سورۃ النساء کی آیت ٢٥ کی تشریح میں یہ تفصیل موجود ہے کہ اسلام نے لونڈیاں رکھنے کی کن حالات میں اجازت دی ہے اس کا خلاصہ یہاں عرض کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آزاد عورتوں کو چھوڑ کر لونڈیوں سے شادی کرنے کی دو وجوہ بیان کی ہیں انہیں ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ ١۔ آزاد عورت سے شادی کے اخراجات برداشت نہ کرسکتاہو۔ ٢۔ بدکاری میں ملوث ہونے کے خوف سے لونڈی رکھنا جائز ہے۔ ان دو وجوہات کے علاوہ اسے لونڈی سے شادی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ جو لوگ مذکورہ بالا اجازت سے ہٹ کر ازواجی تعلقات یا اس کے متعلقات اختیار کریں گے تو وہ حدود اللہ سے نکل جانے والے ہوں گے جنہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ (عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَنْ یَضْمَنْ لِی مَا بَیْنَ لَحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ أَضْمَنْ لَہُ الْجَنَّۃَ) (رواہ البخاری : باب حفظ اللسان) ” سہل بن سعد (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“ (عن أبی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلٰی ابْنِ آدَمَ حَظَّہٗ مِنَ الزِّنَا أَدْرَکَ ذٰلِکَ لَا مَحَالَۃَ فَزِنَا الْعَیْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنّٰی وَتَشْتَہِی وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذٰلِکَ کُلَّہٗ وَیُکَذِّبُہُ) (رواہ البخاری : کتاب الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد پر اس کا حصہ زنا کا مقرر کردیا ہے وہ اس سے بچ نہیں سکتا وہ اس کو پالے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا فحش باتیں کرنا ہے، انسان کا نفس اس کی خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔“ (تصدیق کرنے سے مراد عملاً بدکاری کرنا اور تکذیب سے مراد اس سے بچے رہنا ہے۔) (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَا ےَزْنِی الزَّانِیْ حِےْنَ ےَزْنِیْ وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا ےَسْرِقُ السَّارِقُ حِےْنَ ےَسْرِقُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَّلَا ےَشْرَبُ الْخَمْرَ حِےْنَ ےَشْرَبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا ےَنْتَھِبُ نَھْبَۃً یَّرْفَعُ النَّاسُ اِلَےْہِ فِےْھَا اَبْصَارَھُمْ حِےْنَ ےَنْتَھِبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا ےَغُلُّ اَحَدُکُمْ حِےْنَ ےَغُلُّ وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاِیَّاکُمْ اِیَّاکُمْ۔) (رواہ البخاری : کتاب الأشربۃ) حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں ہوتا، چور چوری کرتے ہوئے ایمان سے خارج ہوتا ہے، شرابی شراب پیتے وقت ایماندار نہیں ہوتا۔ جب ڈاکو کسی ایسی چیز پر ڈاکہ ڈالتا ہے کہ لوگ اس کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھتے ہیں۔ وہ ایمان سے تہی دامن ہوتا ہے۔ خائن خیانت کرتے ہوئے مومن نہیں رہ سکتا۔ تمہیں اپنے آپ کو ان گناہوں سے دور رکھنا چاہیے۔“ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ قَالَ رَجُلٌ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَیُّ الذَّنْبِ اَکْبَرُ عِنْدَاللّٰہِ قَالَ اَنْ تَدْعُوَلِلّٰہِ نِدًّا وَّھُوَ خَلَقَکَ قَالَ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ اَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْےَۃَ اَنْ یَّطْعَمَ مَعَکَ قَالَ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ اَنْ تُزَانِیَ حَلِےْلَۃَ جَارِکَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی تَصْدِےْقَھَا (وَالَّذِےْنَ لَا ےَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ وَلَا ےَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِاْلحَقِّ وَلَا ےَزْنُوْنَ۔۔ الایۃ) (پ ١٩: ع ٤) (رواہ البخاری : کتاب الدیات) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں ایک شخص رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے پوچھا اسکے بعد کونسا بڑا گناہ ہے؟ فرمایا تو اپنی اولاد کو اس لئے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے پیے گی وہ پھر پوچھتا ہے۔ اسکے بعد کونسا؟ فرمایا ؛ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اسکی تصدیق میں فرمایا ” مومن وہ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو نہیں پکارتے نہ وہ ناجائز کسی کو قتل کرتے ہیں اور نہ ہی وہ بدکاری کرتے ہیں۔“ (عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خُذُوا عَنِّی خُذُوا عَنِّی قَدْ جَعَلَ اللہُ لَہُنَّ سَبِیلًا الْبِکْرُ بالْبِکْرِ جَلْدُ ماءَۃٍ وَنَفْیُ سَنَۃٍ وَالثَّیِّبُ بالثَّیِّبِ جَلْدُ ماءَۃٍ، وَالرَّجْم) (صحیح مسلم : بَابُ حَدِّ الزِّنَی) ” حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ سے سیکھ لو اللہ تعالیٰ نے عورتوں اور مردوں کے لیے اصول بنائے ہے اگر کنوار مرد کنواری عورت سے زنا کرے تو اسے سو کوڑے مارو اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دو اور اگر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے زنا کرے تو اسے سو کوڑے مارو اور رجم کر دو۔“ مسائل ١۔ اللہ کے عذاب سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔ ٢۔ لونڈیوں کے ساتھ ازواجی تعلقات قائم کرنا جائز ہے۔ ٣۔ ہر مسلمان مرد اور عورت کو اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ٤۔ اللہ کی مقرر کردہ حدود سے آ گے بڑھنا ان سے تجاوز کرنا ہے۔ تفسیربالقرآن بدکاری کا گناہ اور اس کی سزا : ١۔ تہمت لگانے والے کی سزا۔ (النور : ٤) ٢۔ کنوارے زانی مرد وزن کو سو کوڑے مارنے کا حکم۔ (النور : ٢)