سورة الحاقة - آیت 4

كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌ بِالْقَارِعَةِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

ثمود اور عاد نے اس کھٹکھٹانے والی (قیامت) کو جھٹلادیا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والی اقوام میں سر فہرست قوم ثمود اور قوم عاد تھیں دونوں قوموں کا دنیا میں بدترین انجام ہوا۔ قرآن مجید نے قیامت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے مختلف مراحل کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے۔ قیامت کے مراحل میں ایک مرحلہ اتنا شدید ہوگا کہ ہر چیز آپس میں ٹکرا جائے گی یہاں تک کہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ یہی بات صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اور حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار بتلائی اور سمجھائی۔ مگر دونوں اقوام نے اپنے اپنے انبیاء (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور قیامت کے برپا ہونے کو جھٹلایا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود اور قوم عاد کو نیست و نابود کردیا۔ قوم عاد کی خصوصیات اور جرائم : ١۔ اللہ تعالیٰ نے عاد کو قوم نوح کے بعد زمین پر اقتدار اور اختیار بخشا۔ (الاعراف : ٦٩) ٢۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر ٦ تا ٨ ) حضرت ھود (علیہ السلام) پر قوم کے الزامات : ١۔ قوم نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو بے وقوف قرار دیا۔ (الاعراف : ٦٦) ٢۔ ھود (علیہ السلام) ہماری طرح ہی طرح کھانے، پینے والا انسان ہے۔ (المؤمنون : ٣٣) ٣۔ انھوں نے کہا اے ھود تو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (المؤمنون : ٣٨) ٤۔ تیرے کہنے پر ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے یہ محض پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (الشعراء : ١٣٧) ٥۔ تم ہمیں سمجھاؤ یا نہ سمجھاؤ ہم نہیں مانیں گے۔ (شعراء : ١٣٦) ٦۔ ہمارے معبودوں کی تجھے مار پڑے گئی ہے۔ (ھود : ٥٤) ٧۔ ہم پر کوئی عذاب آنے والا نہیں تو جھوٹ بولتا ہے۔ (الشعراء : ١٣٨ تا ١٣٩) ٨۔ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر عذاب لے آ۔ (الاحقاف : ٢٢) حضرت ھود (علیہ السلام) کی بددعا اور اللہ تعالیٰ کا عذاب : ١۔ میرے رب میری مدد فرما مجھے انھوں نے کلی طور پر جھٹلا دیا ہے۔ (المؤمنوں : ٣٩) ٢۔ سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقہ : ٧) قوم صالح کے جرائم : ١۔ قوم صالح اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھی۔ (ھود : ٦٢۔ ٦١) ٢۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : ١٤١) ٣۔ وہ لوگ بہت زیادہ اسراف، تکبر اور زمین میں فساد کرنے والے تھے۔ (الشعراء : ١٥٢، ١٥١) ٤۔ قوم ثمود ہدایت کی بجائے گمراہی کو پسند کرتی تھی۔ (حٰم السجدۃ: ١٧) ٥۔ انہوں نے اللہ کی نشانی کو جھٹلایا۔ (ھود : ٦٦) قوم کی ہٹ دھرمی اور عذاب کا مطالبہ : ١۔ انھوں نے قسمیں اٹھائیں کہ حضرت صالح کو اہل وعیال سمیت ختم کردیں گے۔ (النمل : ٤٩) ٢۔ اے صالح ! ہم تمھارے عقیدے کا انکار کرتے رہیں گے۔ (الاعراف : ٧٦) ٣۔ قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ (القمر : ٢٩) ٤۔ اے صالح! تو جس چیز سے ہمیں ڈراتا ہے وہ لے آ۔ (الاعراف : ٧٧) عذاب کا وقت اور اس کی تباہ کاری : ١۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : ٤٥) ٢۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ (الحجر ٨٣۔ ٨٤) ٣۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : ٣١)