سورة القلم - آیت 17

إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

یقیناً ہم نے انھیں آزمایا ہے، جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا، جب انھوں نے قسم کھائی کہ صبح ہوتے ہوتے اس کا پھل ضرور ہی توڑ لیں گے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جدوجہد کے سامنے بے بس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام (رض) کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی آمدنی کو تین حصوں میں تقسیم کیا کرتا تھا۔ ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے اور دوسرا باغ کی نشوونما پر لگاتا اور تیسرا حصہ غریبوں پر تقسیم کیا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے باغ اور مال میں بڑی برکت عطا فرمائی۔ جب وہ فوت ہوگیا تو اس کے بیٹوں نے سوچا اور فیصلہ کیا کہ ہمارا باپ اپنی آمدنی کو خوامخواہ ضائع کرتا تھا انہوں نے قسمیں اٹھائیں کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ جب غریب لوگ سوئے ہوئے ہوں گے، تو ہم صبح سویرے اٹھ کر باغ کا پھل توڑلیں گے۔ پھل توڑنے کا فیصلہ کرنے کے وقت انہوں نے انشاء اللہ پڑھنے کی ضرورت محسوس نہ کی، وہ اپنے گھر میں سوئے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی آندھی جاری کی کہ جس میں آگ کے بگولے تھے آندھی نے پل جھپکنے میں ان کے باغ کو جلاکرخاکستر کردیا، ادھر یہ اپنے فیصلے کے مطابق علیٰ الصبح اٹھے اور ایک دوسرے کو یہ کہہ کر جگا رہے تھے کہ اگر پھل توڑنا اور اسے غریبوں سے بچانا ہے تو اپنی کھیتی کی طرف جلد پہنچ جاؤ، وہ صبح سویرے اٹھ کر چپکے چپکے اپنے باغ کی طرف چل پڑے تاکہ کوئی مسکین وہاں نہ پہنچ پائے، جب اپنے باغ کی جگہ پر پہنچے تو انہوں نے اس جگہ کو چٹیل میدان پایا وہ کہنے لگے اندھیرے کی وجہ سے ہم اپنے باغ کا راستہ بھول گئے ہیں، کچھ نے کہا نہیں ہم بدنصیب ہوچکے ہیں یوں لگتا ہے کہ ہمارا باغ جلا دیا گیا ہے۔ ان کے درمیانے بھائی نے کہا کہ کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم اللہ کی تسبیح کرو یعنی اس کا شکرادا کرو کہ اس نے تمہیں اپنے باپ کی وراثت میں بہترین باغ عطا فرمایا ہے لیکن تم نے اپنے رب کی ناشکری کی اور یہ فیصلہ کیا کہ ہم غریبوں پر خرچ نہیں کریں گے جس کا نتیجہ ہے کہ ہمارا باغ جلاکر راکھ کردیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے زیادہ تفصیل بیان نہیں کی تاہم معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بحث وتکرار کے دو ران صبح کی روشنی نمودار ہوئی ہوگی اور اس روشنی میں ان کے منجھلے بھائی نے باغ کی جگہ پر پڑی ہوئی راکھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہوگا کہ ہمارا باغ یہاں ہی واقع تھا۔ لیکن بگولہ دارآندھی سے اسے جلاکر راکھ بنا دیا گیا ہے۔ اس پر وہ سخت نادم اور پشیمان ہو کر کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے اس نے ہم پر ظلم نہیں کیا، ہم خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں۔ اس کے بعدایک بھائی دوسرے کو کہتا ہے کہ تم نے یہ مشورہ دیا تھا۔ دوسرا پہلے کو کہتا ہے کہ یہ تمہاری تجویز تھی اور تم ہی ایسا کرنے پر اصرار کرتے تھے۔ اس طرح وہ ایک دوسرے کو الزام دیتے اور ملامت کرتے رہے بالآخر سب نے مل کر اعتراف کیا کہ یہ مصیبت ہماری وجہ سے آئی ہے کیونکہ ہم اپنے رب کے نافرمان ہوچکے تھے۔ اس کے بعد اپنے رب کے حضور دعائیں کرنے لگے کہ امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے گا یقیناً ہم اپنے رب کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں۔ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد اہل مکہ اور ان کے حوالے سے ہر دورکے مجرموں کو یہ سمجھایا ہے کہ دیکھو اور غور کرو کہ جس مال پر تم اتراتے اور تکبر کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں کس طرح تباہ کرتا ہے اور آخرت میں اس کا عذاب اس سے بھی بڑا ہوگا۔ کاش! مجرم اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس عذاب کے بارے میں ” عَلَیْھَا طَاءِفَۃٌ“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں کہ اس باغ پر ایک آفت پھر گئی۔ مفسرین نے آفت سے مراد آندھی لی ہے جس میں آگ کے بگولے تھے آندھی میں آگ کے بگولے ہونا عجب بات نہیں کیونکہ دنیا میں آندھی کے ذریعے آگ لگنے کے کئی واقعات مشہور ہیں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں میں نے پاکستان میں ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے قریب وہ علاقہ دیکھا ہے کہ جہاں ٢٠٠١ ء میں ایسی آندھی آئی جس میں آگ کے بڑے بڑے بگولے تھے جس نے نہ صرف کھیتی اور باغوں کو جلایادیا تھا بلکہ مکانوں کی چھتیں بھی جل کر گر پڑی تھیں۔ یہ خوفناک منظر ٹی وی چینلز پر دکھایا گیا اور اخبارات میں اس کی تفصیلات شائع ہوئی۔ آیت ١٧ میں ارشاد ہوا کہ ہم نے مکہ والوں کو اسی طرح ہی آزمایا ہے جس طرح باغ والوں کو آزمایا تھا، باغ والوں نے اپنے رب کا شکر ادا کرنے اور اس کا حکم ماننے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں ذلیل ہوئے اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث فرمائے جن کی ذات اور دعوت کائنات کی سب سے بڑی نعمت تھی اور ہے بالخصوص مکہ والوں کے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی بنایا لیکن انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور دعوت کی قدر نہ کی اور اس آزمائش میں ناکام ہوئے جس کی پاداش میں ذلیل کر دئیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا دنیا میں فائدہ : (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ لَزِمَ الاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللَّہُ لَہُ مِنْ کُلِّ ہَمٍّ فَرَجًا وَمِنْ کُلِّ ضیقٍ مَخْرَجًا وَرَزَقَہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ) (رواہ ابوداؤد : باب الاستغفار) ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے استغفار کو لازم پکڑ ا، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات عطا فرما دیتا ہے اور ہر تنگی سے نکلنے کی جگہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے خیال بھی نہ ہو۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہر دور کے ظالموں کو کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ ٢۔ بعض دفعہ بخل کی دنیا میں بھی سزا ملتی ہے۔ ٣۔ جب اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے تو پھر ظالم اس کا اقرار کرتے ہیں۔ ٤۔ عذاب کے وقت ظالم لوگ ایک دوسرے کو عذاب آ نے کا موجب قرار دیتے ہیں۔ ٥۔ انسان کو مصیبت میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ ٦۔ دنیا کے عذاب سے آخرت کا عذاب بڑا سخت ہوگا۔ تفسیربالقرآن دنیا میں عذاب نازل ہونے کی حکمت : ١۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو مختلف عذابوں سے دو چار کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (الاعراف : ١٣٠) ٢۔ ” اللہ تعالیٰ“ بڑھے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب میں اس لیے مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں۔ (السجدہ : ٢١) ٣۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے قوم! یہ اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے، اسکو چھوڑ دو تاکہ اللہ کی زمین میں چرے اور اس کو کسی طرح تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔ مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو صالح نے کہا تین دن فائدہ اٹھا لو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔ (ھود : ٦٤، ٦٥) ٤۔ پہلے لوگوں کو بڑی بڑی آزمائشوں سے دو چار کیا گیا تاکہ پتہ چل جائے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔ (العنکبوت : ٣) ٥۔ آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنائیں۔ (یونس : ٩٢) ٦۔ ہم نے قرآن میں طرح طرح کے دلائل دیے ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرائیل : ٤١)