سورة الصف - آیت 9

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے، اگرچہ مشرک لوگ ناپسند کریں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والا دین ” الاسلام“ نور اور روشنی ہے۔ کفار اور مشرکین، یہودی اور عیسائی اس نور کو مٹانا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ یہ نور مکمل ہو کر رہے گا۔ اس نور اور روشنی کو پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا تاکہ دین حق کا نور دنیا میں ہر سو پھیل جائے۔ بے شک یہ بات کفار اور مشرکین کے لیے کتنی ہی ناقابل برداشت ہو۔ مفسرین کے دلائل کے مطابق یہ آیات غزوہ احد کے بعد نازل ہوئیں۔ جب حضرت حمزہ (رض) اور ستر صحابہ کرام شہید ہوچکے تھے۔ منافقین نے بغلیں بجائیں اور کافر امید لگا بیٹھے کہ اب اسلام کا چراغ بجھنے والا ہے۔ بس ایک اور حملے کی ضرورت ہے اسلام اور مسلمانوں کا قصہ ہمیشہ ہمیش کے لیے پاک ہوجائے گا۔ ان ناہموار حالات میں یکدم اعلان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی راہنمائی اور دین حق کے ساتھ اس لیے مبعوث فرمایا ہے کہ اس کا رسول تمام ادیان پر اللہ کے دین کو غالب کردے۔ بے شک مشرکوں کے لیے یہ بات کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسروں کی بندگی جاری رہے کفار کا خیال ہے کہ نظام اسلام کی بجائے کفر کا نظام قائم رہے۔ ہدایت سے مراد وہ راہنمائی، بصیرت اور توفیق ہے جس کے ساتھ نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام ادیان باطل پر دین اسلام کو غالب کردکھایا۔ مشرک توحید کا نوربجھانا اور قرآن کی روشنی کو مٹانا چاہتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اسے مکمل فرماکر اسے دلائل کی بنیاد پر قیامت تک غالب رکھے۔ کفار، مشرکین اور اہل کتاب پہلے دن سے ہی اس کو شش میں ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو غالب کرکے رہے گا اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ دین اسلام تمام باطل ادیان پر غالب آجائے خواہ مشرکوں اور کفارکے لیے یہ بات کتنی ہی ناپسند کیوں نہ ہو، نور سے مراد قرآن مجید کی تعلیم جس کی مرکزی دعوت التوحید ہے دونوں کو اللہ تعالیٰ نے نور قرار دیا ہے۔ (البقرہ : ٢٥٧) میں ارشاد ہوا ہے کہ ” اللہ“ ایمانداروں کا خیر خواہ ہے وہ انھیں ہر قسم کے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور کفار کے دوست شیطان ہیں وہ ان کو نور سے اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ کافر چاہتے ہیں کہ اللہ کی توحید کے چراغ اور قرآن مجید کی تعلیمات کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں پھونکوں کا لفظ لا کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جس طرح سورج کی روشنی اور چاند کی ضیاء پاشیوں کو پھونکوں سے نہیں بجھایا جا سکتا اور جس طرح سورج اور چاند کی طرف منہ کرکے تھوکنے اور پھونکنے والا پاگل پن کا مظاہرہ کرتا ہے، اسی طرح دین کے خلاف کوششیں کرنے والے بھی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ تمام باطل ادیان پر دین اسلام کو غالب کردے ہدایت سے مراد وہ رہنمائی اور طریقہ ہے جس کی روشنی میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دین کا ابلاغ اور نفاذ فرمایا۔ یاد رہے کہ دین اور قانون کتنا ہی مفصل کیوں نہ ہو اس کے سمجھنے اور نفاذ کے لیے رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے یہاں بالہدیٰ کا لفظ استعمال فرما کر واضح کیا ہے کہ جس رب نے یہ دین نازل فرمایا ہے اسی نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رہنمائی کا بندوبست کیا تاکہ ” اللہ“ کی منشا کے مطابق دین کی تشریح اور اس کا نفاذ کرے۔ جو حدیث شریف اور سیرت طیبہ کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ ” لِیُظْہِرَہٗ“ کا معنی ہے زبردست کشمکش جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دین آسانی کے ساتھ نافذ نہیں ہوگا جب تک کفار، مشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ زبردست کشمکش اور معرکہ آرائی نہ ہوجائے چنانچہ یہی کچھ ہوا کہ دین کے ابلاغ اور نفاذ کے لیے کئی معرکے برپا ہوئے اور نہ معلوم قیامت تک کتنے معرکے پیش آئیں گے۔ دین کے غلبہ سے پہلی مراد اس کادلائل اور براہین کے ساتھ باطل نظریات اور ادیان پر غالب رہنا ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک یہ دین اپنی سچائی اور دلائل کی بنیاد پر باطل ادیان پر غالب رہا اور رہے گا۔ جہاں تک اس کے سیاسی غلبے اور نفاذکا تعلق ہے اس کا دارومدار مسلمانوں کے اخلاص اور کردار پر ہے۔ جب مسلمان جان ومال کی قربانی دے کر دین کو غالب کرنا چاہیں گے تو یقیناً دین سیاسی طور پر بھی غالب آئے گا جس طرح نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور اور آپ کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک اس کا غلبہ رہا ہے اور قرب قیامت ایک دفعہ پھر اس کے غلبے کا دور آئے گا۔ (عَنْ أبی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَیُوشِکَنَّ أَنْ یَنْزِلَ فیکُمْ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا فَیَکْسِرَ الصَّلِیبَ وَیَقْتُلَ الْخِنْزِیرَ وَیَضَعَ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیضَ الْمَالُ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہٗ أَحَدٌ حَتّٰی تَکُون السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرًا مِنْ الدُّنْیَا وَمَا فیہَا) (رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب تم میں عیسیٰ ابن مریم عادل حکمران کی حیثیت میں آئیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے اور جزیہ ختم کریں گے۔ مال ودولت کی اس قدر بہتات ہوگی کوئی اس کو لینے والا نہ ہوگا یہاں تک کہ ایک سجدہ کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔“ (عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ لَیَبْلُغَنَّ ہَذَا الأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ وَلاَ یَتْرُکُ اللَّہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَلاَ وَبَرٍ إِلاَّ أَدْخَلَہُ اللَّہُ ہَذَا الدِّینَ بِعِزِّ عَزِیزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِیلٍ عِزًّا یُعِزُّ اللَّہُ بِہِ الإِسْلاَمَ وَذُلاًّ یُذِلُّ اللَّہُ بِہِ الْکُفْرَوَکَانَ تَمِیمٌ الدَّارِیُّ یَقُولُ قَدْ عَرَفْتُ ذَلِکَ فِی أَہْلِ بَیْتِی لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْہُمُ الْخَیْرُ وَالشَّرَفُ وَالْعِزُّ وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ کَافِراً الذُّلُّ وَالصَّغَارُ وَالْجِزْیَۃُ) (رواہ احمد : مسند تمیم دارمی) ” حضرت تمیم داری (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا دین اسلام وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات کا اندھیرا اور دن کا اجالاپہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کچے پکے مکان کو نہیں چھوڑے گا مگر دین کو وہاں داخل فرمائے گا۔ عزت والے کو عزت دے گا اور ذلیل کو مزید ذلیل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ معزز کو دین اسلام کے ساتھ عزت دے گا اور ذلیل کو کفر کی وجہ سے مزید ذلت ملے گی۔ تمیم داری (رض) کہا کرتے تھے کہ میں اپنے خاندان میں ان لوگوں کو پہچانتا ہوں جو دین کی وجہ سے معزز ہوئے اور بھلائی حاصل کی۔ جو کافر تھے ان پر ذلت، حقارت مسلط کردی گئی اور وہ جزیہ دینے پر مجبور ہوئے۔“ مسائل ١۔ ” اللہ“ نے ہی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دین حق اور اپنی راہنمائی کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ ٢۔ دین اسلام کے سوا باقی تمام نظریات اور ادیان باطل ہیں۔ ٣۔ اللہ کے رسول اس لیے مبعوث کیے گئے تاکہ آپ دین اسلام کو تمام باطل نظریات اور ادیان پر غالب کردیں۔ ٤۔ دین کے ابلاغ اور نفاذ میں مشرکین کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرنا چاہیے۔ ٥۔ مشرکین اور کفار دین حق کی بالا دستی کو کبھی پسند نہیں کرتے۔ تفسیر بالقرآن دینِ حق سے انکار کے لیے کفار اور مشرکین کے بہانے : ١۔ مشرکین نے کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے۔ (النحل : ٣٥) ٢۔ مشرکین کہیں گے اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔ (الانعام : ١٤٨) ٣۔ کفار نے کہا ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لیے کوئی چشمہ جاری نہ کر دے۔ (بنی اسرائیل : ٩٠) ٤۔ مشرکین نے آپ پر اعتراض کیا کہ آپ پر خزانہ کیوں نہیں نازل ہوتا۔ (ھود : ١٢) ٥۔ کفار نے کہا ہمارے لیے اپنے آباؤ اجداد کا طریقہ ہی کافی ہے۔ (المائدۃ: ١٠٤) ٦۔ بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ جب تک ہم اللہ کو اپنے سامنے نہیں دیکھ لیتے ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ (البقرۃ: ٥٥) ٦۔ کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح وشام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ (الفرقان : ٥)