سورة المجادلة - آیت 9

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرو اور نیکی اور تقویٰ کی سرگوشی کرو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : بری سرگوشی سے منع کرنے کے بعد نیکی اور اچھے کاموں پر مشاورت اور سرگوشی کرنے کا حکم۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ہرقسم کی سرگوشی کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ اس نے گناہ، ظلم اور رسول کی مخالفت کرنے پر سرگوشی سے منع کرنے کے ساتھ اور نیکی اور تقویٰ کے کام پر مشاورت اور سرگوشی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو! اللہ سے ڈرتے رہو ! بالآخر تم نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ جو بری سرگوشی کرتے ہیں حقیقت میں وہ شیطان کی سرگوشی ہوتی ہے۔ شیطان اپنے کارندوں سے یہ کام اس لیے کرواتا ہے تاکہ اس سے ایمان دار لوگ پریشان ہوں، لیکن ایمان داروں کو برے لوگوں کی سازشوں اور شرارتوں سے غم زدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی کسی کوتکلیف نہیں دے سکتا کیونکہ دکھ اور سکھ اللہ کے حکم کے تابع ہیں لہٰذا ایمانداروں کو اللہ کی ذات پر اعتماد اور بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی سے منع کرنے کے بعدا یمان داروں کو ہر حال میں نیکی اور تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور مومنوں کوتسلی دی ہے کہ نفع اور نقصان، دُکھ اور سکھ ” اللہ“ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں اگر مومن کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اللہ کے اذن سے پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے لہٰذا نیک بندوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ رکھنا چاہیے، یہاں نیکی اور تقویٰ کا بیک وقت حکم دیا گیا ہے اس لیے کہ نیکی اور تقویٰ کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ تقویٰ کے بغیر انسان نہ کوئی نیکی کرسکتا اور نہ نیکی کی حفاظت کرسکتا ہے تقویٰ ہی انسان کو نیکی پر آمادہ کرتا ہے اور اسے نیکی پر اترانے سے بچاتا ہے۔ نجویٰ کا معنٰی ہے بھید، ہم راز اور سرگوشی وغیرہ۔ اصطلاح میں دو آدمیوں کے رازداری سے بات کرنے کو نجویٰ کہتے ہیں۔ توکل کا معنٰی ہے کسی پر اعتماد اور بھروسہ کرنا۔ توکل علی اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر حال میں اپنے خالق و مالک پر کامل اعتماد و یقین رکھے جو اپنے رب پر اعتماد اور یقین کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے اور اس کی مشکلات آسان کردیتا ہے۔ مسائل ١۔ برائی کی کانا پھوسی سے منع کیا گیا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو گناہ، زیادتی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی سے منع کیا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو نیکی اور تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ ٤۔ ایمان والوں کو ہمیشہ اللہ سے ڈرنا اور یقین رکھنا چاہیے کہ سب نے اس کے حضور جمع ہونا ہے۔ ٥۔ شیطان اپنے کارندوں کی شرارتوں سے مومنوں کو پریشان کرتا ہے۔ ٦۔ مومنوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کوئی بھی تکلیف اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں آتی۔ تفسیر بالقرآن مومنوں کوہر حال میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ رکھنا چاہیے : ١۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کام کا عز م کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کریں۔ (آل عمران : ١٥٩) ٢۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسا کرنا چاہیے۔ (یوسف : ٦٧) ٣۔ مومن اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ (المائدۃ: ١١) ٤۔ مومنوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ (التوبہ : ٥١) ٥۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے اعراض کریں اور اللہ پربھروسہ کریں کیوں کہ اللہ ہی نگہبان ہے۔ (النساء : ٨١) ٦۔ سب کاموں کا انجام اللہ کی جانب ہے آپ اسی کی عبادت کریں اور اسی پربھروسہ کریں۔ (ھود : ١٢٣) ٧۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ (المائدۃ: ٢٣) ٨۔ صابر لوگ اللہ پربھروسہ کرنے والے ہیں۔ (العنکبوت : ٥٩) ٩۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ پر توکل کرنے کی ہدایت۔ (النمل : ٧٩) (التوبہ : ١٢٩) ١٠۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم۔ (المجادلہ : ١٠) ١١۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : ٣)