سورة المجادلة - آیت 2

الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَائِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ ۖ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

وہ لوگ جو تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں ان کے سوا کوئی نہیں جنھوں نے انھیں جنم دیا اور بلاشبہ وہ یقیناً ایک بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں اور بلاشبہ اللہ یقیناً بے حد معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت خولہ بنت ثعلبہ (رض) کی فریاد قبول کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے ظہار کے مسئلے کا حل نازل فرمادیا۔ ارشاد ہوتا ہے کہ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ دیتے ہیں ان کے کہنے سے ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں بن جاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ اپنی بیوی کو ماں کہنا بڑی بیہودہ اور جھوٹی بات ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ ١۔ کسی کے ماں کہنے پر اس کی بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے ہی لوگوں کے درمیان رشتہ داری قائم فرمائی ہے ان میں کچھ رشتے ہمیشہ کے لیے محرم قرار دیئے ہیں۔ کسی کو محرم یا غیرمحرم قرار دینا یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے جس کی تفصیل قرآن مجید میں بیان کردی گئی ہے۔ اب کسی شخص کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ محرم کو غیر محرم یا غیر محرم کو محرم، حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرسکے۔ جو شخص محرم کو غیر محرم قرار دیتا ہے تو یہ اس کی یا وہ گوئی ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا، تاہم معافی مانگنے والوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔ ٢۔ بیوی کو ماں کہنا جھوٹ ہے کیونکہ ماں ماں ہی ہوتی ہے اور بیوی بیوی ہوتی ہے۔ ماں اور بیوی کے رشتہ اور تعلقات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ماں کبھی بیوی نہیں ہوسکتی اور بیوی کبھی ماں نہیں بن سکتی۔ اس لیے فرمایا کہ بیوی کو ماں کہنا جھوٹ ہے اور مومن کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ اپنی زبان سے اس قسم کی بات کرے کہ جس کے کہنے کی شریعت نے اسے اجازت نہیں دی۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور معاف فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی درگزر پر غور فرمائیں کہ ایک شخص اپنی زبان سے وہ بات کہتا ہے جس کے کہنے کی اسے اجازت نہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کی زبان گونگی کردے مگر وہ بڑے حوصلے والا ہے وہ ہر بات پر گر فت کرنے کی بجائے درگزر سے کام لیتا ہے اگر کوئی اس سے معافی طلب کرے تو وہ معاف کردیتا ہے کیونکہ وہ رحیم ہے، یہ بھی اس کی بخشش کا نتیجہ ہے کہ اس نے لوگوں کی یا وہ گوئی کو صرف نظر کرتے ہوئے ظہار کے مسئلے میں نرمی فرمائی اور اس کا آسان حل نازل فرمایا ہے۔ ظہار کس صورت میں ہوگا : صحابہ کرام (رض) کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ظہار اس خاوند کا معتبر ہوگا جس نے ہوش و حواس کی حالت میں اپنی بیوی سے ظہار کیا ہو بصورت دیگر اس کا اظہار تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ جس نے ظہار کیا اس کی سزا اگلی آیات میں بیان کی گئی ہے۔ (وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ) (المومنون : ٣) ” اور مومن فضولیات سے دور رہتے ہیں۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہِ) (رواہ الترمذی : کتاب الزہد، قال البانی صحیح) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اسلام کی اچھائی یہ ہے کہ وہ فضول باتوں کو چھوڑ دے۔“ مسائل ١۔ کسی آدمی کے کہنے پر اس کی بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی۔ ٢۔ آدمی کی ماں وہی ہوتی ہے جس نے اسے جنم دیا ہوتا ہے۔ ٣۔ بیوی کو ماں کہنا جھوٹ اور بے ہودہ بات ہے۔ ٤۔ مسلمان بے ہودہ گوئی سے بچتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ درگزر کرنے اور معاف فرمانے والا ہے : ١۔ ” اللہ“ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ: ٢٨٤) ٢۔ ” اللہ“ توبہ کرنے والوں کو اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے بے شک ” اللہ“ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ (التوبہ : ٩٩) ٣۔ ” اللہ“ توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ (التوبہ : ٢٧) ٤۔ جو سچے دل سے تائب ہوجائے اور ایمان کے ساتھ اعمال صالح کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا کیونکہ ” اللہ“ معاف کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ (الفرقان : ٧٠) ٥۔ گناہ گار کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ معاف کرنے والا ہے۔ (الزمر : ٥٣)