سورة الحديد - آیت 2

لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر چیز پر غالب ہے بلکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی ملک ہے اور وہ ذرّے ذرّے پر دائمی اور کلّی اختیار اور اقتدار رکھنے والا ہے۔ زمین و آسمان کی ہر چیز زبان حال اور قال کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ ہر چیز کا حقیقی اور دائمی مالک صرف ” اللہ“ ہے۔ ” اللہ“ ہی ہر چیز کی بقاء اور فنا پر اختیار رکھنے والا ہے۔ جب تک چاہتا ہے ہر چیز کو زندگی عطا کرتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے فنا کے گھاٹ اتار دیتا ہے کیونکہ وہ موت و حیات پر اختیار رکھتا ہے۔ وہ اس وقت موجود تھا جب کچھ نہیں تھا اور اس وقت بھی موجود ہوگا جب کچھ نہیں ہوگا، وہ اپنی قدرتوں اور نعمتوں کے حوالے سے ہر جگہ ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی۔ وہ ظاہر اور باطن کو جانتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز کے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں کلّی علم رکھتا ہے۔ ” اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ اٹھائے ہوئے ہے اور رحم جو کچھ کم کرتے ہیں اور جو زیادہ کرتے ہیں اور اس کے ہاں ہر چیز کا اندازہ مقرر ہے۔ وہ غیب اور ظاہر کو جاننے والا، بہت بڑا اور نہایت بلندو بالا ہے۔ برابر ہے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے یا اسے اونچی آواز سے کرے اور جو رات کو چھپا ہوا ہے اور جو دن کو ظاہر پھرنے والاہے۔“ (الرعد : ٨ تا ١٠) (وَاَسِرُّوْا قَوْلَکُمْ اَوِاجْہَرُوْا بِہٖ اِِنَّہٗ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ) (الملک : ١٣) ” تم چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے کرو۔ اللہ کے لیے برابر ہے وہ دلوں کا حال جانتا ہے۔“