سورة الحديد - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اللہ کے نام سے جو بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ الحدید کا تعارف : یہ سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اس کے چار رکوع اور انتیس (29) آیات ہیں۔ یہ سورت مسبّحات میں پہلی سورت ہے جن سورتوں کی ابتداء سَبَّحَ یُسَبِّحُ کے الفاظ سے ہوتی ہے مفسرین ان سورتوں کو مسبّحات کا نام دیتے ہیں۔ اس کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا ہے کہ زمینوں و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر کام اور فرمان میں حکمت کارفرما ہوتی ہے اور وہ غلبہ رکھنے والا ہے اس کی زمین و آسمان میں بادشاہی ہے اور وہی موت و حیات کا مالک ہے جب کوئی چیز موجود نہیں تھی وہ اس وقت بھی موجود تھا جب کوئی نہیں ہوگا تو اس وقت وہ بھی موجود ہوگا وہ اپنی قدرتوں سے ظاہر ہے اور ذات کے حوالے سے پوشیدہ ہے اس نے زمینوں و آسمانوں کو سات دنوں میں پیدا کیا اور پھر اپنے عرش پر استوار ہوا وہ سب کچھ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو نکلتا ہے، جو آسمان کی طرف چڑھتا ہے اور جو اس سے اترتا ہے۔ وہ اپنے اقتدار و اختیار اور علم کے لحاظ سے ہر وقت انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی زمین و آسمان میں بادشاہی ہے اور ہر کسی نے اسی کے حضور حاضر ہونا ہے۔ جب ہر چیز اسی کی ملکیت ہے تو اس کے دئیے ہوئے مال سے اس کی راہ میں خرچ کر، جو خرچ کرو گے اس کا بڑا اجر پاؤ گے۔ جو لوگ ” اللہ“ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ بالاخر ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اس کی راہ میں خرچ کرے گا وہ اسے قرض دے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے دوگنا تگنا کر کے واپس لوٹائے گا۔ ایسے مومنوں کو قیامت کے دن ایسا نور عطاء کیا جائے گا جو ان کے سامنے اور دائیں جانب پھیل رہا ہوگا ملائکہ ان کا استقبال کریں گے اور انہیں جنت کی مبارک دیں گے، جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں جانے والوں کے لیے یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ حقیقی ایمان نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد اور خرچ نہیں کرتے ان کے لیے اندھیرے ہوں گے اور وہ جنتیوں سے بار بار درخواست کریں گے کہ ٹھہر جاؤ ہم بھی تمھارے نور کی روشنی میں جنت میں داخل ہوجائیں جنتی انہیں کہیں گے کہ تم پیچھے پلٹ کر جاؤ اور وہاں سے اپنا نور تلاش کرو وہ پلٹ کر دیکھیں گے تو ان کے اور جنتی کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی۔ جس کے آگے جنت ہوگی اور اس کے پیچھے جہنم ہوگی اس طرح انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے لوہا اور میزان نازل کیا ہے ہر حال میں میزان کا خیال رکھو اور یاد رکھو کے لوہے میں بڑی طاقت ہے اور اس میں لوگوں کے لیے بہت سے فوائد رکھ دئیے گئے ہیں۔ لوہے کے ذریعے طاقت حاصل کرو اور اس طاقت کو اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے استعمال کرو۔