سورة الرحمن - آیت 1

لرَّحْمَٰنُ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اس بے حد رحم والے نے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن: (آیت 1 سے 2) ربط سورت : جنتیوں کا جنت میں اعلیٰ مقام پانا رب رحمن کے رحم کا نتیجہ ہوگا کیونکہ اس کی مہربانی کے بغیر کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ سورۃ القمر کے بعد سورۃ الرّحمان کو اس لیے یہاں رکھا گیا کیونکہ اس کی ابتدا ہی الرّحمن کے عظیم اور شفیق نام سے ہوتی ہے۔ الرحمن کی مہربانی کے بغیر انسان کوئی اچھا کام سرانجام نہیں دے سکتا اور نہ ہی جنت میں داخل ہوسکتا ہے۔ ذات کبریا کے ذاتی نام ” اللہ“ کے بعد صفاتی اسمائے گرامی میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے نام الرحمن اور الرحیم ہیں۔ قرآن مجید میں یہی نام سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ نبی (ﷺ) کے ارشاد کے مطابق ” اللہ“ کی رحمت اس قدر وسیع وعریض ہے جیسے بحر بیکراں۔ کائنات کے تمام جن وانس کی حاجات کو پورا کردیا جائے تو بھی ” اللہ“ کی رحمت کے سمندر میں سوئی ڈبو کر باہر نکالنے کے برابربھی کمی واقع نہیں ہوتی۔ (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم) اہل مکہ کی غالب اکثریت الرّحمن کے لفظ سے ناواقف تھی۔ نبی (ﷺ) نے جب اللہ تعالیٰ کو الرّحمن اور الرّحیم کے نام سے پکارنا شروع کیا اور لوگوں کو اس مشفق نام سے متعارف کروایا تو اہل مکہ نے کہا۔ ہمیں کہا جاتا ہے صرف ایک ” اللہ“ کو پکارو اور خود دو ” الٰہ“ بنا رکھے ہیں لہٰذا ہم کسی رحمن کو نہیں جانتے کہ وہ کون ہوتا ہے۔ کفار کی یا وہ گوئی کا پہلا جواب یہ دیا گیا۔ ” وہی ہے جس نے چھ دنوں میں زمین و آسمانوں اور تمام چیزوں کو پیدا کیا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں پھر خود عرش پر جلوہ افروز ہوا۔ الرحمن کی شان جاننے والے سے پوچھو۔ جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ الرّحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں الرّحمان کون ہوتا ہے ؟ کہتے ہیں کہ کیا جسے تو کہہ اسی کو ہم سجدہ کریں؟ الرّحمان کی طرف بلایاجائے تو ان کی نفرت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔“ (الفرقان : 59، 60) اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ مبارکہ میں اپنی بڑی بڑی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے اور باربار انسان کو اس بات کا احساس دلایا ہے کہ اے انسان! تو میری کس کس نعمت کی تکذیب اور ناشکری کرے گا۔” اللہ“ کے الرحمن ہونے کا تقاضا ہے کہ اس نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تاکہ لوگوں کی بروقت اور صحیح راہنمائی ہوسکے۔ لوگوں کی ہدایت کا آخری انتظام قرآن مجید کی صورت میں کیا گیا ہے، قرآن مجید ایسی جامع اور عظیم کتاب ہے جو افراد اور اقوام کی کامل اور اکمل راہنمائی کرتی ہے۔ قرآن مجید کے ذریعے ہی انسان اپنے رب کو پہنچاتا ہے اور زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ سیکھ سکتا ہے۔ ” عَلَّمَہٗ القرآنَ“ کے الفاظ استعمال فرما کر بالواسطہ طور پر کفار کے اس الزام کی نفی کی گئی ہے کہ محمد (ﷺ) کسی اور سے سیکھ کر یا اپنی طرف سے قرآن نہیں بنالیتے یہ تو رب رحمن کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ ” اللہ“ کی رحمت ہر چیز پر غالب ہے : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُول اللَّہِ () قَالَ لَمَّا قَضَی اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ عِنْدَہُ فَوْقَ عَرْشِہِ، إِنَّ رَحْمَتِی سَبَقَتْ غَضَبِی) (رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ تَعَالَی ﴿وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ﴾) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت اللہ کے عرش پر لکھا ہوا تھا بے شک میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے جا چکی ہے۔“ قرآن کا لغوی معنٰی ہے بار بار پڑھی جانے والی کتاب کیونکہ قرآن مجید کو بار بار تلاوت کیا جاتا ہے اس لیے اس کو قرآن کہتے ہیں۔ ” حضرت عمربن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اس کتاب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بہت سی قوموں کو جو اس پر عمل کریں گی بام عروج پر پہنچائے گا اور بہت سی قوموں کو جو اس کو چھوڑ دیں گی انہیں ذلیل کر دے گا۔“ (رواہ مسلم : کتاب الصلوٰۃ، باب فضل من یقوم بالقراٰن ) مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر نہایت ہی مہربان ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (ﷺ) کو قرآن کی تعلیم سے سرفراز فرمایا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے ذریعے لوگوں کی راہنمائی فرمائی۔ تفسیر بالقرآن: قرآن مجید کی عظمت و فضیلت کی ایک جھلک : 1۔ قرآن ایسی کتاب ہے جس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔ ( البقرۃ:2) 2۔ قرآن مجید کو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور وہی اس کا محافظ ہے۔ (الحجر :9) 3۔ جن و انس مل کر بھی اس قرآن کی مثل نہیں لا سکتے۔ (بنی اسرائیل :88) 4۔ قرآن مجید میں کوئی کجی نہیں ہے۔ (الکہف :1) (بنی اسرائیل :82) 5۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے باعث نصیحت اور مومنوں کے لیے باعث ہدایت اور رحمت ہے۔ (یونس :57)