سورة القمر - آیت 1

اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

قیامت بہت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط سورت : سورۃ النجم کا اختتام اس مضمون پر ہوا کہ قیامت قریب آن پہنچی ہے اور اس کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ سورۃ القمر کی بتدا میں قرب قیامت کی ایک بڑی نشانی کا ذکر کیا گیا ہے۔ دین کا تیسرا بڑا عنوان قیامت ہے جس کی نشانیوں اور ہولناکیوں کا قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اہل مکہ کی غالب اکثریت قیامت پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اس لیے وہ بات کو الجھانے کے لیے قیامت کے بارے میں کئی قسم کے سوالات کرتے تھے۔ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں ہر طرح سمجھانے اور یقین دلانے کی کوشش فرمائی کہ قیامت ہر صورت آکر رہے گی۔ مگر مکہ والے اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ نبوت کے پانچویں سال کا واقعہ ہے کہ ایک رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منیٰ میں تشریف فرماتھے اور اہل مکہ کے کچھ سردار بھی موجود تھے۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ چاند کی چودھویں رات تھی۔ مکہ والوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ اگر آپ چاند کو دوٹکڑے کرکے دکھا دیں تو ہم آپ اور قیامت پر ایمان لے آئیں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر تمہارا مطالبہ پورا ہوجائے تو پھر ایمان لے آؤ گے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! اس پر آپ نے اللہ کے حکم سے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور چاند کو اپنی انگلی کا اشارہ کیا۔ بس آپ کا اشارہ کرنا تھا کہ چاند دوٹکڑے ہوا اور ایک لمحہ کے بعد اپنی پہلی حالت میں ضوفشاں ہونے لگا۔ اس قدر عظیم معجزہ دیکھنے کے باوجود کفار نے شور مچایا کہ یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ اس کا جادو آسمان پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اس طرح انہوں نے اپنے باطل نظریات کو ترجیح دی اور شق قمر کے معجزے کو جھٹلا دیا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بِمِنًی فَقَالَ اشْہَدُوا وَذَہَبَتْ فِرْقَۃٌ نَحْوَ الْجَبَلِ.) ( رواہ البخاری : باب انشقاق القم) ” حضرت عبداللہ بن مسعود (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان کیا جس وقت چاند دو ٹکڑے ہوا تو ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منٰی کے میدان میں موجود تھے۔ چاند کا ایک ٹکڑا دوسرے سے الگ ہو کر پہاڑ کی طرف چلا گیا۔ آپ نے فرمایا لوگو! گواہ رہنا۔“ شق قمر پر اٹھنے والے اعتراضات اور ان کا جواب : شق قمر پر اعتراض کرنے والے لوگ کہتے ہیں کہ اگر واقعی ہی چاند دوٹکڑے ہوا تو اس وقت لوگوں کو اس عظیم واقعہ کا علم کیوں نہیں ہوا؟ ایسے دانشوروں سے سوال ہے کہ انہیں کس نے بتایا ہے کہ اس زمانے کے لوگوں کو اس کا علم نہیں ہوا تھا۔ اگر یہ واقعہ رونما نہ ہوا ہوتا تو قرآن مجید کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ چاند شق ہوگیا لیکن اس کے باوجود کفار کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے۔ 1۔ کیا شق قمر پر اعتراض کرنے والوں کے پاس عرب کے چودہ سو سال کی تاریخ کا ریکارڈ موجود ہے جس بنا پر یہ لوگ شق قمر کا انکار کرتے ہیں۔ 2۔ کیا شق قمر کا عمل گھنٹوں پر محیط تھا جو لوگوں کے لیے حیرت کا باعث بنتا اور اس زمانے کے تمام لوگ اس کی طرف متوجہ ہوجاتے۔ بات تو اتنی ہے کہ ایک لمحہ کے لیے چاند دوٹکڑے ہوا اور پھر اپنی اصلی حالت میں ضوفشاں ہونے لگا۔ دنیا میں ہر سال اور ہر ملک میں کتنی بارایسا ہوتا ہے کہ آسمانی بجلی ایک لمحہ کے لیے زمین پر اترتی ہے اور دوسرے لمحے اوپر چلی جاتی ہے۔ اس وقت ہزاروں لوگ بارش کا نظارہ کررہے ہوتے ہیں۔ مگر انہیں بجلی کی آمد ورفت کی خبر نہیں ہوتی۔ 3۔ سائنسدان ہر دور میں یہ مشاہدہ کرتے آرہے ہیں کہ بے شمار سیارے ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں اور پھر اپنے مدار میں واپس پہنچ جاتے ہیں۔ شق قمر کی تاریخی شہادت : پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر نے تفصیل کے ساتھ ایک آرٹیکل لکھا ہے کہ ہندوستان کی ریاست مالا بار کے راجہ نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس نے ایک وفد مکہ روانہ کیا۔ وفد کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوئی اور وفد کے لوگ مسلمان ہوگئے لیکن وفد واپس ہندوستان پلٹا تو راستے میں ایک آدمی کے سوا باقی سفر کی صعوبتوں کی وجہ سے فوت ہوگئے اس نے واپس آکر راجہ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حالات بتلائے تو راجہ مسلمان ہوگیا اور اس نے مالا بار شہر میں ایک مسجد بنوائی۔ ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ میں نے اس مسجد کی زیارت کی جس کا بیت اللہ کی بجائے مسجد اقصیٰ کی طرف تھا۔ یاد رہے کہ راجہ کے وفد کی ملاقات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مدینہ میں ہوئی تھی۔ اس وقت نماز میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا چہرہ بیت اللہ کی بجائے بیت المقدس کی طرف کرتے تھے۔ چاند اور سورج کا انجام : اللہ تعالیٰ نے اس شق قمر کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے جس میں کھلے الفاظ میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جس قیامت کا تم انکار کرتے ہو اس کا ایک وقت مقرر ہے جو کسی کے انکار یا اقرار کی وجہ سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا جب اللہ تعالیٰ کا حکم صادر ہوگا تو اس کی ذات کے علاوہ ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ قیامت کی نشانیاں : قیامت کی تین قسم کی نشانیاں ہیں جن میں کچھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے، کچھ آپ کے دور میں ظاہر ہوچکی ہیں اور کچھ قیامت سے پہلے نمودار ہوں گی اور باقی نشانیاں اس وقت ظاہر ہوں گی جب قیامت کی آمد آمد ہوگی جن کا اختصار درج ذیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ قیامت ہر صورت آنی ہے مگر میں نے اس کا وقت چھپا رکھا ہے۔ (الاعراف : ١٨٧) (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَثَوْبُہُمَا بَیْنَہُمَا لَا یَطْوِیَانِہٖ وَلَا یَتَبَایَعَانِہٖ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ حَلَبَ لِقْحَتَہٗ لَا یَطْعَمُہٗ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ لُقْمَتَہٗ إِلٰی فِیْہٖ وَلَا یَطْعَمُہَا وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَالرَّجُلُ یَلِیْطُ حَوْضَہٗ لَا یَسْقِیْ مِنْہٗ) (رواہ احمد : مسند ابی ہریرۃ (رض) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کپڑا بیچنے اور خریدنے والا ابھی کپڑا سمیٹ نہیں سکیں گے کہ قیامت آجائے گی۔ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ دوھ رہا ہوگا اور وہ اس کو پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ کھانا کھانے والا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور اپنے منہ میں نہیں ڈال سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ ایک آدمی اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہوگا وہ اس سے پانی پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔“ ” حضرت ابوہریرۃ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ ایام میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے اس دن آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا اسی دن ان کو جنت میں داخلہ ملا اور جمعہ کو ہی ان کا جنت سے اخراج ہوا، اور اسی دن ہی قیامت برپا ہوگی۔“ (رواہ مسلم : باب فَضْلِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ) مسائل ١۔ شق قمر قرب قیامت کی بہت بڑی نشانی ہے جو ظاہر ہوچکی ہے۔ ٢۔ شق قمر کا معجزہ دیکھنے کے باوجود اہل مکہ نے اسے جادو قرار دیا۔ ٣۔ اہل مکہ اپنی خواہشات کے پیش نظر حقائق کو جھٹلایا کرتے تھے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت اور ہر کام کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔