سورة النجم - آیت 56

هَٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

یہ پہلے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اقوام کی تباہی اور قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کا مقصد لوگوں میں قیامت کی جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے لیکن قیامت کے منکر اور اس سے لاپرواہی کرنے والے اسے مذاق سمجھتے ہیں۔ جس وجہ سے اس سورت کے آخر میں انہیں پھر حکم دیا کہ قیامت سے غفلت اختیار کرنے کی بجائے اللہ کے سامنے سربسجود ہوجاؤ اور اس کی بندگی اختیار کرو یہی تمہاری نجات کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے پہلی اقوام کے واقعات بیان فرما کر لوگوں کو دنیا کے انجام اور قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا ہے۔ قیامت کے بارے میں فرمایا کہ قیامت قریب ہی آن پہنچی ہے اور قیامت کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ کیا تم قیامت کی آمد اور اللہ کے فرمان پر تعجب کرتے ہو؟ اور اپنے کیے پر رونے کی بجائے ہنستے ہو اور دنیا کی وجہ سے تم قیامت کے بارے میں غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔ چاہیے تو یہ کہ تم اللہ کے حضور جھک جاؤ اور اس کی بندگی اختیار کرو۔ اس سورت کی ابتدائی آیات میں ستارے کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ نے معراج کے موقع پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ قربت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ مشرک محض اپنے گمان کی بنیاد پر لات، عزّیٰ اور منات کی عبادت کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کو ہر قسم کے شرک سے منع کیا گیا ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا اور آخرت کے معاملات صرف ” اللہ“ کے ہاتھ میں ہیں۔ اسی مضمون کو سورۃ کے اختتام پر یوں بیان کیا جارہا ہے کہ قیامت قریب آن پہنچی ہے اور اس کی ہولناکیوں کو ” اللہ“ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے اعمال پر رونے کی بجائے قیامت کا ذکر سن کر ہنستے ہیں۔ حالانکہ انہیں اپنے کردار پر رونا چاہیے۔ قیامت کی ہولناکیوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ لوگ ادھر ادھر جھکنے کی بجائے صرف اور صرف اپنے رب کے سامنے جھکیں اور اس کی عبادت کریں۔ یادرہے کہ انسان کی تخلیق اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی عبادت کرے۔ عبادت سے مراد وہ تمام عبادات ہیں جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ عبادت سجدہ کی صورت میں ہو یا دوسری صورت میں وہ صرف اور صرف ایک ” اللہ“ کے لیے ہونی چاہیے۔ قرآن مجید کی تاثیرکا ایک عجب واقعہ : امام بخاری (رض) نے اپنی کتاب بخاری شریف کی کتاب التفسیر میں لکھا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن بیت اللہ میں کھڑے ہو کر سورۃ نجم کی تلاوت کی۔ اس وقت بیت اللہ میں مکہ کے بڑے بڑے سردار بھی موجود تھے۔ کفار بیت اللہ کے بابرکت ماحول میں بڑے انہماک سے سورۃ نجم کی تلاوت سن رہے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب سورۃ نجم کے آخری الفاظ تلاوت کیے اور اللہ کے حضور سجدہ کیا تو یہ منظر اس قدر مسحور کُن اور پرجلال تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ کفار بھی سجدہ ریز ہوگئے۔ صرف ایک بوڑھا جس کا نام امیہ بن خلف تھا اس نے زمین پر سجدہ کرنے کی بجائے سے کنکریاں اٹھا کر اپنی پیشانی کے ساتھ لگائیں اور کہا کہ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ مسائل ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرح اپنی امت کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے کے لیے مبعوث کیے گئے۔ ٢۔ قیامت قریب آپہنچی ہے اور اس کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ ٣۔ بےدین لوگ قیامت پر یقین کرنے کی بجائے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔ ٤۔ برے لوگوں کو قیامت کا مذاق اڑانے کی بجائے اپنے اعمال پر رونا چاہیے۔ ٥۔ لوگوں کو غفلت چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم : ١۔ آپ کو حکم ہے کہ آپ فرما دیں کہ میں تو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔ (یونس : ١٠٤) ٢۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ (الرعد : ٣٦) ٣۔ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو۔ (ہود : ٢) ٤۔ اے لوگو اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ (البقرۃ: ٢١) ٥۔ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ (یوسف : ٤٠) ٦۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شریک نہ بناؤ (النساء : ٣٦) ٧۔ نوح، ہود، صالح اور شعیب نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا۔ (ہود : ٥٠۔ ٦١۔ ٨٤)