سورة آل عمران - آیت 185

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

ہر جان موت کو چکھنے والی ہے اور تمھیں تمھارے اجر قیامت کے دن ہی پورے دیے جائیں گے، پھر جو شخص آگ سے دور کردیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو یقیناً وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : موت اور فکر آخرت کے ذریعے نصیحت کی گئی ہے کہ دنیا کے جس جاہ وجلال اور مال پر اترا کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں خرافات بکتے ہو یہ تو ختم ہونے والی ہے۔ منکرین توحید و رسالت کا کردار بتلانے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے موت کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے مخالفوں نے دنیا میں ہمیشہ نہیں بیٹھے رہنا بالآخر ہر کسی نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور پھر قیامت کے دن تمہارے اعمال کے مطابق تمہیں مکمل جزا اور ان کے کردار کی انہیں پوری پوری سزا دی جائے گی۔ جسے جہنم کی ہولناکیوں سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا یقیناً وہ کامیاب ہوا۔ یہ دنیا کی زندگانی محض نظر کا فریب اور دماغ کا غرور ہے۔ اسی وجہ سے یہ آپ کی ذات اور اللہ تعالیٰ کی آیات جھٹلا رہے ہیں حالانکہ یہ کرّ وفرّ اور سازو سامان عارضی ہے۔ اس کے مقابلے میں آخرت کی جزا وسزا مستقل اور دائمی ہے۔ جب دنیا عارضی اور موت یقینی ہے تو عقل ودانش کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ رہنے والی زندگی کی فکر کرنی چاہیے۔ مسائل ١۔ ہر کسی کو موت آکر رہے گی۔ ٢۔ یہ دنیا مکرو فریب کا سامان ہے۔ ٣۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ ٤۔ جہنم کی آگ سے بچ کر جنت میں داخل ہونے والا ہی کامیاب ہے۔ تفسیربالقرآن نیکی کا پورا پورا اجر ملے گا : ١۔ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرے گا۔ (آل عمران : ١٧١) ٢۔ اللہ تعالیٰ محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (ھود : ١١٥) ٣۔ سب کو پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ (النساء : ١٧٣)