سورة الطور - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اللہ کے نام سے جو بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

سورۃ الطورکا تعارف یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اس کے دو رکوع اور انچاس (٤٩) آیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء میں چھ قسمیں اٹھا کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ جس دن کا تم انکار کرتے ہو اس دن کا عذاب مجرموں پر ضرور واقع ہوگا جسے کوئی بھی ٹال نہیں سکے گا۔ اس دن کی ابتداء یوں ہوگی کہ آسمان پوری طرح ڈگمگا جائے گا اور پہاڑ ریت بن کر اڑنا شروع کردیں گے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں اس دن انہیں دھکے مار مار کر جہنم میں پھینکا جائے گا اور پھر انہیں کہا جائے گا کہ اب بتلاؤ یہ عذاب حقیقت ہے یا جادو؟ حکم ہوگا کہ اب صبر کرو یا واویلا کرو تمہیں اسی کی سزا دی جائے گی جو تم کیا کرتے تھے۔ ان کے مقابلے میں متّقی لوگوں کو نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے گا وہ تکیوں پر تشریف فرما ہوں گے اور انہیں کھانے کے لیے وہ کچھ ملے گا جس کی وہ چاہت کریں گے۔ بے انتہا خوبصورت حوریں ان کے نکاح میں دی جائیں گی یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوگا۔ جن جنتیوں کی اولادیں درجات میں کم درجہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرما کر انہیں انکے والدین کے ساتھ اعلی مقام عنایت فرمائے گا۔ جنت میں کسی قسم کی لغویات اور گناہ نہیں ہوں گے۔ اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ نصیحت فرمائی گئی کہ آپ لوگوں کو نصیحت کرتے جائیں اور یہ یقین رکھیں کہ آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور مجنوں نہیں ہیں۔ ١۔ کیا کافر آپ کو شاعر کہتے ہیں اور آپ کے بارے میں برے حالات کا انتظار کرتے ہیں۔ انہیں فرمائیں تم میرے بارے میں انتظار کرو میں بھی تمہارے انجام کا انتظار کرتاہوں۔ ٢۔ کیا ان کی عقلیں انہیں یہی کچھ سکھاتی ہیں۔ ٣۔ یا یہ لوگ سرکشی میں حد سے بڑھ چکے ہیں۔ ٤۔ کیا کافر کہتے ہیں کہ آپ نے قرآن خود بنالیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اگر وہ اپنے الزام میں سچے ہیں تو انہیں قرآن کے چیلنج کا جواب قبول کرنا چاہیے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کو یہ لوگ معبود برحق ماننے کے لیے تیار نہیں کیا انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ؟ یا اپنے آپ پیدا ہوگئے ہیں؟ ٦۔ کیا انہوں نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ یقین کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ٧۔ کیا یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کے خزانوں کے مالک ہیں ؟ ٨۔ کیا وہ آپ کے رب کے خزانوں پر چوکیدار ہیں؟ ٩۔ کیا ان کے پاس سیڑھی ہے کہ یہ آسمان کی باتیں سن لیتے ہیں اگر سن لیتے ہیں تو انہیں اپنے حق میں کوئی واضح دلیل پیش کرنی چاہیے۔ ١٠۔ کافر کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں کیا ” اللہ“ کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں؟ ١١۔ کیا آپ ان سے اجر مانگتے ہیں جس کے بوجھ تلے یہ دبے جارہے ہیں۔ ١٢۔ کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں۔ ١٣۔ کیا یہ کوئی اور سازش کرنا چاہتے ہیں ؟ یاد رکھیں کہ یہ اپنی سازش میں خود ہی پھنس جائیں گے۔ ١٤۔ کیا اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی اور معبودِبرحق ہے ؟ انہیں بتلا دیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے بنائے ہوئے شریکوں سے مبرّاہے۔