سورة الذاريات - آیت 49

وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ہر چیز سے ہم نے دو قسمیں بنائیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : مخلوق کے بارے میں ایک اور ارشاد۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنائے ہیں تاکہ تم غور کرو اور اس سے نصیحت حاصل کرو۔ جوڑے کے لیے زوجین کا لفظ استعمال کیا ہے جو زوج کا تثنیہ ہے۔ لغت کے اعتبار سے جوڑے کا معنٰی صرف نر اور مادہ ہی نہیں ہوتا بلکہ اس میں باہم متضاد چیزیں بھی شامل ہیں۔ انسان، حیوانات، درند، پرند آپس میں زوجین ہیں۔ جہاں تک متضاد جنس کے اعتبار سے زوجین کا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو جوڑے جوڑے کی صورت میں پیدا فرمایا ہے۔ آسمان کے مقابلے میں زمین، رات کے مقابلے میں دن، روشنی کے مقابل اندھیرا، دھوپ کے مدمقابل چھاؤں، گرمی کے مقابل میں سردی، پانی کے مقابلے میں آگ اور فرشتوں کے بالمقابل شیاطین، فرشتے کبھی غلطی نہیں کرتے شیطان کبھی نیکی نہیں کرتے اور مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو پیدا کیا ہے یہاں تک درختوں میں بھی نر اور مادہ پائے جاتے ہیں اس طرح اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں زوجین یعنی جوڑے موجود ہیں۔ گویا کہ پوری مخلوق جوڑوں کی شکل میں ہے اور ان کے خالق کا کوئی جوڑا نہیں ہے وہ اپنی ذات اور صفات میں اکیلا ہے اس کا کوئی زوج نہیں ہے۔ شائد تم اس سے سبق حاصل کرو اور اس کی ذات اور صفات میں شرک کرنے سے باز آجاؤ۔ انسان کے لیے سب سے بڑی اور پہلی نصیحت یہ ہے کہ وہ ” اللہ“ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے اور ہر حال میں اس کی تابعداری کرے۔ (قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ ٥ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ) (سورۃ الاخلاص) ” کہو وہ اللہ اکیلا ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔“ ” وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اس کی اولاد کیسے ہوگی جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں ؟ اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والاہے۔“ (الانعام : ١٠١) ” آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے اس نے تمہیں سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے اور اسی طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے اور وہی تمہیں پھیلاتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔“ (الشوریٰ ١١)