سورة الذاريات - آیت 31

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہا تو اے بھیجے ہوئے (قاصدو!) تمھارا معاملہ کیا ہے؟

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کی خوشخبری سن کر ملائکہ سے استفسار فرمایا کہ اس کے علاوہ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے ؟ بیٹے کی خوشخبری سن کر ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے استفسار فرماتے ہیں کہ تمہاری تشریف آوری کا اور کیا مقصد ہے؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اور انہیں معلوم تھا کہ وحی لانے کے لیے اکثر اوقات ایک ہی فرشتہ آیا کرتا ہے لیکن آج بیک وقت تین ملائکہ تشریف لائے ہیں۔ اس کی کوئی خا ص وجہ معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے پوچھا کہ مجھے خوشخبری دینے کے علاوہ اور کیا پروگرام ہے ؟ ملائکہ نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان پر آپ کے رب کی طرف سے پکی مٹی کے پتھر برسائیں جو نشان زدہ ہیں۔ پتھر ان لوگوں پر برسائیں جائیں گے جو اللہ کی حدود کو پھلانگ چکے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہاں تو لوط (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھی بھی موجود ہیں۔ ملائکہ نے جواب دیا کہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی کے سوا انہیں اور ان کے ساتھیوں کو عذاب سے پہلے نکل جانے کا حکم ہوگا۔ یاد رہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ نامعلوم انہوں نے اپنی قوم کو کتنی مدت سمجھایا لیکن بدبخت اور بدکردار قوم سمجھنے کے لیے تیار نہ ہوئی، لوط (علیہ السلام) پر ان کے گھروالوں کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا۔ اس لیے قرآن مجید نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ایک گھر کے سوا اس شہر میں مسلمانوں کا کوئی اور گھر موجود نہیں تھا۔ رب ذوالجلال نے اس علاقے کو تباہ کرکے آنے والے لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا جو اللہ کے اذیت ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ ” شہر کے لوگ خوشی کے مارے دوڑتے ہوئے، لوط (علیہ السلام) کے گھر پر چڑھ آئے لوط نے کہا یہ میرے مہمان ہیں اللہ سے ڈرو اور مجھے ذلیل نہ کرو۔ قوم اس قدر بے شرم بے حیا تھی کہ انہیں اس بات کا کوئی اثرنہ ہوا۔ وہ کہنے لگے کہ کیا ہم نے تمہیں منع نہیں کیا کہ دنیا کے ذمہ دار نہ بنا کرو۔ لوط (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم باز نہیں آتے تو میری بیٹیاں موجود ہیں۔ تیری جان کی قسم اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت ان پر سرکشی کا نشہ چڑھا ہوا تھا جس میں وہ اندھے ہوچکے تھے۔“ (الحجر : ٦٧ تا ٧٢) حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کی آمد پر پریشان ہوگئے : (وَ لَمَّا جَآءَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِہِمْ وَ ضَاقَ بِہِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ ہٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ) (ھود : ٧٧) ” جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس پہنچے وہ فرشتوں کی آمد سے بہت گھبرا گئے اور دل میں تنگی محسوس کی۔ کہنے لگے کہ آج کا دن مصیبت کا دن ہے۔“ (قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ) ( ہود : ٨٠) ” لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی تو میں تمہارا مقابلہ کر تایا کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے۔“ حافظ ابن کثیر نے ١٢ آیت ٨١ کے حوالے سے تحریر فرمایا کہ جب فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو وہ اپنے کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا آج رات ہم آپ کے پاس مہمان ہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے وضع داری کی بنا پر انکار نہ کیا تاہم گھر جاتے ہوئے انہوں نے راستے میں اپنی مجبوری اور قوم کی بدکرداری کا اس انداز سے ذکر کیا کہ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ فرمانے لگے ہائے افسوس میری قوم تمام مخلوق سے بد تر ہوچکی ہے۔ گھر پہنچے تو آپ کی بیوی نے آنکھیں بچاکر چھت پر کھڑے ہو کر کپڑا ہلایا جس سے اوباش لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور لوط (علیہ السلام) کے گھر کا گھیراؤ کرلیا اور مہمانوں کی برآمدگی کا مطالبہ کرنے لگے بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ بدمعاش دروازہ توڑنے لگے۔ اس صورتحال میں لوط (علیہ السلام) پریشان ہو کر کہنے لگے۔ کاش آج میرے پاس قوت ہوتی یا کوئی سہارا ہوتا، جس کی پناہ حاصل کرتا۔ قرآن مجید کے سیاق وسباق سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ جب جناب لوط (علیہ السلام) کے پاس فرشتے آئے تو انہیں کچھ خبر نہیں تھی، کہ یہ فرشتے ہیں یا کہ عام مہمان ہیں جو لڑکوں کی شکل وصورت میں آئے ہیں ورنہ وہ کسی صورت میں یہ نہ کہتے کہ میرے مہمانوں میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ میری بیٹیاں حاضرہیں، گو اس جملے کے دو مفہوم بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ نبی بحیثیت باپ کے ہوتا ہے۔ اس منصب کے حوالے سے جناب لوط (علیہ السلام) نے قوم کی بیٹیوں کا ذکر کیا کہ جو تمہارے گھروں میں پہلے سے موجود ہیں وہ بھی تو میری بیٹیاں ہیں آخر تم جائز انداز میں اپنے جذبات کی تسکین کیوں نہیں کرتے ؟ اگر یہ مطلب لیا جائے کہ انہوں نے اپنی حقیقی بچیوں کے بارے میں یہ الفاظ کہے تھے تو اس کا معنی صرف اتنا ہی لینا چاہئے کہ انہوں نے انہیں انتہائی شرم دلانے کے لیے ایسے الفاظ استعمال فرمائے۔ جیسا کہ آج بھی معزز آدمی دو فریقوں میں صلح کرواتے وقت کہہ دیتا ہے کہ چھوڑو بھائی اگر اس نے تجھے مارا یا گالی دی تو تم مجھے مار لو یا گالی دے لو۔ لیکن معاملہ رفع دفع ہونا چاہیے بہرحال یہ بات محاورۃً کہی یا حقیقتاً فرمائی مقصد انہیں شرم دلانا تھا ورنہ معمولی غیرت رکھنے والا شخص اپنی بٹیوں کے بارے میں یہ بات نہیں کہتا جناب لوط (علیہ السلام) تو اللہ کے نبی تھے نبی تو سب سے زیادہ غیرت والا ہوتا ہے۔ لیکن بے شرم لوگ کہنے لگے کہ ہمیں عورتوں کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں۔ ہم جو کرنا چاہتے ہیں۔ تجھے اچھی طرح معلوم ہے۔ اندازہ لگائیں جناب لوط (علیہ السلام) کو کس قدر بے شرم اور بے حیا قوم کے ساتھ واسطہ پڑا تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا : (یَغْفِرُ اللّٰہُ لِلُوطٍ إِنْ کَانَ لَیَأْوِی إِلَی رُکْنٍ شَدِیدٍ) (رواہ البخاری : باب ولوطا اذ قال لقومہ) ” اللہ“ لوط (علیہ السلام) پر معاف فرمائے کہ وہ رکن شدید کی پناہ کے طالب ہوئے۔“ انہوں نے بے سہارا ہونے کی بات کہی حالانکہ ان کے پاس رب ذوالجلال کا زبردست سہارا تھا۔ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی : ” تب فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو کہا آپ گھبرائیں نہیں ہم تو آپ کے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ آپ کی طرف نہیں بڑھ سکتے۔ بس آپ رات کے آخری حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکل جائیں اور آپ میں سے کوئی فرد پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔ ہاں اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جائیں کیونکہ آپ کی بیوی کے ساتھ وہی کچھ ہونے والا ہے، جو آپ کی قوم کے ساتھ ہوگا بس ان کی تباہی کے لئے صبح کا وقت مقرر ہوچکا ہے۔ کیا صبح قریب نہیں ہے؟“ (ہود : ٨١) (فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْہَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَ مَا ہِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ) (ھود : ٨٢، ٨٣) ” پھر جب ہم نے حکم نافذ کیا تو ہم نے اس بستی کو اوپر نیچے کردیا اور اس پر تابڑ توڑ پکی مٹی کے پتھر برسائے۔ تیرے رب کی طرف سے ہر پتھر پر نشان لگا ہوا تھا۔ ظالموں سے یہ سزا دور نہیں ہے۔“ مزید تفصیل کے لیے سورۃ ہود کی آیت ٨٢، ٨٣ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔