سورة ق - آیت 31

وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جنت پر ہیز گاروں کے لیے قریب کردی جائے گی، جو کچھ دور نہ ہوگی۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کے ذکر اور جہنمیوں کے انجام کے بعد جنت اور اس کے مہمانوں کا ذکر۔ قرآن مجید اپنے بہترین اسلوب کے مطابق یہاں بھی جہنم کے بعد جنت کا تذکرہ کرتا ہے۔ ایک طرف جہنمی جہنم میں جھونکے جارہے ہوں گے اور دوسری طرف رب کریم جنت کو جنتیوں کے قریب تر کردے گا۔ جنتی جنت کو دیکھتے اور اس کی خوشبو پاتے ہی خوش ہوجائیں گے۔ جونہی ان کے چہروں پر مسکراہٹیں نمایاں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوگا یہی وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ جسے ” اللہ“ کی طرف رجوع کرنے والے اور گناہوں سے بچنے والے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جنت ایسے شخص کے لیے ہے جو بِن دیکھے رب رحمٰن سے ڈرتا ہے اور خلوص دل کے ساتھ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ اسے ارشاد ہوگا کہ سلامتی کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ جنتی جنت میں جو چاہیں گے وہی پائیں گے اور ہماری طرف سے مزید بھی بہت کچھ دیا جائے گا۔ اس فرمان میں جنت میں جانے والے کے چار اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ ١۔ اَوَّابٌ: عُسریُسر، غم اور خوشی، صحت اور تندرستی میں اپنے رب کی طرف عملاً رجوع کرنے والا ہوتا ہے۔ ٢۔ حَفِیْظٌ: ہرحال میں اپنے رب کی حدود و قیود کی حفاظت کرتا ہے۔ ٣۔ بِن دیکھے اپنے رب سے ڈرنے والا ہوتا ہے : ایمان کی بنیاد غائب پر قائم ہے جس میں اللہ، ملائکہ اور آخرت پر ایمان لانا لازم ہے۔ ایمانیات کی بنیاد ” اللہ“ کی ذات اور اس کا حکم ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ شخص جنت میں جائے گا جو بِن دیکھے الرحمن سے ڈرتا ہے۔ یہاں رب تعالیٰ نے اپنا ذاتی نام ” اللہ“ لینے کی بجائے صفاتی نام الرحمن لیا ہے۔ جس میں بالخصوص دوباتیں واضح کی گئی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے اور اس کی مہربانی سے ہی نیک لوگ جنت میں جائیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنے رب کو الرحمن سمجھتا ہے۔ مگر اس کے با وجود اس سے ڈرتارہتا ہے۔ الرحمن کی مہربانی کا عقیدہ اسے بے عملی کی طرف نہیں لے جاتا۔ (عَنْ جَابِرٍ (رض) قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ لاَ یُدْخِلُ أَحَدًا مِنْکُمْ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ وَلاَ یُجِیرُہُ مِنَ النَّارِ وَلاَ أَنَا إِلاَّ بِرَحْمَۃٍ مِنَ اللَّہِ) ( رواہ مسلم : باب لَنْ یَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّۃَ بِعَمَلِہِ بَلْ بِرَحْمَۃِ اللَّہِ تَعَالَی) ” حضرت جابر (رض) کہتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سناکہ آپ فرما رہے تھے کہ میرے اور کسی آدمی کے عمل اس کو جنت میں نہیں لے جا سکتے اور نہ ہی جہنم سے بچا سکتے مگر اللہ کی رحمت کے ساتھ۔“ ٤۔ قَلْبِ سَلِیْم : ایسا دل جو ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ جنتی کی پہلی صفت اَوَّاب بیان کی گئی ہے جس کا معنٰی عملاً اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا۔ ” قَلْبٍ مُّنِیْب“ کا معنٰی ہے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہونے والا۔ جو شخص اوّاب بھی ہو اور ” قَلْبٍ مُّنِیْب“ بھی رکھتاہو وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل کیا جائے گا۔ ایک مفسر کے بقول وہ شخص جنت میں داخل ہوگا جو آنکھوں سے جمال غیر اور دل کو خیال غیر سے پاک رکھے گا۔ 1۔ اُدْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ: جنتی کو اس کی موت کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی حاصل ہوجاتی ہے اور موت کے وقت ہی ملائکہ اسے سلام کہتے ہیں۔ 2۔ جنتی جنت سے نکالے جانے کے خوف سے سلامت رہے گا۔ اس لیے قرآن مجید نے بار بار ” یَوْمُ الْخُلُوٖد“ اور خالِدِیْنَ فِیْھَا اَبَداً کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔3۔ جنت کی نعمتیں نہ ختم ہوں گی اور نہ ہی کم کی جائیں گی۔4۔ اللہ تعالیٰ جنتیوں پر ناراض ہونے کی بجائے ہمیشہ ہمیش خوش ہوگا۔ جنتی جو چاہیں گے سو پائیں گے : ( عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہَلْ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ خَیْلٍ قَالَ إِنِ اللَّہُ أَدْخَلَکَ الْجَنَّۃَ فَلاَ تَشَاءُ أَنْ تُحْمَلَ فیہَا عَلَی فَرَسٍ مِنْ یَاقُوتَۃٍ حَمْرَاءَ یَطِیرُ بِکَ فِی الْجَنَّۃِ حَیْثُ شِءْتَ إِلاَّ فَعَلْتَ قَالَ وَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہَلْ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ إِبِلٍ قَالَ فَلَمْ یَقُلْ لَہُ مِثْلَ مَا قَالَ لِصَاحِبِہِ قَالَ إِنْ یُدْخِلْکَ اللَّہُ الْجَنَّۃَ یَکُنْ لَکَ فیہَا مَا اشْتَہَتْ نَفْسُکَ وَلَذَّتْ عَیْنُکَ) (رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ خَیْلِ الْجَنَّۃِ) ” حضرت سلیمان بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے آپ نے فرمایا اللہ تجھے جنت میں داخل کرے۔ اگر تیری یہ چاہت ہوئی کہ تو سرخ یاقوت سے مزین گھوڑے پر سوارہو۔ تو تجھے جنت میں گھوڑے لیے پھریں گے تیری یہ خواہش بھی پوری ہوجائے گی۔ دوسرے آدمی نے پوچھا کیا جنت میں اونٹ ہوں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بھی پہلے شخص جیسا جواب دیا اس کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے جنت میں داخل کردیاتو تجھے جنت میں وہ کچھ ملے گا جو تیرا جی چاہے گا اور جو تیری آنکھ کو بھائے گا۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ جنت کا وعدہ کیا ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا۔ ٢۔ جنتی جو چاہیں گے سو پائیں گے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ جنتیوں کو اپنی طرف سے بہت کچھ عطا فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں کا احترام اور جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : ١۔ فرشتے جب جنتیوں کے پاس جائیں گے تو انہیں سلام کہیں گے۔ (الزمر : ٨٩) ٢۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : ٣٤) ٣۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : ١٧) ٤۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : ٢٣) ٥۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : ١٥) ٦۔ جنتیوں کو سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : ٣٣) ٧۔ جنت میں تمام پھل دو، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمن : ٥٢) ٨۔ جنتیوں کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : ٢١) ٩۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمٰن : ٧٦) ١٠۔ جنت میں بے خار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے پھل ہوں گے۔ (الواقعہ : ٢٨ تا ٣٠) ١١۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ: ٣١)