سورة آل عمران - آیت 175

إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

یہ تو شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، تو تم ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : احد میں مقابلہ یا اس کے بعد کفار کی دھمکیاں دراصل شیطانی ہتھکنڈے ہیں جن سے ڈرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ اس واقعہ کے بعد مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے سمجھا دیا گیا کہ کبھی اور کسی حال میں بھی شیطان اور اس کے چیلوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مکرو فریب بظاہر بڑے مضبوط اور خوفناک نظر آتے ہیں لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور کامل ایمان کے ساتھ قائم رہو گے توکفار کی سازشیں اور شرارتیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ شیطان اور غیروں کے خوف کی بجائے اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے سینوں میں جاگزیں کرو۔ جس کا خاصہ یہ ہے کہ آدمی بڑی سے بڑی طاقت اور سازش سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایک وقت میں دل میں ایک ہی کا خوف سما سکتا ہے۔ کامیابی کے لیے یہی بنیادی اصول ہے کہ مسلمان غیر سے ڈرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے اور اپنی زندگی ایمان کے سانچے میں ڈھال لینے والے کبھی ناکام اور نامراد نہیں ہوا کرتے۔ مسائل ١۔ شیطان اپنے دوستوں سے مسلمانوں کو ڈراتا ہے۔ ٢۔ ان سے ڈرنے کے بجائے اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ تفسیربالقرآن اللہ کا خوف : ١۔ مومنوں کو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ (البقرۃ: ١٥٠) ٢۔ اللہ کے بندے صرف اللہ سے ہی ڈرتے ہیں۔ (المائدۃ: ٢٨) ٣۔ نبی صرف اللہ سے ڈرتا ہے۔ (یونس : ١٥، الزمر : ٣) ٤۔ اللہ سے ڈرنے والے ہی کامیاب ہوا کرتے ہیں۔ (النور : ٥٢) ٥۔ مومنوں کی استقامت دیکھ کر شیطان خود ڈر جاتا ہے۔ (الانفال : ٤٨) ٦۔ کفار اور منافق اللہ تعالیٰ کے بجائے لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ (النساء : ٧٧)