سورة ق - آیت 9

وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبَارَكًا فَأَنبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ہم نے آسمان سے ایک بہت بابرکت پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ باغات اور کاٹی جانے والی (کھیتی) کے دانے اگائے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گل و گلزار زمین پرہوں یا پہاڑوں پر اس کی پیدائش اور افزائش کا دارومدار پانی پر ہے اور پانی کا دارومدار بارش پر ہے اس لیے بارش اور نباتات کا بیک وقت ذکر کیا گیا ہے۔ ” کیا وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا وہ غور نہیں کرتے کہ زمین و آسمان باہم ملے ہوئے تھے ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہرزندہ چیز پانی سے پیدا کی ؟ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔“ (الانبیاء : ٣٠) پانی کا دارومدار بارش پر ہے۔ اللہ نہ کرے اگر دس سال بارش نہ ہو تو زمین اور پہاڑوں کی شادابیاں ختم ہوجائیں۔ یہاں تک کہ انسان کو پینے کے لیے بھی پانی میسر نہیں آئے گا۔ کیونکہ بارش کے سوا پانی کا صرف ایک ہی ذریعہ باقی رہے جاتا ہے وہ پہاڑوں پر برف پڑنا ہے جو گرمیوں میں پگھل پگھل کرپانی کی صورت میں دریاؤں کارخ کرتی ہے۔ اگر طویل مدت تک بارش نہ ہو تو پہاڑوں کے چشمے اور زمین میں کنویں خشک ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے آبپاشی کا قدرتی طور پر مرکزی نظام بارش ہے۔ اللہ تعالیٰ بارش کے ذریعے ہی مردہ زمین سے نباتات اگاتا ہے، جس سے لوگ اناج حاصل کرتے ہیں جو انسان، حیوانات، درندوں پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کی خوراک ہے۔ نباتات میں صرف کھجور کا ایک درخت ہے جو صحراء اور خشک زمین میں پانی کی قلت کے باوجود اپنی ہریالی قائم رکھتا ہے۔ کھجور کادرخت جب پھل دینے پر آتا ہے تو اس کے گابھے تہہ بہ تہہ اتنے خوبصورت لگتے ہیں کہ دل خوامخواہ ان کی طرف لپکتا ہے۔ کھجور ایک ایسا پھل ہے جس میں سب سے زیادہ غذائیت پائی جاتی ہے۔ (کھجور کے بارے میں تفصیل جاننے کے لیے فہم القرآن جلد ٢ سورۃ الانعام کی آیت ٩٩ کا مطالعہ کیجیے!) بارش اور نباتات کا حوالہ دے کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جس طرح ایک مدّت کے بعد زمین سے نباتات نکلتی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو زمین سے نکال لے گا۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔۔ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَیُنْبَتُوْ نَ کَمَآ یَنْبُتُ الْبَقْلُ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ) (متفق علیہ، رواہ مسلم : باب مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز بوسیدہ ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بابرکت پانی نازل کرتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ پانی کے ذریعے باغات، کھیتیاں اور کھجوریں پیدا کرتا ہے۔ ٣۔ اللہ ہی اپنے بندوں کے رزق کا بندوبست کرتا ہے۔ ٤۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بارش سے مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے اسی طرح قیامت کے دن مردوں کو زمین سے زندہ کرے گا۔ تفسیر بالقرآن زمین سے مردے کس طرح نکلیں گے : ١۔ پہلے نفخہ سے لوگ بے ہوش ہوجائیں گے اور دوسرے نفخہ سے تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ (الزّمر : ٦٨) ٢۔ دوسرے نفخہ کے ساتھ ہی تمام لوگ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔ (یٰس : ٥١) ٣۔ ایک چیخ سے ہی تمام لوگ ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔ (یٰس : ٥٣) ٤۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تم گروہ در گروہ چلے آؤ گے۔ (النبا : ١٨) ٥۔ جب دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو جمع کرلیں گے۔ (الکھف : ٩٩) ٦۔ جس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم نیلی پیلی آنکھوں والے مجرموں کو گھیر لائیں گے۔ (طہٰ: ١٠٢) ٧۔ جس دن صورپھونکا جائے گا تو آسمان اور زمین والے سب کے سب گھبرا اٹھیں گے مگر جسے اللہ چاہے اور سارے کے سارے عاجز و پست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ (النمل : ٨٧)