سورة آل عمران - آیت 169

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور تو ان لوگوں کو جو اللہ کے راستے میں قتل کردیے گئے، ہرگز مردہ گمان نہ کر، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن : (آیت 169 سے 171) ربط کلام : شہداء کا مرتبہ اور منافقوں کی ہرزہ سرائی کا جواب۔ منافقوں نے احد کے شہداء کے بارے میں بھی ہرزہ سرائی کی کہ یہ بے وجہ اور فضول موت مرے ہیں۔ اس لیے شہداء کے بارے میں فرمایا ہے کہ انہیں مردہ نہ کہو۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے خون کا آخری قطرہ بہا کر آنے والی نسلوں کے لیے یہ ثابت کردیا کہ اللہ کے دین کا پرچم سربلند رکھنے کے لیے ہر چیز قربان کردینا چاہیے کیونکہ شہید اللہ تعالیٰ کا دین اور کام سربلند رکھتا ہے اس لیے اس کا صلہ یہ ہے کہ اس کا نام بھی رہتی دنیا تک سربلند رکھا جائے۔ اس بنا پر حکم دیا کہ انہیں مردہ سمجھنا اور کہنا جائز نہیں۔ یہ گراں مایہ لوگ اللہ کے ہاں زندہ اور انہیں ہر قسم کی نعمتوں سے نوازا جا رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عنایات پر اتنے خوش ہیں کہ اپنے سے پیچھے رہ جانے والوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ شہادت کے میدان میں آگے بڑھو اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں کٹ مرو۔ کیونکہ اس کے بعدنہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی حزن و ملال۔ شہداء اپنے سے پیچھے رہنے والے مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے فضل و کرم کا پیغام دیتے ہوئے یقین دہانی کرواتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اجر میں ذرّہ برابر کمی نہیں کرے گا کیونکہ وہ کسی کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ رسول محترم (ﷺ) نے شہداء کا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے خاص کر حضرت جابر (رض) کے والد گرامی کا ذکر فرمایا۔ واقعہ یوں ہے کہ حضرت عبداللہ (رض) کا ایک بیٹا جابر (رض) اور سات یا نو بیٹیاں تھیں۔ حضرت جابر نو عمرتھے ان کے والد نے خاصہ قرض چھوڑا۔ باپ کی شہادت‘ قرض اور جوان بہنوں کی وجہ سے حضرت جابر (رض) مغموم رہا کرتے تھے ایک دن آپ نے جابر کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کو اپنے حضور بلا کر پوچھا کہ تم مزید کیا چاہتے ہو؟ اس نے عرض کی کہ الٰہی ! مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تاکہ تیرے راستے میں دوبارہ شہادت کا مرتبہ پاؤں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا تو پھر میرا پیغام لوگوں تک پہنچا دیا جائے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب المقدمۃ، باب فیما انکرت الجھمیۃ ] حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا قرض اور اس کی ادائیگی کا انتظام : (عَنْ جَابِر (رض) قَالَ تُوُفِّیَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ (رض) وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَاسْتَعَنْتُ النَّبِیَّ () عَلٰی غُرَمَائِہٖ أَنْ یَّضَعُوْا مِنْ دَیْنِہٖ فَطَلَبَ النَّبِیُّ () إِلَیْھِمْ فَلَمْ یَفْعَلُوْا فَقَالَ لِیَ النَّبِیُّ () اذْھَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَکَ أَصْنَافًا الْعَجْوَۃَ عَلٰی حِدَۃٍ وَعَذْقَ زَیْدٍ عَلٰی حِدَۃٍثُمَّ أَرْسِلْ إِلَیَّ فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَرْسَلْتُ إِلَی النَّبِیِّ () فَجَاءَ فَجَلَسَ عَلٰی أَعْلَاہُ أَوْ فِیْ وَسَطِہٖ ثُمَّ قَالَ کِلْ لِلْقَوْمِ فَکِلْتُھُمْ حَتّٰی أَوْفَیْتُھُمُ الَّذِیْ لَھُمْ وَبَقِیَ تَمْرِیْ کَأَنَّہٗ لَمْ یَنْقُصْ مِنْہُ شَیْءٌ) [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب الکیل علی البائع والمعطی] ” حضرت جابر (رض) نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن عمروبن حرام (رض) (میرے باپ) شہید ہوگئے تو ان کے ذمہ لوگوں کا قرض باقی تھا۔ میں نے نبی کریم (ﷺ) کے ذریعے کوشش کی کہ قرض خواہ اپنے قرض میں کچھ معاف کردیں۔ نبی کریم (ﷺ) نے ان سے فرمایا لیکن وہ نہ مانے۔ آپ نے مجھے فرمایا کہ جاؤ اپنی تمام کھجورکی قسموں کو الگ الگ کرلو۔ عجوہ ایک خاص قسم کی کھجور کو الگ رکھو اور عذق زید کھجور کی قسم کو الگ کرکے مجھے بلا لینا۔ میں نے ایسا ہی کیا اور نبی کریم (ﷺ) کو کہلا بھیجا۔ آپ تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیرکے درمیان بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اب ان قرض خواہوں کو ناپ کردیتے رہو۔ میں نے ناپنا شروع کیا جتنا قرض لوگوں کا تھا میں نے سب ادا کردیا پھر بھی کھجوریں جوں کی توں تھی۔ اس میں سے ایک دانہ برابر کی بھی کمی نہیں ہوئی۔“ مسائل : 1۔ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے مردہ نہیں ہوتے۔ 2۔ شہید اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں۔ 3۔ شہید اللہ کے فضل کے ساتھ خوش اور اپنے سے پیچھے لوگوں کو خوشخبری کا پیغام دیتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ 5۔ شہداء کا مرتبہ ومقام البقرۃ آیت ١٥٤ کے تحت دیکھیں۔