سورة الفتح - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اللہ کے نام سے جو بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

سورۃ فتح کا تعارف اس سورت کا نام الفتح ہے جو اس کی چوبیس آیت میں موجود ہے یہ سورت چار رکوع اور انتیس (٢٩) آیات پر محیط ہے۔ یہ سورت مدینہ منورہ میں ٦ ؁ ہجری میں نازل ہوئی۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب میں دیکھا کہ آپ بیت اللہ کی زیارت کر رہے ہیں اس پر آپ نے اعلان فرمایا کہ ہم عمرہ کرنے کے لیے جارہے ہیں اس لیے سب کو عمرہ کی تیاری کرنی چاہیے لیکن ہوا یہ کہ جب آپ چودہ سو اصحاب کے ساتھ مکہ کے قریب حدیبہ کے مقام پر پہنچے تو آپ کو حضرت عباس کے ذریعے معلوم ہوا کہ مکہ والے آپ کو کسی صورت بھی عمرہ کرنے نہیں دیں گے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مکہ کو سمجھانے کے لیے حضرت عثمان (رض) کو بھیجا کہ انہیں سمجھائیں ہم لڑنے کے لیے نہیں آئے ہماری آمد کا مقصد بیت اللہ کی زیارت کرنا ہے لیکن مکہ والے کسی صورت بھی ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے اس صورت حال میں دونوں طرف سے مذاکرات ہوئے جس کے نتیجہ میں معاہدہ طے پایا جس کی شرائط میں ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا تو مدینہ والوں کو اسے واپس کرنا ہوگا اگر کوئی مسلمان مکہ آئے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ صحابہ کی غالب اکثریت کو یہ شرط پسند نہیں تھی لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شرط کو قبول فرمایا بالآخر آپ عمرہ کیے بغیر مدینہ کی طرف واپس پلٹے ابھی آپ مدینہ واپس نہیں آئے تھے کہ یہ سورت نازل ہوئی جس کی ابتدا ان الفاظ سے کی گئی کہ اے رسول ہم نے آپ کے لیے فتح کے دروازے کھول دئیے ہیں اور آپ کے اگلے پچھلے گناہ بھی معاف کر دئیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی زبردست مدد فرمائے گا کیونکہ وہ بڑی قوت والا ہے اس کے بعد منافقوں کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے جو یہ سمجھ کر پیچھے رہ گئے تھے کہ مسلمان خالی ہاتھ مکہ کی طرف جا رہے ہیں وہ واپس نہیں پلٹیں گے کیونکہ مکہ والوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہونے کی وجہ سے منافق جانتے تھے کہ مکہ کے لوگ انہیں عمرہ نہیں کرنے دیں گے۔ اس صورت میں لڑائی ہوگئی تو مسلمانوں میں سے کوئی بچ کر واپس نہیں آئے گا۔ لڑائی کے خوف کی وجہ سے منافقوں نے مختلف بہانے بنائے اور بیٹھے رہنے کو اپنے لیے غنیمت جانا۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عظیم کی خوشخبری سنانے کے ساتھ یہ خوش خبری بھی دی کہ اللہ تعالیٰ ان مومنوں پر راضی ہوگیا جنہوں نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کی تھی صحابہ (رض) کا فرمان ہے کہ ہم نے یہ جان کر بیعت کی تھی کہ اگر مکہ والوں کے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم میں سے کوئی بچ کر واپس نہیں جائے گا کیونکہ ہم خالی ہاتھ تھے۔ مسلمانوں نے اس لیے استقامت کا مظاہرہ کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی سکینت نازل فرمائی تھی اس سورت کے آخر میں بار بار تاکید کے ساتھ یہ الفاظ استعمال فرما کریقین دہانی کروائی گئی کہ تم ضرور بیت اللہ میں داخل ہو گے اور امن سکون کے ساتھ عمرہ کی سعادت حاصل کرو گے بے شک اس مرتبہ تم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو پائے لیکن یاد رکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دین حق اور اپنی راہنمائی کے ساتھ اس لیے مبعوث فرمایا ہے کہ آپ تمام باطل ادیان پر پر دین اسلام کو غالب کردیں۔ یہ اس لیے بھی ہوگا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور آپ کے ساتھیوں میں یہ اوصاف بھی پائے جاتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے حضور جھکنے والے، آپس میں مہربان اور حالت جنگ میں کفارکے لیے بڑے سخت ہیں۔