سورة محمد - آیت 18

فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

تو وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ ان پر اچانک آجائے، پس یقیناً اس کی نشانیاں آچکیں، پھر ان کے لیے ان کی نصیحت کیسے ممکن ہوگی، جب وہ ان کے پاس آجائے گی۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کو انتباہ۔ قرآن مجید نے منافقین کو ہر موقع اور ہر حوالے سے ہدایت کی طرف لانے کی کوشش فرمائی مگر منافقین بدفطرت ہونے کی وجہ سے نفاق میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ حالانکہ وہ کئی بار کفار کا انجام دیکھ چکے تھے لیکن اس کے باوجود سچا ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے جس پر قرآن مجید نے انہیں انتباہ کے انداز میں ارشاد فرمایا کہ اب تو ان کے ہدایت پانے کی کوئی صورت باقی نہیں۔ سوائے اس کے ان پر اچانک قیامت ٹوٹ پڑے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب ان پر قیامت آ پڑے گی تو انہیں نصیحت پانے کا فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر یہ غور کریں تو قیامت کی کئی نشانیاں آچکی ہیں۔ یاد رہے کہ قیامت کی نشانیاں تین اقسام پر مشتمل ہیں۔ 1۔ کچھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں پوری ہوچکی ہیں۔ 2۔ کچھ قیامت سے پہلے نمودار ہوں گی۔ 3۔ کچھ قیامت کے قریب برپا ہوں گی۔ (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) (القمر : ١) ” قیامت کی گھڑی قریب آچکی اور چاند پھٹ گیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں قیامت کی ایک نشانی : (عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ (رض) قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَی عَہْدِ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِرْقَتَیْنِ، فِرْقَۃً فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَۃً دُونَہُ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اشْہَدُوا) (رواہ البخاری : باب (وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ یَرَوْا آیَۃً یُّعْرِضُوا) ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں شق قمر کا واقعہ پیش آیا۔ چاند کے دو ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا پہاڑ پر گرا اور ایک ٹکڑا اس کے علاوہ تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لوگو ! گواہ ہوجاؤ۔“ (عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ عِظْنِی وَأَوْجِزْفَقَالَ إِذَا قُمْتَ فِی صَلاَتِکَ فَصَلِّ صَلاَۃَ مُوَدِّعٍ وَلاَ تَکَلَّمْ بِکَلاَمٍ تَعْتَذِرُ مِنْہُ غَداً وَاجْمَعِ الإِیَاسَ مِمَّا فِی یَدَیِ النَّاسِ) ( رواہ احمد : مسند ابو ایوب انصاری، ھٰذا حدیث صحیح) ” حضرت ابو ایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آکر عرض کی کہ مجھے نصیحت کیجیے آپ نے فرمایا جب نماز کے لیے کھڑا ہو تو اس طرح نماز ادا کیا کرو گویا کہ الوداعی نماز پڑھ رہے ہو اور ایسی گفتگو نہ کرو۔ جس کے لیے کل کو عذر پیش کرنا پڑے اور جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اس کی امید نہ کرو۔“ (عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَبْسُطُ یَدَہٗ باللَّیْلِ لِیَتُوْبَ مُسِیْءُ النَّھَارِ وَیَبْسُطُ یَدَہٗ بالنَّھَارِ لِیَتُوْبَ مُسِیْءُ اللَّیْلِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِھَا) (رواہ مسلم : باب قبول التوبۃ من الذنوب وإن تکررت الذنوب والتوبۃ) ” حضرت ابوموسیٰ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : یقیناً اللہ عزوجل رات کو اپنا ہاتھ بڑھاتے ہیں تاکہ دن کو خطائیں کرنے والا توبہ کرلے اور دن کو ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرلے یہ صورت حال سورج کے مغرب سے طلوع ہونے تک رہے گی۔“ (یعنی قیامت سے پہلے تک) مسائل ١۔ منافق سب کچھ جاننے اور دیکھنے کے باوجود اپنی منافقت سے توبہ نہیں کرتا۔ ٢۔ منافق بڑی سے بڑی مصیبت اور ذلت قبول کرلیتا ہے لیکن منافقت چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتا۔ تفسیر بالقرآن منافق کا کردار : ١۔ منافق کو مسلمانوں کی بھلائی اچھی نہیں لگتی۔ (آل عمران : ١٢٠) ٢۔ منافق صرف زبان سے حق کی شہادت دیتا ہے۔ (المنافقون : ١) ٣۔ منافق کفارسے دوستی رکھتا ہے۔ (البقرۃ: ١٤) ٤۔ منافق جھوٹا ہوتا ہے۔ (البقرہ : ١٠) ٥۔ منافق اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ (البقرہ : ١٤) ٦۔ منافق مسلمانوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ (المنافقون : ٨) ٧۔ منافق اسلام کی بجائے کفر کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ (آل عمران : ١٦٧) ٨۔ منافق ریا کار ہوتا ہے۔ (النساء : ١٤٢) ٩۔ منافق دنیا کے فائدے کے لیے اسلام قبول کرتا ہے۔ ( البقرۃ: ٢٠)