سورة الأحقاف - آیت 20

وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جس دن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، آگ پر پیش کیے جائیں گے، تم اپنی نیکیاں اپنی دنیا کی زندگی میں لے جا چکے اور تم ان سے فائدہ اٹھا چکے، سو آج تمھیں ذلت کے عذاب کا بدلہ دیا جائے گا، اس لیے کہ تم زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر کرتے تھے اور اس لیے کہ تم نافرمانی کیا کرتے تھے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ“ کی توحید کا انکار اور والدین کی نافرمانی وہی شخص کرتا ہے جو آخرت کو فراموش کردیتا ہے۔ اس لیے یہاں اس کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر صورت لوگوں کو زندہ کرے گا اور ان سے حساب و کتاب لے گا۔ نیک لوگ اپنے عقیدہ اور عمل کی جزا پائیں گے۔ برے لوگ اپنے برے عقیدہ اور عمل کے مطابق سزا سے دو چار ہوں گے۔ ایسے لوگوں کو جب جہنم کے سامنے کھڑا کیا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اس سے پہلے دنیا کی زندگی اور اس کی نعمتوں سے لذّت یاب ہوچکے اب تمہارے لیے اذّیت اور ذلّت ناک عذاب کے سوا کچھ نہیں ہوگا کیونکہ تم نے دنیا میں بلادلیل حق کے ساتھ تکبر کا رویہ اختیار کیا اور تم اپنے رب کی نافرمانی کرتے رہے۔ قرآن مجید نے لوگوں کو یہ حقیقت بار بار بتلائی اور سمجھائی ہے کہ دنیا کی زندگی اور اس کی نعمتیں تھوڑی اور ناپائیدار ہیں۔ دنیا اور اس کی نعمتوں کے مقابلے میں آخرت کی زندگی اور جنت کی نعمتیں لامحدود اور بے شمار ہیں۔ اس لیے دنیا کی خاطر آخرت کا نقصان نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت سب کچھ دنیا ہی کو سمجھ بیٹھتی ہے۔ اس وجہ سے اپنے رب کے ارشادات سے لاپرواہی کرتے ہوئے اس کی نافرمانی میں زندگی بسر کرتے ہیں جس وجہ سے انہیں ذلّت ناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ” حضرت عبداللہ بن حکیم (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم حذیفہ (رض) کے ساتھ مدائن میں تھے۔ حذیفہ (رض) نے پانی طلب کیا تو ایک کاشتکار چاندی کے برتن میں پانی لے کر حاضر ہوا۔ حضرت حذیفہ (رض) نے اسے پھینک دیا اور فرمانے لگے کہ میں تمہیں بتاتے ہوئے حکم دیتاہوں کہ کوئی شخص ایسے برتن میں نہ دے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو۔ زیور اور ریشمی لباس نہ پہنو (مرد) یقیناً یہ دنیا میں کافروں کے لیے ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے۔“ (رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاء الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ عَلَی الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ) (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ نَامَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَلَی حَصِیرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِی جَنْبِہِ فَقُلْنَا یَا رَسُول اللَّہِ لَوِ اتَّخَذْنَا لَکَ وِطَاءً فَقَالَ مَا لِی وَمَا للدُّنْیَا مَا أَنَا فِی الدُّنْیَا إِلاَّ کَرَاکِبٍ اِسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَکَہَا) (رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی أَخْذِ الْمَال) ” حضرت عبد اللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چٹائی پر سوئے تو آپ کے پہلو پر چٹائی کے نشان پڑگئے۔ ہم نے عرض کی اللہ کے رسول! آپ اجازت دیں تو ہم آپ کے لیے اچھا سا بستر تیار کردیں ؟ آپ نے فرمایا : میرا دنیا کے ساتھ ایک مسافر جیسا تعلق ہے جو کسی درخت کے نیچے تھوڑا سا آرام کرتا ہے اور پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دیتا ہے۔“ مسائل ١۔ قیامت کے دن منکرین کو جہنم کی آگ کے سامنے کھڑا کر کے کہا جائے گا۔ ٢۔ تم نے دنیا کی لذت سے فائدہ اٹھا لیا اب جہنم کے اذیت اور ذلت ناک عذاب میں مبتلا رہوگے۔ ٣۔ جہنم میں تمہیں اس لیے جھونکا جارہا ہے کہ تم حق بات کے ساتھ تکبر کرنے والے اور اپنے رب کے نافرمان تھے۔ تفسیر بالقرآن جہنم کی ہولناکیوں کا ایک منظر : ١۔ اس دن ہم ان کا مال جہنم کی آگ میں گرم کریں گے اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (التوبہ : ٣٥) ٢۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب وہ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مذید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : ٩٧) ٣۔ اس میں وہ کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور اس طرح پئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پانی پیتا ہے۔ (الواقعہ : ٥٤ تا ٥٥) ٤۔ تھور کا درخت گنہگاروں کا کھانا ہوگا۔ (الدخان : ٤٣) ٥۔ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کی ہے جو انہیں گھیرے ہوئے ہوگی اور انہیں پانی کی جگہ پگھلا ہو اتانبا دیا جائے گا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا۔ (الکھف : ٢٩) ٦۔ جہنمی کے جسم بار بار بدلے جائیں گے تاکہ انہیں پوری پوری سزامل سکے۔ (النساء : ٥٦)