سورة الجاثية - آیت 18

ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

پھر ہم نے تجھے (دین کے) معاملے میں ایک واضح راستے پر لگا دیا، سو اسی پر چل اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چل جو نہیں جانتے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن: (آیت 18 سے 20) ربط کلام : بنی اسرائیل حق کی ناقدری کرنے اور آپس کے اختلافات کی وجہ سے دنیا کی قیادت سے محروم ہوئے۔ ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو قیادت کے منصب پر فائز فرمایا ہے۔ بنی اسرائیل میں سب سے آخر میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے انجیل اور بڑے، بڑے معجزات عطا فرمائے مگر بنی اسرائیل کی غالب اکثریت نے ناصرف عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختلاف کیا بلکہ انہوں نے اپنے طور پر عیسیٰ ( علیہ السلام) کو تختہ دار پر لٹکادیا۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو صحیح و سالم آسمانوں پر اٹھالیا جوقیامت کے قریب دنیا میں نزول فرمائیں گے اور حضرت امام مہدی (رض) کے ساتھ مل کر عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ جہاد کریں گے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد تقریباً پانچ سو سال تک کسی شخصیت کو نبوت سے سرفراز نہیں کیا گیا تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (ﷺ) کو آخری نبی کے طور پر مبعوث فرمایا اور آپ کو خاتم النبیین کے لقب سے سرفراز کیا۔ اس لیے آپ کے بارے میں ارشاد ہوا کہ بنی اسرائیل کے بعد ہم نے آپ (ﷺ) کو ایک واضح دین کی راہنمائی فرمائی ہے۔ لہٰذا آپ کو صرف اسی کی اتباع کرنا چاہیے اور ان لوگوں کے پیچھے نہیں لگنا جو جہالت کی وجہ سے اپنی خواہشات کے بندے بن چکے ہیں۔ اگر آپ ان لوگوں کے پیچھے چلیں گے تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ یقین فرمائیں! کہ ظالم لوگ ایمانداروں کے خیر خواہ نہیں ہوتے۔ جو دوسروں کی خواہشات کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنے رب کا حکم مانتے اور اس کی نافرمانی سے پرہیز کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی راہنمائی اور خیر خواہی کرتا ہے۔” اَلْاَمْرِ“ سے مراد اللہ کا دین ہے اور ” شریعت“ سے مراد اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور اس کا بتایا ہوا راستہ ہے جس کی ہر حال میں اتباع کرنا چاہیے اسی بات کو قرآن مجید نے یوں بھی بیان فرمایا ہے۔ ” اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔ [ البقرۃ:143] ظالم سے مراد کافر، مشرک اور وہ لوگ ہیں جو اللہ کے دین کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ لوگ امت کے کبھی خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ ان کی خیر خواہی اور ہمدردی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوتی ہے۔ جس وجہ سے اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ظالم لوگ ظالموں کے دوست اور بہی خواہ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا ولی نہیں ہوتا۔ وہ تو متقین کا ولی ہے۔ جن کا اللہ ولی ہوجائے انہیں کسی ظالم کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے لیے ہدایت کی باتیں ہیں جو یقین کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہیں۔ ولی کا معنٰی دوست، خیر خواہ اور ذمہ دار ہے۔ مسائل: 1۔ پہلی امتیں شریعت کا علم رکھنے کے باوجود اختلافات کا شکار ہوئیں۔ 2۔ پہلی امتوں نے باہمی حسدوبغض کی بنا پر آپس میں اختلاف کیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کے اختلاف کا فیصلہ کرے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو واضح دین عطا فرمایا ہے۔ 5۔ لوگوں کی خواہشات کی پرواہ کئے بغیر مسلمان کو دین کی اتباع کرنی چاہیے۔ 6۔ کسی کو کوئی طاقت دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا نہیں سکتی۔ 7۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی اور خیر خواہ ہوتے ہیں۔ 8۔ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کا خیر خواہ اور ساتھی ہوتا ہے۔ 9۔ قرآن مجید ہدایت کاسرچشمہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کاذریعہ ہے۔ 10۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بصیرت کی باتیں بتلائی ہیں مگر ان سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو ان پر یقین کرتے ہیں۔ تفسیربالقرآن : لوگوں کے پیچھے لگنے کی بجائے انسان کو قرآن وسنت کی اتباع کرنا چاہیے : 1۔ کتاب اللہ کے مقابلے میں لوگوں کی خواہشات پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔ (المائدۃ:48) 2۔ خواہشات کی اتباع کرنے کی بجائے کتاب اللہ کے مطابق فیصلے ہونے چاہییں۔ (المائدۃ:49) 3۔ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا تباہ ہوجاتا ہے۔ (طٰہٰ:16)