سورة آل عمران - آیت 153

إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ ۗ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

جب تم دور چلے جاتے تھے اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول تمھاری پچھلی جماعت میں تمھیں بلا رہا تھا تو اس نے بدلے میں تمھیں غم کے ساتھ اور غم دیا، تاکہ تم نہ اس پر غمزدہ ہو جو تمھارے ہاتھ سے نکل گیا اور نہ اس پر جو تمھیں مصیبت پہنچی اور اللہ اس کی پوری خبر رکھنے والا ہے جو تم کرتے ہو۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : احد میں سرزد ہونے والی کمزوریوں میں ایک اور کمزوری کی نشاندہی کی ہے کہ جب اکثر صحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے اور رسول معظم انہیں واپس بلا رہے تھے۔ معرکۂ احد کی ابتدا میں میدان صحابہ کرام (رض) کے ہاتھ رہا کفار نے بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھی۔ صحابہ اسلحہ ایک طرف رکھ کر مال غنیمت اکٹھا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ درّہ خالی دیکھ کر خالد بن ولید نے اتنی مستعدی اور منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کیا کہ درّہ پر مامور دس اصحاب کو ان کے سالار سمیت شہید کرتے ہوئے غنیمت لوٹنے والوں پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑا۔ افرا تفری کے عالم میں صحابہ کا جس طرف منہ ہوا بھاگناشروع کردیا لیکن رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زخمی ہونے کے باوجود صبر و استقلال کا پہاڑ اور استقامت کا پیکر بن کر اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے تھے۔ چہرے پر پریشانی اور نہ لہجہ میں گھبراہٹ اپنے حواس پر مکمل کنٹرول، پورے تدبر و تفکر کے ساتھ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے بھاگنے والوں کو آواز پر آواز دے رہے تھے : (یَا عِبَادَاﷲِإِلَیَّ عِبَادَ اللہ) [ تفسیر البغوی تفسیر آیت وما محمد الارسول] ” اے اللہ کے بندو! کہاں بھاگے جا رہے ہو پلٹ کر میری طرف آؤ۔“ لیکن حالات نے اس قدر اچانک پلٹاکھایا کہ کسی کو کچھ بھی سوجھائی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کیا کرے سوائے چودہ صحابہ کے جن میں سات مہاجر اور سات انصار تھے۔ ان میں سر فہرست حضرت ابو بکر صدیق، حضرت طلحہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) تھے۔ جناب سعد بن ابی وقاص (رض) اس طرح جانثاری کے ساتھ آپ کا دفاع کر رہے تھے کہ رسول اللہ (رض) نے ان کے بارے میں فرمایا : (یَاسَعْدُ ارْمِ فَدَاکَ أَبِیْ وَأُمِّیْ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی] ” اے سعد! تیر پھینکئے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔“ حضرت طلحہ (رض) ڈھال ٹوٹ جانے کی وجہ سے آپ کی طرف آنے والے تیروں کو دبوچنے کی کوشش کرتے جس کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے ان کا ایک بازو مفلوج ہوگیا : جیسا کہ قیس بن حازم کہتے ہیں کہ (رَأَیْتُ یَدَ طَلْحَۃَ الَّتِیْ وَقٰی بِھَا النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَدْ شَلَّتْ) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب] ” میں نے طلحہ (رض) کے ہاتھ کو دیکھا جس کے ساتھ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع کیا تھا وہ مفلوج ہوچکا تھا۔“ حضرت طلحہ (رض) کبھی کبھار بڑے ناز کے ساتھ مدینہ کے نوجوانوں کو اپنا معذور بازو دکھلاکر فرماتے کہ احد کے دن میں نے اسے ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ایک موقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا احد طلحہ کا دن تھا۔ (سیر الصحابہ) اس ہنگامی صورت حال میں کفار کی طرف سے یہ افواہ پھیلائی گئی کہ مسلمانوں کے نبی کو قتل کردیا گیا ہے۔ یہاں اسی کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ مسلمانو! وہ وقت یاد کرو جب تم پر غم پر غم ٹوٹ رہے تھے۔ مال غنیمت کا ہاتھ سے نکل جانا، ستر صحابہ کا شہید ہونا، حضرت حمزہ (رض) کا مثلہ کیا جانا‘ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زخمی ہو کر نیچے گرنا‘ آپ کے دانت ٹوٹنا، پیشانی پر زخم آنا، فتح کا شکست میں تبدیل ہونا اور کفارکا خوش ہونا ایک سے ایک بڑھ کر صدمہ تھا۔ انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ لچک اور وسعت رکھی ہے کہ اکثر اوقات یہ ہلکا غم برداشت نہیں کرتا لیکن بڑے غم کو حوصلے کے ساتھ برداشت کرلیتا ہے۔ گردشِ ایّام کے ساتھ احد میں ہزیمت کا فلسفہ یہ تھا کہ مسلمان اپنے آپ کو آئندہ حالات کے لیے تیار کرلیں کیونکہ افراد اور قومیں وہی آگے بڑھا کرتی ہیں جو مصائب پر نڈھال اور دل برداشتہ ہونے کے بجائے مضبوط اعصاب کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے والی ہوتی ہیں۔ مسائل ١۔ متواتر غم سہنے سے آدمی میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ ٢۔ جماعت کے قائد کو مشکل حالات میں بہادری اور استقامت دکھانا چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے اعمال کی خبر رکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن غم کا بہتر ردّ عمل : ١۔ غم سے مومن کی تربیت اور اس میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ (الحدید : ٢٢، ٢٣) ٢۔ غم میں صبر واستقامت کی دعا کرنا چاہیے۔ (البقرۃ: ٢٥٠) ٣۔ جو چھن جائے اس پر پچھتانا نہیں چاہیے جو ملے اس پر اترانا نہیں چاہیے۔ (الحدید : ٢٣) ٤۔ پریشانی انسان کے اپنے عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ (الشوریٰ : ٣٠)