سورة الدخان - آیت 17

وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور بلا شبہ یقیناً ہم نے اس سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمایا اور ان کے پاس ایک بہت باعزت رسول آیا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح مکہ والوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں عذاب میں مبتلا کیا اسی طرح ہی قوم فرعون کو مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جس طرح قوم فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔ لیکن فرعون نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے بڑے عذاب میں مبتلا کیا۔ (المزمل : ١٥، ١٦) ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس سے پہلے ایک معزز رسول کے ذریعے قوم فرعون کو آزمایا۔ اس کے رسول نے فرعون کو یہ بات کہی تھی کہ اللہ کے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر دو۔ میں تمہارے لیے امین اور ذمہ دار رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی بغاوت نہ کرناکیونکہ میں تمہارے پاس واضح دلیل لے کر آیا ہوں۔ اس مقام پر موسیٰ (علیہ السلام) کو کریم نبی کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں رؤف رحیم اور رحمت للعالمین کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عظیم اور طویل جدو جہد کو اس مقام پراشارات کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ ان کی طویل جدوجہد کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے قوم فرعون کی طرف معزز رسول طرف معزز رسول کو بھیجا اور اس نے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا جس کی مختصر روئیداد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سب سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی اور اس کے ساتھ ہی اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ جب فرعون نے انہیں ماننے سے انکار کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے سامنے دو عظیم معجزے پیش فرمائے۔ مگر فرعون نے انہیں جادوگر کہہ کر ٹھکرا دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی عظیم اور طویل جدوجہد کے دوران فرعون کے ساتھ کئی معرکے ہوئے۔ مگر فرعون اور اس کی قوم موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں راہ راست پرلانے کے لیے ان پر کئی عذاب نازل کیے لیکن پھر بھی وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ البتہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جد وجہد کا یہ نتیجہ نکلا کہ بنی اسرائیل کے علاوہ فرعون کی قوم کے نوجوان اور کچھ سر کردہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے۔ جس کے رد عمل میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو رجم اور قتل کرنے کی دھمکی دی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مجھے تمہاری دھمکیوں کا کوئی ڈر نہیں کیونکہ میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آچکا ہوں۔ اگر تم مجھ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تو میرا راستہ چھوڑ دو! مگر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کا ایک دفعہ پھر قتل عام شروع کردیا۔ نہ معلوم یہ قتل عام کتنا عرصہ جاری رہا۔ بالآخر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور التجا کی کہ اے میرے رب! یہ قوم جرائم میں آگے ہی بڑھتی جارہی ہے اس لیے آپ سے عاجزانہ التجا ہے ہے کہ اب انہیں تہس نہس کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی التجا قبول فرمائی اور انہیں مصر سے ہجرت کرجانے کا حکم دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے آخری دفعہ پھر فرعون کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ میرا اور تمہارا رب ” اللہ“ ہے جس نے مجھے واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کیساتھ تمہاری طرف بھیجا ہے۔ میں اسی کی طرف سے امانت دار رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یعنی جو کچھ میں تمہیں کہہ رہا ہوں اس میں میری ذات کا کوئی عمل دخل نہیں اور جو کچھ تمہارے سامنے پیش کرتاہوں وہ پوری ذمہ داری سے پیش کررہا ہوں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی سرکشی چھوڑ کر اس کی تابعداری اختیار کرو یہی تمہارے لیے بہتری کاراستہ ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کی طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ ٢۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی توحید سمجھانے کے ساتھ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ ٣۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑے ہی معزز اور امانت دار رسول تھے۔ ٤۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو رجم کردینے دھمکی دی۔ ٥۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ تمہیں اللہ کی سرکشی سے بازآنا چاہیے۔ ٦۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر تم ایمان نہیں لاتے تو میرا راستہ چھوڑ دو۔ ٧۔ فرعون کے بے انتہا مظالم کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے مجرموں کی تباہی کی بدعا کی۔ تفسیر بالقرآن مجرم اقوام کی انبیائے کرام (علیہ السلام) کو دھمکیاں : ١۔ مشرکوں کی حضرت نوح (علیہ السلام) کو دھمکی اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگسار کردیا جائے گا۔ (الشعراء : ١١٦) ٢۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نے کہا اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہوجا۔ (مریم : ٤٦) ٣۔ حکمران اور قوم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینک دیا۔ ( الانبیاء : ٦٨) ٤۔ قوم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کرنے کی دھمکی دی۔ (ہود : ٩١ ) ٥۔ مشرکوں کی حضرت لوط (علیہ السلام) کو دھمکی کہ اگر تو باز نہ آیا تو تمھیں شہر بدر کردیں گے۔ (الشعراء : ١٦٧) ٦۔ فرعون کی ایمانداروں کو دھمکیاں کہ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دوں گا اور تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھا دوں گا۔ (طٰہٰ : ٧١) ٧۔ فرعون کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی کہ میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ ( الدخان : ٢٠) ٨۔ فرعون نے اپنی قوم کو کہا کہ میرا راستہ چھوڑ دو کیونکہ میں موسیٰ کو قتل کرنا چاہتا ہوں۔ (المومن : ٢٦) ٩۔ مشرکوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تجھے اور تیرے ساتھ ایمان لانے والوں کو شہر سے نکال دیں گے۔ (الاعراف : ٨٨) ١٠۔ یہودیوں نے اپنے طور پر عیسیٰ ( علیہ السلام) کو سولی پر لٹکایا لیکن اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس اٹھا لیا۔ ( النساء : ١٥٧۔ ١٥٨) ١١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل اور ملک بدر کرنے کی سازش۔ (الانفال : ٣٠) ١٢۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کی ہدایت سے پھیر دینے کی سازش۔ (البقرۃ: ١٠٩)