سورة الزخرف - آیت 85

وَتَبَارَكَ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور بہت برکت والا ہے وہ جس کے پاس آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیات میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی کیا ضرورت ہے ؟ جبکہ زمین و آسمانوں کا وہی بادشاہ ہے اور ہر چیز اس کے تابع فرمان ہے۔ اس کے باوجود کچھ لوگ ملائکہ یا کسی اور کو اللہ تعالیٰ کا شریک یا اس کی اولاد ٹھہراتے ہیں تاکہ وہ ان کی قیامت کے دن سفارش کریں۔ اہل مکہ کے سامنے جب بھی قیامت کا ذکر کیا جاتا تو وہ چلّا کر کہتے کہ قیامت کب آئے گی ؟ ہر موقع پر انہیں اس بات کا شافی جواب دیا گیا۔ مگر پھر بھی وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پہ قائم رہتے تھے۔ اس بار یہ جواب دیا گیا کہ اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے اور زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسی کی ملک ہیں۔ وہی قیامت کا علم رکھنے والا ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں وہ اس کے ہاں سفارش کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ سفارش وہی لوگ کرسکیں گے جو علم و یقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں گے اور ان کا اپنا عقیدہ اور عمل ٹھیک ہوگا۔ قرآن مجید نے یہ مسئلہ بھی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کرسکے گا۔ جس کو اس کے حضور سفارش کی اجازت ملے گی وہ بھی وہی بات کرے گا جو حق اور ٹھوس معلومات پر مبنی ہوگی۔ مفسرین نے ” اِلَّا مَنْ شَھِدَ بالْحَقِّ“ کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ سفارش کرنے والا خود بھی حق کی گواہی دینے والا ہو یعنی اس کا کلمہ طیبہ پر پورا یقین اور اس پر عمل کرنے والا ہو جس کے متعلق گواہی دے گا وہ بھی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والا ہو۔ اس حقیقت کا وہ مفسر بھی اعتراف کرتے ہیں جو من دون اللہ اور من دونہٖ کے الفاظ کو مخصوص معانی پہناتے ہیں۔ یہاں اس مفسر کا حوالہ دیا جاتا ہے جو قرآن مجید کے اکثر مقامات پر من دون اللہ اور من دونہٖ کی تفسیر اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ کفار اس گھمنڈ میں تھے کہ یہ بت اور فرشتے ان کی شفاعت کریں گے۔ بتا دیا کہ ایسا نہیں ہوگا ہر ایک کی مجال نہیں کہ بارگاہِ رب العزت میں شفاعت کرنے کی جرأت کرسکے اور نہ ہر شخص اس قابل ہے کہ اس کی شفاعت کی جائے۔ شفاعت کرنے کا وہ مجاز ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی بھی دے اور اس کی یہ گواہی علم یقین پر مبنی ہو۔ اسی طرح شفاعت اس کی کی جائے گی جس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہو۔ یہ بات خوب ذہن نشین رہے کہ شفاعت صرف ان گناہگاروں کے لیے ہوگی جو ایمان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور جن کا خاتمہ کفر یا شرک پر ہوگا ان کے لیے شفاعت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ ( ضیاء القرآن : جلد ٤۔ مولانا پیر کرم شاہ بریلوی) یہاں بھی موصوف مفسر نے اپنے مشرکانہ عقیدہ کی تائید کے لیے (مِنْ دُوْنِہٖ الشَّفَاعَۃَ) سے مراد بت لیے ہیں۔ حالانکہ اگلی آیت میں واضح طور پر بتلایا گیا ہے کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے سوال کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو یہ جواب دیں گے کہ ہمیں ” اللہ“ نے پیدا کیا ہے ان سے فرمائیں پھر تم کیوں بہکے پھر رہے ہو۔ 1 کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتوں سے سوال کرنا تھا؟ 2 کیا بتوں نے کہا تھا کہ ہمیں ” اللہ“ نے پیدا کیا ہے؟ 3 کیا پتھروں کو کہا تھا گمراہی میں کیوں بھٹکے پھر رہے تھے؟ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃٌ مُسْتَجَابَۃٌ فَتَعَجَّلَ کُلُّ نَبِیٍّ دَعْوَتَہٗ وَإِنِّی اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِأُمَّتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَھِیَ نَآءِلَۃٌ إِنْ شَآء اللّٰہُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِیْ لَایُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب اختباء النبی دعوۃ الشفاعۃ لأمتہ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے ہر نبی نے اپنی دعا کرنے میں جلدی کی میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے بچا کر رکھا ہوا ہے وہ میری امت کے ہر اس شخص کو فائدہ دے گی جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی اس کے حضور سفارش نہیں کرسکے گا۔ ٢۔ سفارش کرنے والے کے لیے لازم ہے کہ وہ خود بھی کلمہ پر یقین اور اس کا علم رکھنے والا ہو۔ ٣۔ سفارش کرنے والا اسی کی سفارش کرسکے گا جس کا کلمہ پر پورا ایمان ہو۔ ٤۔ ” اَلْحَقُّ“ سے مراد کلمہ طیبہ کو سمجھ کر پڑھنا اور حتّٰی المقدور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔