سورة فصلت - آیت 6

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ ۗ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہہ دے میں تو تمھارے جیسا ایک بشر ہی ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، سو اس کی طرف سیدھے ہوجاؤ اور اس سے بخشش مانگو اور مشرکوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کو اپنے لیے بوجھ قرار دینے والوں کو نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جواب۔ جو شخص گمراہی اور اپنی جہالت کا اعتراف کرنے کے باوجود اس پر اترائے۔ اس کے ساتھ جھگڑنے یا اس پر مزید وقت صرف کرنے کی بجائے اس سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے۔ اسی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں کہ بحیثیت انسان میں بھی تمہارے جیسا ایک بشر ہوں۔ فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول منتخب کیا اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر واضح کروں کہ ہر قسم کی عبادت کے لائق صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ اس کا حکم ہے کہ ادھر ادھر کے راستوں کو چھوڑ کر صرف اسی کے راستے پر پکے ہوجاؤ۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگو ! اور کفر و شرک سے تائب ہوجاؤ ! یاد رکھو ! کہ مشرکین کے لیے ویل ہے۔ ویل سے مراد افسوس اور جہنّم ہے۔ ان کے لیے بھی ویل ہے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ جو ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے ان کے لیے ایسا اجر ہے جو نہ کم ہوگا اور نہ ہی ختم ہوگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کی بشریت کا اعلان کروانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ نبی کا کام حق بات پہنچانا ہے منوانا نہیں کسی کو ہدایت دینا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ لہٰذا اگر تم نے اپنے لیے گمراہی کو پسند کرلیا ہے تو پھر میں کیا کرسکتا ہوں ؟ بحیثیت انسان میرے ذمّہ حق بات پہنچانا ہے کسی کو ہدایت دینا میرے بس کی بات نہیں۔ البتہ یہ بات یادرکھوکہ مشرک اور وہ لوگ بھی جہنّم میں جائیں گے جو زکوٰۃ اور آخرت کے منکر ہیں۔ اکثر اہل علم نے یہاں لفظ زکوٰۃ کا معنٰی شرک سے پاک ہونا مراد لیا ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَامِنْ رَجُلٍ لَا یُؤَدِّیْ زَکَاۃَ مَالِہٖ إِلَّا جَعَلَ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِیْ عُنُقِہٖ شُجَاعًا ثُمَّ قَرَأَ عَلَیْنَا مِصْدَاقَہُ مِنْ کِتَاب اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ (وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ) الآیۃَ) [ رواہ الترمذی : کتاب : تفسیرالقرآن، باب ومن سورۃ آل عمران] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اس بات کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا مال اس کی گردن میں گنجا سانپ بنا کر ڈالے گا۔ پھر آپ نے کتاب اللہ سے اس آیت کی تلاوت کی (وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ)۔“ مسائل ١۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بشر تھے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرا کوئی الٰہ نہیں۔ ٣۔ جو لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی کا خیال نہیں رکھتے یقیناً وہ آخرت کے انکاری ہیں۔ ٤۔ ایمان لانے اور صالح اعمال کرنے والوں کے لیے دائمی اجر وثواب ہے۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیاء (علیہ السلام) بشر تھے : ١۔ انبیاء ( علیہ السلام) کا اقرار کہ ہم بشر ہیں۔ (ابراہیم : ١١) ٣۔ ہم نے آدمیوں کی طرف وحی کی۔ (یوسف : ١٠٩) ٢۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے نبی بھیجے وہ بشر ہی تھے۔ (النحل : ٤٣) ٤۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ تو ہماری طرح بشر ہے اور ہم تجھے جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (الشعراء : ١٨٦) ٥۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر اور یہ تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (المومنون : ٢٤) ٦۔ نہیں ہے تو مگر ہمارے جیسا بشر کوئی نشانی لاؤ اگر تو سچا ہے۔ (الشعراء : ١٥٤) ٧۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر جیسا تم کھاتے ہو، ویسا وہ کھاتا ہے۔ (المومنون : ٣٣) ٨۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اعلان فرمائیں کہ میں تمہارے جیسا انسان ہوں۔ (الکہف : ١١٠) ٩۔ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح بشر ہوں۔ (حٰمٓالسجدۃ: ٦)