سورة غافر - آیت 82

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

تو کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ (تعداد میں) ان سے زیادہ تھے اور قوت میں اور زمین میں یادگاروں کے اعتبار سے ان سے بڑھ کر تھے، تو ان کے کسی کام نہ آیا، جو وہ کماتے تھے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی نعمتوں اور اس کے واضح دلائل کو جھٹلانے والوں کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی راہنمائی کے لیے خارجی اور داخلی اسباب پیدا فرمائے ہیں۔ لیکن ان کی حقیقت پانے کے لیے انسان کا سلیم الفطرت ہونا ضروری ہے۔ انسان کی فطرت جتنی زندہ اور بیدار ہوگی اتنا ہی وہ ہدایت قبول کرنے میں مستعد ہوگا۔ خارجی اسباب میں خوف اور ڈر ایک ایسا سبب ہے کہ اگر انسان کو اپنے رب کا خوف پیدا ہوجائے تو وہ خود بخود نافرمانی کاراستہ چھوڑ کر اپنے رب کی تابعد اری کی شاہراہ پر گامزن ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خوف کے ساتھ اور بھی خوف ہیں جن کی بنا پر آدمی نافرمانی کو چھوڑ کر ہدایت قبول کرلیتا ہے۔ اس خوف کو بیدار کرنے کے لیے قرآن مجید میں کئی بار اس طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اگر ظالموں کو اللہ تعالیٰ کی گرفت پر یقین نہیں آرہا تو انہیں چاہیے وہ زمین میں چل پھر کر ان کھنڈرات کا مشاہدہ کریں اور قرآن مجید اور تاریخ میں ان کے حالات پڑھیں۔ یقیناً انہیں معلوم ہوجائے گا کہ بالآخر ظالموں کا کیا انجام ہوا۔ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو اہل مکہ سے زیادہ طاقتور اور ترقی کے اعتبار سے بہت آگے تھے۔ انہوں نے اپنی ترقی کی نمائش اور اپنا نام اور کام باقی رکھنے کے لیے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت کی تونہ وہ اپنے آپ کو بچا سکے اور نہ ہی انہیں کوئی اور بچانے والا تھا۔ ان کی بستیاں اجڑ گئیں، محلات قبرستانوں کی شکل اختیار کرگئے اور ان کی ترقی ہی ان کے لے وبال جان ثابت ہوئی۔ ان کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ جب ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ آئے تو انہوں نے ان کی دعوت قبول کرنے کی بجائے اپنے علم، عقل اور ترقی پر ناز کیا۔ رسولوں نے انہیں ” اللہ“ کے عذاب سے بہت ڈرایا مگر وہ انہیں مذاق کرتے رہے اور یہی مذاق ہی ان کی تباہی کا سبب ثابت ہوا۔ جب انہوں نے عذاب کو اپنے سامنے دیکھا تو بے ساختہ پکار اٹھے کہ جن کو ہم اپنے رب کے شریک بنایا کرتے تھے۔ ہم ان کا انکار کرتے ہیں اور اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لاتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا اصول اور طریقہ یہ ہے کہ جب وہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو پھر اس کا ایمان لانا اور اور آہ وزاریاں کرنا اسے کوئی فائدہ دیتا۔ یہی پہلی قوموں کے لیے اصول تھا کہ نزول عذاب سے پہلے جو لوگ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک نہیں مانتے تھے۔ وہ دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں نا ختم ہونیوالانقصان پائیں گے۔ (فَلَوْ لَا کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَھَآ اِیْمَانُھَآ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ لَمَّآ اٰمَنُوْا کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰھُمْ اِلٰی حِیْنٍ) [ یونس : ٩٨] ” پھر کوئی ایسی بستی نہ تھی جو ایمان لائی ہو اور اس کے ایمان نے اسے فائدہ دیاہو، سوائے یونس کی قوم کے وہ ایمان لائے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب دور کردیا اور انہیں ایک وقت تک فائدہ پہنچایا۔“ توبہ کب تک قبول ہوتی ہے؟ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَالَمْ یُغَرْغِرْ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزھد، باب ذکرا لتوبۃ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یقیناً اللہ عزوجل بندے کی توبہ قبول کرتارہتا ہے جب تک جان حلق تک نہ پہنچ جائے۔“ مسائل ١۔ مغضوب قوموں نے اپنے علم و فہم اور ترقی کو انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت پر ترجیح دی اور انہیں مذاق کا نشانہ بنایا۔ ٢۔ پہلی اقوام کی تباہی سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن پہلی اقوام کی تباہی کا ایک منظر : ١۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : ٦) ٢۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : ١٣٦) ٣۔ جب تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : ١٣) ٤۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ: ٥) ٥۔ قوم ثمود کے لیے دوری ہے۔ (ھود : ٦٨) ٦۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ: ٦) ٧۔ فاسق ہلاک کردیے گئے۔ (الاحقاف : ٣٥) ٨۔ قوم لوط کو زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جاکر الٹا دیا گیا۔ (ھود : ٨٢) ٩۔ مدین والوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ قوم ثمود کی طرح مدین والوں کے لیے دوری ہے۔ (ھود : ٩٥) ١٠۔ قوم عاد نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا۔ قوم عاد کے لیے دوری ہے۔ (ھود : ٦٠) ١١۔ یہودیوں پر اللہ نے ذلت و محتاجی مسلط کردی۔ (البقرۃ: ا ٦) ١٢۔ یہودی اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے۔ (البقرۃ : ٩٠) ١٣۔ بنی اسرائیل پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے لعنت کی۔ (المائدۃ: ٧٨)