سورة الزمر - آیت 62

اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ“ نے ظالموں کو سزا دینا اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو جزا اور انہیں جنت میں داخل کرنا ہے وہی ” اللہ“ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اور اس پر نگران ہے۔ زمین و آسمان کے اختیارات اسی کے پاس ہیں۔ جاندار ہو یا غیر جاندار، چھوٹی ہو یا بڑی غرض کہ زمین و آسمانوں، ہواؤں اور فضاؤں میں ہو یا کوئی چیز تحت الثّریٰ میں ہویا عرش معلی پر ہو۔ ہر چیز کو پیدا کرنے والا صرف اور صرف ایک ” اللہ“ ہے۔ اس کے سوا نہ کسی نے کوئی چیز پیدا کی ہے اور نہ کوئی پیدا کرسکتا ہے۔ یادرہے کہ پیدا کرنے اور کسی چیز کے بنانے میں بہت فرق ہے۔ پیدا کرنے کا معنٰی ہے کہ وہ چیز، اس کا نمو نہ اور اس کا مٹیریل سرے سے ہی موجود ہی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزوں کے لیے ” جَعَلَ“ کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔ جس کا معنٰی بنانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی اس چیز کا مٹیریل پیدا کیا اور پھر اسی نے ہی اسے اس طرح بن جانے کا حکم دیا جس طرح اس کی منشا تھی۔ بنانے کا لفظ آدمی کے لیے بھی بولا جاسکتا ہے کہ فلاں شخص نے فلاں چیز بنائی ہے۔ لیکن خالق کا لفظ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے نہیں بولا جاسکتا۔ جس طرح ہمارے ملک میں کچھ سیاستدان بانئ پاکستان کو خالق پاکستان کہتے ہیں۔ ایسا کہنا غلط ہے کیونکہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا صرف ” اللہ“ ہے۔ لہٰذا خالق کا لفظ اس کے سوا کسی کے لیے بولنا جائز نہیں وہ صرف خالق ہی نہیں بلکہ ہر چیز کا وکیل بھی ہے۔ وکیل کا لفظ جزوی معنوں میں کسی انسان کے لیے بولا جا سکتا ہے۔ لیکن کلی مفہوم کے لحاظ سے صرف اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا وکیل ہے۔ جو تخلیق سے لے کر موت تک ہر جاندار کی تمام ضرورتیں پوری کرنے والا ہے یعنی وہ ہر اعتبار سے اس کا ذمہ دار ہے۔ اسی کے پاس زمین و آسمانوں کی چابیاں ہیں۔ ہر زبان میں عام طور پر چابی کا لفظ تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ١۔ تالا یا کسی بند چیز کو کھولنے والی چیز۔ ٢۔ کسی چیز کا قبضہ اور اختیار رکھنا۔ ٣۔ خزانے کا مالک ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے پاس ہر اعتبار سے زمین و آسمانوں کی چابیاں ہیں۔ اس نے کسی زندہ یا مردہ کو اپنی خدائی میں کوئی اختیار نہیں دیا۔ جو لوگ اس کے ارشادات اور احکام کا جزوی یا کلی طور پر انکار کرتے ہیں وہ ناقابل تلافی اور دائمی نقصان پائیں گے۔ (عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ خَمْسٌ إِنَّ اللَّہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ، وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ، وَیَعْلَمُ مَا فِی الأَرْحَامِ، وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، إِنَّ اللَّہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ) [ رواہ البخاری : باب (وَعِنْدَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُہَا إِلاَّ ہُوْ)] ” حضرت عبداللہ بن سالم (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا غیب کی پانچ چابیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو قیامت کا علم ہے۔ وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے ؟ کوئی نہیں جانتا کہ اس نے کل کیا کرنا ہے ؟ اور کسی کو علم نہیں کہ اسے کس سرزمین پر موت آئے گی۔ یقیناً اللہ جاننے والا، ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔“ تفسیربالقرآن اللہ ہی خالق اور ہر چیز کا وکیل ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ (البقرۃ: ٢٢) ٢۔ اللہ ہی نے انسان کو بڑی اچھی شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین : ٤) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر : ٢) ٤۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : ٢٠) ٥۔ اللہ نے ایک ہی جان سے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ (الاعراف : ١٨٩) ٦۔ اللہ ہی پیدا کرنے والاہے اور اس کا ہی حکم چلنا چاہیے۔ (الاعراف : ٥٤) ٧۔ لوگو ! اس رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (النساء : ١) ٨۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے، سو تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (الانعام : ١٠٢) ٩۔ بے شک آپ ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہی ہر چیز پر کارساز ہے۔ (ہود : ١٢) ١١۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور وہی کارساز کافی ہے۔ (النساء : ١٣٢) ١٢۔ میرے بندوں پر شیطان کا داؤ پیچ نہیں چلے گا اللہ اپنے بندوں کے لیے کار ساز ہے۔ (بنی اسرائیل : ٦٥)