سورة الزمر - آیت 45

وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہوجاتے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : سفارش کے ختیارات تمام کے تمام اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ وہ اپنی ذات، صفات کے اعتبار سے اکیلا ہے۔ اس بات کا کھول کر ذکر کیا جاتا ہے تو مشرک اسے برا سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا دائمی اور حقیقی مالک ہے۔ وہ اپنی مخلوق پر بلا شرکت غیرے اختیار رکھتا ہے۔ اس نے کسی اعتبار سے کسی کو بھی کوئی اختیار نہیں دیا۔ توحید کے اس پہلو کو کھول کر بیان کیا جائے تو مشرک کو یہ بات بری لگتی ہے جس بنا پر توحید کے بیان سے نفرت کرتا ہے۔ لیکن جوں ہی بزرگوں کی جھوٹی، سچی کرامات اور ان کی شخصیت کا ذکر کیا جائے تو شرک سے محبت رکھنے والے لوگوں کے چہرے کھل جاتے ہیں۔ مشرکانہ ماحول کے غلبہ کی وجہ سے اہل توحید کی غالب اکثریت ایسی ہے جو توحید خالص اور عقیدہ کے مختلف پہلوں پر گفتگو سننے کی بجائے دوسرے عنوانات پر وعظ سننا زیادہ پسند کرتی ہے۔ اسی وجہ سے توحید سے نفرت کرنے کی وجہ سے اہل مکہ مطالبہ کرتے تھے کہ اس قرآن کو بدل دیا جائے۔ آج کے مشرک یہ مطالبہ کرنے کی جرأت تو نہیں کرتے۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ“ اور ” مِنْ دُوْنِہٖ“ کے الفاظ آئے ہیں ان کا ترجمہ صرف بت ہی کرتے ہیں۔ یقین کے لیے مشرکانہ عقیدہ رکھنے والے کسی بھی مفسر کی تفسیر دیکھی جا سکتی ہے۔ حالانکہ اکثر مقامات پر ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ“ سے مراد بت نہیں زندہ یا فوت شدہ شخصیات ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ آخرت پر حقیقی ایمان نہیں رکھتے۔ اگر ان کا آخرت پر حقیقی ایمان ہو تو ان کے دل اللہ کی ذات، اس کی صفات اور اختیارات کی بات سن کر باغ باغ ہوجانے چاہییں۔ کیونکہ کہ بڑی سے بڑی ہستی کو پیدا کرنے اور اسے شان دینے والا تو صرف ایک ” اللہ“ ہے مشرک کے آخرت پر ایمان کی اس لیے بھی نفی کی گئی ہے کہ اگر اس کا آخرت پر حقیقی ایمان ہو تو ” اللہ“ کی ذات، صفات اور اختیارات کو بلا شرکت غیرے تسلیم کرئے۔ اور اللہ تعالیٰ کی توحید پر مطمئن ہوجائے اور اس کے ذکر پر انقباض کی بجائے خوشی کا اظہار کرتا۔ من دون اللہ سے مراد بزرگ ہیں : (اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْھُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ) [ الاعراف : ١٩٤] ” بے شک جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، وہ تمہاری طرح کے بندے ہیں، تو انہیں پکارو، پس چاہیے کہ تمہاری پکار کو قبول کریں، اگر تم سچے ہو (یعنی وہ تمہاری دعاؤں اور پکار سے بے خبر ہیں۔ ) “ (تفصیل کیلئے دیکھیں میری کتاب ” انبیاء کا طریقہ دعا“ ) من دون اللہ سے مراد علماء، اولیاء اور عیسیٰ ( علیہ السلام) : (اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ) [ توبۃ: ٣١] ” انہوں نے بنا لیا اپنے پادریوں کو راہبوں کو پروردگار اللہ کو چھوڑ کر اور مریم کے فرزند مسیح کو بھی۔“ من دون اللہ سے مراد بت : (قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُون اللَّہِ مَا لَا یَنْفَعُکُمْ شَیْءًا وَلَا یَضُرُّکُمْ )[ الانبیاء : ٦٦] ” ابرہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو کچھ بھی نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتے۔“ مسائل ١۔ اللہ کی توحید پر مشرک ناراض ہوتا ہے۔ ٢۔ اللہ کے سوا دوسروں کے ذکر پر مشرک خوش ہوتا ہے۔ ٣۔ مشرک کا آخرت پر حقیقی ایمان نہیں ہوتا۔ تفسیر بالقرآن من دون کے دلائل : ١۔ میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (یونس : ١٠٤) ٢۔ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (الانعام : ٥٦) ٣۔ کیا میں اللہ کے سوا ان کو پکاروں جو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (الانعام : ٧١) ٤۔ جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں انھوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (النحل : ٢٠) ٥۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے جیسے بندے ہیں۔ (الاعراف : ١٩٤) ٦۔ انہوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا۔ (التوبۃ: ٣١) نوٹ : مشرکین کی توحید سے نفرت کے دلائل کے لیے سورۃ المومن کی آیت ١٢ ملاحظہ فرمائیں!