سورة الزمر - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اللہ کے نام سے جو بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ الزّمر کا تعارف : سورۃ الزّمر مکہ اور اس کے گردوپیش میں نازل ہوئی۔ یہ سورۃ آٹھ رکوع اور پچھتر (75)آیات پر محیط ہے۔ ربط سورۃ: سورۃ صٓ کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ لوگوں کے لیے قرآن مجید ایک نصیحت ہے جو اس نصیحت کا انکار کرتا ہے اسے اپنے انجام کا بہت جلد پتہ چل جائے گا۔ الزّمر کا آغاز اس فرمان سے ہو رہا ہے کہ یہ ذکر ” اللہ“ غالب حکمت والے کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کا پہلا پیغام اور فرمان یہ ہے کہ ایک ” اللہ“ کی عبادت کرو کہ جس طرح اس نے اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ جو لوگ اس فرمان کے ساتھ اختلاف اور تکرار کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کذاب اور ناشکرے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ان میں سرفہرست وہ لوگ ہیں جو اس بات پر اسرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو اپنی اولاد بنا رکھا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی خواہش اور ضرورت نہیں۔ اولاد کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ وہ کمزوری اور مجبوری کے عالم میں ماں باپ کا سہارا ثابت ہو اللہ تعالیٰ ایسی خواہش اور ہر قسم کی کمزوری سے پاک ہے کیونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی ملک اور تابع فرمان ہے اس وضاحت کے باوجود جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بات نہیں مانتے اور اس کی خالص عبادت نہیں کرتے وہ اور اس عقیدہ کی حامل ان کی اولاد قیامت کے دن نقصان پائیں گے۔ ان کے اوپر نیچے آگ ہوگی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس آگ سے ڈراتا ہے تاکہ وہ جہنم کی آگ سے بچ جائیں۔ لیکن مشرک کی حالت یہ ہے کہ جب اس کے سامنے اللہ وحدہ لاشریک کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ تو وہ منہ بسورتا اور ناراض ہوتا ہے۔ جب غیر اللہ کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتا ہے حالانکہ ” اللہ“ ہی زمین و آسمانوں کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی رزق میں کمی، بیشی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ کفار کے کفر اور مشرکوں کے شرک کے باوجود اس کا فرمان ہے کہ اے پیغمبر جن لوگوں نے کفرو شرک اور اپنے رب کی نافرمانیوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے انہیں کھلے الفاظ میں فرمائیں کہ لوگو! تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ میری رحمت سے مایوس نہیں ہونا کیونکہ میں سب گناہوں کو معاف کرنے والا مہربان ہوں لہٰذا ہر حال میں میری طرف رجوع کرو اور عذاب سے پہلے میرے تابع فرمان ہوجاؤ۔ جب میرا عذاب نازل ہوتا ہے تو کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ اے حبیب (ﷺ) ان سے یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ کیا میں اللہ کو چھوڑ کر غیروں کی عبادت کروں حالانکہ اس نے مجھ پر اور مجھ سے پہلے تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) پر وحی بھیجی کہ اگر کسی نبی نے شرک کیا تو اس کے اعمال ضائع کر دئیے جائیں گے اور وہ ہمیشہ کے لیے نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔ جو لوگ شرک کرتے ہیں حقیقت یہ ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ اس کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ قیامت کے دن زمین و آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور کوئی اس کے سامنے بولنے اور دم مارنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ اس دن تیرے رب کے جمال سے زمین منور ہوجائے گی اور لوگوں کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دئیے جائیں گے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو گواہ کے طور پر بلایا جائے گا اور پورے عدل وانصاف کے ساتھ لوگوں کے درمیان فیصلے کر دئیے جائیں گے اور کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہو پائے گا۔ جہنمی جہنم کی طرف گروہ در گروہ جائیں گے جونہی جہنم کے قریب پہنچیں گے تو ان کے لیے جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور جہنم کے ملائکہ ان سے استفسار کریں گے کیا تمہارے پاس انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف نہیں لائے تھے جو تمہیں تمہارے رب کے فرامین پڑھ کر سناتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ کرتے؟ جہنمی اقرار کریں گے کیوں نہیں ہمارے پاس انبیاء کرام تشریف لائے اور انہوں نے ہمیں بار بار سمجھایا لیکن ہم اپنے کفر و شرک پر قائم رہے۔ جہنمیوں کا جواب سن کر ملائکہ کہیں گے تو پھر جہنم میں داخل ہوجاؤ جس میں تم نے ہمیشہ رہنا ہے اور متکبرین کے لیے رہنے کی یہ بدترین جگہ ہے۔ ان کے مقابلے میں جنتیوں کو ارشاد ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔ جونہی جنتی جنت کے دروازوں کے سامنے پہنچیں گے تو ملائکہ جنت کے دروازے کھولتے ہوئے جنتیوں کو سلام کریں گے اور ان سے درخواست کریں گے کہ جنت میں داخل ہوجائیں۔ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ کو عنایت کردی گئی ہے۔ جنتی اس پر اللہ کا شکر ادا کریں گے اس فیصلے کے بعد عدالت کبریٰ ختم کردی جائے گی اور سب پکار اٹھیں گے ہر قسم کی تعریف رب العالمین کے لیے ہے۔