سورة الفاتحة - آیت 4

مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

  بدلے کے دن کا مالک ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن اس سورۃ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی چوتھی صفت جو بیان ہورہی ہے وہ قرآن مجید کا تیسرا مرکزی مضمون ہے۔ اللہ جزاء وسزا کے دن کا مالک ہے۔ قیامت کے دن پر ایمان لانا اسلام کے بنیادی عقائد اور اس کی ابتدائی تعلیم میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت یعنی اس کی ان گنت نعمتوں اور بے پایاں رحمتوں کے تذکرے کے بعد ” مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ“ کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ کہیں انسان اس کی رحمت و شفقت دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجائے کہ مجھے میرے کیے دھرے پر پوچھا ہی نہیں جائے گا اور انسان کو دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ اس فرمان میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اے انسان! ناصرف تجھے موت آنی ہے بلکہ موت کے بعد تو اٹھایا اور اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا پھر تجھے اپنی ایک ایک حرکت اور عمل کا پورا پورا حساب دینا ہے اور جزا یا سزا سے تیرا واسطہ پڑنا ہے۔ قرآن مجید کے عظیم مفسر اور نکتہ دان حضرت امام فخر الدین رازی (رح) لکھتے ہیں کہ سورۃ الفاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسم اعظم کے ساتھ چار صفات کا ذکر فرمایا ہے۔ جس میں یہ واضح کیا ہے کہ اے انسان! میں ہی وہ اللہ ہوں جس نے تجھے پیدا کیا اور میں ہی اپنی آغوش نعمت میں تیری پرورش کرتا ہوں۔ تجھ سے کوئی خطا ہوجائے تو بے پایاں رحمت کے ساتھ تیری پردہ پوشی کرتا ہوں۔ جب تو میری بارگاہ میں معذرت پیش کرتا ہے تو میں ہی تیری خطاؤں کو معاف کرنے والا ہوں۔” مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ“ کی صفت میں یہ اشارہ دیا ہے کہ نیک اعمال کے بدلے قیامت کے دن تجھے پوری پوری جزائے خیر سے نوازا جائے گا۔ مالک کا لفظ استعمال فرما کر یہ واضح کردیا گیا کہ اس دن کا برپا ہونا بدیہی امر ہے۔ اس دن نیک وبد کو سزا دلوانے یا معاف کروانے کا کسی کو اختیار نہیں ہوگا۔ بڑے بڑے سرکش اور نافرمان خمیدہ کمر اور سر جھکائے رب کبریا کی عدالت میں ذلت ورسوائی کی حالت میں پیش کئے جائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دوسرا عکس ہے کیونکہ اس کے بغیر نیکوں کو پوری پوری جزا اور نافرمانوں کو ٹھیک ٹھیک سزا نہیں مل سکتی۔ اس لیے عقیدۂ آخرت ایمان کا اہم جزقرار پایا ہے۔ اس دن انبیائے کرام (علیہ السلام) بھی نفسا نفسی کے عالم میں ہوں گے اور رب ذوالجلال دنیا کے سفّاک، ظالم اور متکبر حکمرانوں اور انسانوں کو اس طرح خطاب کرے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زمینوں اور آسمانوں کو یکجا کرکے اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے فرمائیں گے کہ میں ہی بادشاہ ہوں۔ ظالم وسفّاک اور نخوت وغرور رکھنے والے آج کہاں ہیں ؟ (یَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ.) (رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار ) دین کے معانی : اطاعت وبندگی۔ (الزمر : ١١) شریعت : (یونس : ١٠٤) قانون : (یوسف : ٧٦) حکمرانی : (المومن : ٥٦) جزاء وسزا (بدلہ): (الذاریات : ٦) مسائل ١۔ قیامت کے برپا ہونے میں کوئی شک نہیں اس دن نیکوں کو جزا اور بروں کو سزا ملے گی۔ ٢۔ قیامت کے دن پر ایمان لانا فرض ہے۔ تفسیر بالقرآن قیامت برپا ہو کر رہے گی : ١۔ قیامت قریب ہے۔ (الحج : ١) ٢۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ آج کس کی بادشاہی ہے؟۔ (المومن : ١٦) ٣۔ قیامت کے دن کوئی کسی کو فائدہ نہیں دے سکے گا۔ (الانفطار : ١٩) ٤۔ قیامت کے دن ” اللہ“ ہی کی بادشاہی ہوگی۔ (الفرقان : ٢٦) ٥۔ قیامت کے دن ” اللہ“ ہی فیصلے صادر فرمائے گا۔ (الحج : ٥٦) مختلف مراحل کے حوالے سے قیامت کے اہم ترین نام : ١۔ اَلسَّاعَۃُ (الاعراف : ١٨٧) گھڑی ( مقرر وقت) ٢۔ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ (البقرۃ: ١١٣) کھڑے ہونے کا دن (مُردوں کے کھڑے ہونے کا دن) ٣۔ اَلْیَوْمُ الْحَقُّ (النباء : ٣٩) سچا دن (جس کے آنے میں نہ کوئی شک ہے اور نہ اس دن کسی فیصلہ میں کوئی غلطی ہوگی) ٤۔ یَوْمٌ مَّعْلُوْمٌ (الشعراء : ٣٨) جانا ہوا دن یا مقررہ دن) ٥۔ اَلْوَقْتُ الْمَعْلُوْمُ (الحجر : ٣٨) جانا ہوا وقت یا مقررہ وقت) ٦۔ اَلْیَوْمُ الْمَوْعُوْدُ (البروج : ٢) وعدے کا دن) ٧۔ اَلْیَوْمُ الْاٰخِرُ (النساء : ٣٨) پچھلا دن) ٨۔ یَوْمُ الْاٰزِفَۃِ (المومن : ١٨) قریب آنے والی مصیبت کا دن) ٩۔ یَوْمٌ عَسِیْرٌ (المدثر : ٩) سخت دن) ١٠۔ یَوْمٌ عَظِیْمٌ (الانعام : ١٥) بڑا دن) ١١۔ یَوْمٌ عَصِیْبٌ (ہود : ٧٧) سخت دن) ١٢۔ یَوْمُ الْبَعْثِ (الروم : ٥٦) جی اٹھنے کا دن) ١٣۔ یَوْمُ التَّلَاقِ (المومن : ١٥) ( افسوس کا دن) ١٤۔ یَوْمُ التَّلَاقِ (المومن : ١٥) باہم ملنے کا دن) ١٥۔ یَوْمُ التَّنَادِ (المومن : ٣٢) پکار کا دن) ١٦۔ یَوْمُ الْجَمْعِ (الشوری : ٧) اکٹھا ہونے کا دن) ١٧۔ یَوْمُ الْحِسَابِ (ص : ١٦) حساب کا دن ١٨۔ یَوْمُ الْحَسْرَۃِ (مریم : ٣٩) حسرت کا دن ( ١٩۔ یَوْمُ الْخُرُوْجِ (ق : ٤٢) قبروں سے) نکلنے کا دن ) ٢٠۔ یَوْمُ الْفَصْلِ (الدخان : ٤) فیصلے کا دن) ٢١۔ اَلْقَارِعَۃُ (القارعۃ: ١) کھڑکھڑانے والی) ٢٢۔ اَلْغَاشِیَۃُ (الغاشیۃ: ١) چھا جانے والی) ٢٣۔ اَلطَّآمَّۃُ الْکُبْریٰ (النازعات : ٣٤) بڑی مصیبت) ٢٤۔ اَلنَّبَأُ الْعَظِیْمُ (النباء : ٢) بڑی خبر) ٢٥۔ اَلْحَآقَّۃُ (الحاقۃ: ١) ضرور آنے والی گھڑی) ٢٦۔ اَلْوَعْدُ (الانبیاء : ٣٨) وعدہ) ٢٧۔ اَلْوَاقِعَۃُ (الواقعۃ: ١) وقوع پذیرہونے والا) ٢٨۔ اَمْرُ اللّٰہِ (الحدید : ١٤) اللہ کا حکم) ٢٩۔ اَلصَّآخَّۃُ (عبس : ٣٤) بہرہ کرنے والی گھڑی) ٣٠۔ یَوْمُ الدِّیْنِ (الفاتحۃ: ٣) بدلے کا دن) ٣١۔ یَوْمٌ کَبِیْرٌ (ہود : ٣) بڑا دن) ٣٢۔ یَوْمٌ اَلِیْمٌ (ہود : ٢٦) دردناک دن) ٣٣۔ یَوْمٌ مُّحِیْطٌ (ہود : ٨٤) گھیرنے والا دن) ٣٤۔ یَوْمٌ مَّشْہُوْدٌ (ہود : ١٠٣) حاضری کا دن)