سورة الصافات - آیت 174

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

سو ایک وقت تک ان سے منہ موڑ لے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے ساتھ بھی اللہ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا اس لیے آپ کو ان سے الجھنے کی بجائے ایک وقتتک ان سے اعراض اور انتظار کرنا چاہیے۔ بے شک یہ آپ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن آپ ان کو ایک وقت کے لیے صرف نظر فرمائیں کیونکہ عنقریب یہ کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ لیں گے کہ ہمارا عذاب ان کو کس طرح آلیتا ہے۔ جہاں تک دنیا کی پکڑ کا معاملہ ہے جب ہم نے انہیں ذلیل کرنے کا فیصلہ کرلیا تو پھر کوئی طاقت انہیں بچانے والی نہ ہوگی۔ لہٰذا جب اللہ کے وعدے کا وقت آن پہنچا تو نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح اہل مکہ اور یہود ونصارٰی پر غالب آئے کہ کوئی دم مارنے کی جرأت نہ کرسکا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس ہزار کا لشکر جرار لے کر مکہ کا محاصرہ کیا تو چڑیا بھی پر نہیں مار سکی تھی اور دنیا جان گئی کہ مکہ کے بڑے بڑے سردار آپ سے معافی کے خواستگار ہوئے۔ اور آپ نے انہیں معاف کرتے ہوئے فرمایا کہ جاؤ تم آزاد ہو تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ جہاں تک یہودیوں کا معاملہ ہے۔ انہیں ہمیشہ کے لیے مدینہ سے نکال باہر کیا اور جب خیبرکا محاصرہ کیا تو شہر کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی۔ (فَاِِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِہِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ) [ الصّٰفّٰت : ١٧٧] ” جب عذاب کا نزول کسی کے آنگن میں ہوتا ہے تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بڑی بھیانک ہوتی ہے۔“ سلطنت رومہ کا اس طرح برا حال ہوا کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیس ہزار کالشکر لے کرتبوک کے میدان میں اترے تو اس وقت کی واحد سیاسی اور عسکری طاقت روم بھی آپ کا سامنا کرنے کی جرأت نہ کرسکا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے عسکری، اخلاقی اور دینی طور پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کامیابیوں سے سرافراز فرمایا اور صرف تیئس سال میں امن وسکون کا وہ انقلاب آیا جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ مسائل ١۔ اے نبی ! کفار آپ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں آپ ان کی بات پر توجہ نہ دیں۔ ٢۔ کافر اللہ تعالیٰ کے عذاب میں جلدی کرتے ہیں۔ ٣۔ عنقریب کافر اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ تفسیر بالقرآن کفارکا انجام : ١۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : ٣٥) ٢۔ کفار کے چہرے کالے ہوں گے اور جنتیوں کے چہرے پرنور ہوں گے۔ (آل عمران : ١٠٦۔ ١٠٧) ٣۔ کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الزخرف : ٧٤) ٤۔ مجرم کے لیے جہنم ہے۔ (طٰہٰ: ٧٤) ٥۔ کفار کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی اور متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : ٢٦۔ ٢٧) ٦۔ زمین میں چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (النحل : ٣٦) ٧۔ ہم نے ان سے انتقام لیا دیکھئے جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (الزخرف : ٢٥) ٨۔ قیامت کے دن منکرین کے لیے ہلاکت ہے۔ (الطور : ١١) ٩۔ منکرین کے لیے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ہے۔ (الواقعۃ: ٩٢) ١٠۔ کفار سے فرما دیں کہ عنقریب تم مغلوب ہوگے اور تمہیں جہنم کی طرف اکٹھا کیا جائے گا۔ (آل عمران : ١٢) ١١۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ (النساء : ٩٧) ١٢۔ کفار کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ اس میں انہیں موت نہیں آئے گی۔ (فاطر : ٣٦) ١٣۔ مجرم لوگ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ (الزخرف : ٧٤) ١٤۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے جب اس کی آگ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اس کو اور بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : ٩٧)