سورة الصافات - آیت 50

فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

پھر ان کے بعض بعض کی طرف متوبہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جنت میں بیٹھے ہوئے جنتیوں کا جہنمیوں کے ساتھ ہم کلام ہونا۔ جنتی حضرات جنت میں کھانے پینے اور خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے۔ اس ماحول میں اچانک ایک جنتی دوسرے سے کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو مجھے کہا کرتا تھا کہ کیا تو بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جب ہماری ہڈیاں مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گی تو ہمیں اٹھا کر سزا یا جزا دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ساتھیوں سے کہے گا کیا اسے دیکھنا چاہتے ہو ؟ یہ کہنے کے بعد وہ نظر اٹھائے گا تو اسے اس کا ساتھی جہنم میں جلتا ہوا دکھائی دے گا۔ کچھ اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ کیا اپنے ساتھی کو دیکھنا چاہتے ہو تب جنتی اس جہنّمی کو مخاطب کرتے ہوئے کہے گا کہ اللہ کی قسم۔ اگر مجھ پر میرے رب کا کرم نہ ہوتا تو تو مجھے بھی ہلاک کرچکا ہوتا۔ جس طرح تم سزا پارہے ہو اس طرح میں بھی تیرے ساتھ اس عذاب میں مبتلا ہوتا۔ اس کے ساتھ ہی وہ کہے گا کہ ہم نے ایک دفعہ مرنا تھا سو مر چکے اب ہمیں نہ موت آئے گی اور نہ ہی کسی قسم کی تکلیف پہنچے گی۔ یہ ہم پر اللہ کا عظیم فضل ہوا ہے جو بہت بڑی کامیابی ہے۔ یہ فضل اور کامیابی پانے کے لیے ہر کسی کو اس جیسے اعمال کرنے چاہییں۔ قرآن مجید نے یہ بات دو ٹوک انداز میں بتلائی ہے کہ جنتی جنت میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور جہنمی جہنم میں ابدی سزا پائیں گے۔ کیونکہ موت کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ جہاں تک کہ آخری آیت کے مفہوم کا تعلق ہے یہ جنتی کی زبان میں ایک پیغام ہے جو لوگوں کو دیا گیا ہے تاکہ لوگ جنت کے لیے صحیح عقیدہ اور صالح اعمال اختیار کریں۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُجَاٗٗءُ بالْمَوْتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَنَّہُ کَبْشٌ أَمْلَح۔۔ یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ ہَلْ تَعْرِفُوْنَ ہَذَا فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَیَنْظُرُوْنَ وَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ہَذَا الْمَوْتُ قَالَ وَیُقَالُ یَا أَہْلَ النَّارِ ہَلْ تَعْرِفُوْنَ ہَذَا قَالَ فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَیَنْظُرُوْنَ وَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ہَذَا الْمَوْتُ قَالَ فَیُؤْمَرُ بِہِ فَیُذْبَحُ قَالَ ثُمَّ یُقَالُ یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ وَیَا أَہْلَ النَّارِ خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ) [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ] ” حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا موت قیامت کے دن مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ابو کریب نے کچھ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان روک لیا جائے گا۔ پھر جنتیوں سے کہا جائے گا کیا تم اسے پہچانتے ہو تو وہ اسے پہچاننے کی کوشش کریں گے۔ اس کی طرف دیکھیں گے اور کہیں گے ہاں یہ موت ہے۔ جہنمیوں سے کہا جائے گا کیا تم بھی اسے پہچانتے ہو وہ بھی پہچاننے کی کوشش کریں گے غور سے دیکھ کر کہیں گے ہاں یہ موت ہے پھر حکم ہوگا۔ اسے ذبح کردیا جائے گا پھر کہا جائے گا اے جنتیوتم جنت میں ہمیشہ رہوتمہیں موت نہیں آئے گی۔ اے جہنمیو! تم بھی جہنم میں ہمیشہ رہو تمہیں بھی موت نہیں آئے گی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت کی انہیں حسرتوں والے دن سے ڈرائیں جب فیصلہ کیا جائے گا جس کے بارے میں وہ غفلت میں ہیں اور یہ ایمان نہیں لائیں گے۔“ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہنم طول و عرض، گہرائی اور بالا خانوں کے اعتبار سے لا محدود ہوگی لیکن جونہی جنتی کسی جہنمی سے ہم کلام ہونے کی خواہش کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی یہ خواہش بھی پوری فرما دے گا تاکہ جنتی کو اللہ کی رحمت اور اس کے انعامات کا احساس ہو اور جہنمی کی اذیت میں اضافہ ہوجائے جہنمی کہے گا کاش! میں ” لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ“ پڑھتا اور اس کے تقاضے پورے کرتا تو آج اپنے ساتھی کی طرح جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رہتا۔ جنتیوں کی جہنمیوں کے ساتھ گفتگو : ” جنتی باغوں میں ہوں گے مجرموں سے پوچھیں گے کہ تم جہنم میں کس وجہ سے داخل ہوئے ؟ وہ کہیں گے ہم نماز ادا نہیں کرتے تھے اور ہم مسا کین کو کھانا نہ کھلاتے تھے اور کاموں میں لگے رہتے تھے اور ہم یوم جزا کا انکار کرتے تھے یہاں تک کہ ہمیں اس کا یقین ہوگیا۔“ (المدثر : ٤٠ تا ٤٨) مسائل ١۔ جنتیوں کو جہنمیوں سے ہم کلام ہونے کا موقع دیا جائے گا۔ ٢۔ جنتیوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے گی۔ ٣۔ جنت میں داخلہ نصیب ہونا سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ٤۔ سب لوگوں کو جنتیوں والے اعمال کرنے چاہییں۔ ٥۔ قیامت کو زندہ ہونے کے بعد موت نہیں آئے گی۔ تفسیر بالقرآن سب سے بڑی کامیابی : ١۔ ” اللہ“ کا انسان کو ہمیشگی والی جنت میں داخل فرمانابڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ: ٨٩) ٢۔ اللہ تعالیٰ کا مومنین کو باغات عطا کرنا اور اپنی رضا مندی کا سر ٹیفکیٹ عطا فرمانابڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ: ٧٢) ٣۔ اللہ تعالیٰ کا مومنین کے ساتھ ان کی جانوں اور مالوں کے بدلے جنت کا سودا فرمانا۔ (التوبۃ: ١١١) ٤۔ اللہ تعالیٰ پہ ایمان لانا اور اسی سے ڈرنا اور اللہ تعالیٰ کا انھیں بشارت سے نوازنا۔ (یونس : ٦٣ تا ٦٤) ٥۔ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی سے برائی سے بچ جانا کامیابی ہے۔ (المومن : ٩) ٦۔ ہمیشہ رہنے والے باغات اور رہائش گاہوں کا وعدہ فرمانا۔ (الصف : ١٢)