سورة يس - آیت 55

إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَاكِهُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک جنت کے رہنے والے آج ایک شغل میں خوش ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی حواس باختہ، پریشان اور انتہائی ذلت میں ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں جنتی چمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ ہشاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے۔ مجرموں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا جن کے لیے اعلان ہوگا کہ آج تم پر کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ جنتیوں کا ذکر کرتے ہوئے محشر کے دن کے مختلف مراحل کا ذکر چھوڑ کر انہیں خوشخبری سنائی گئی ہے کہ آج تمہیں جنت میں داخل کیا جاتا ہے جس میں تم ایک دوسرے کے سامنے صوفوں پر خوش و خرم بیٹھے ہوئے خوش گپیاں کرو گے اور جو چاہو گے وہ پاؤ گے۔ قبروں سے نکلتے ہی جہنمیوں اور جنتیوں کے درمیان واضح فرق دکھائی دے گا۔ جہنمیوں کے چہروں پر ذلت اور نحوست چھائی ہوگی۔ جنتیوں کے چہروں پر نور اور خوشی پھوٹ رہی ہوگی۔ جہنمیوں کو رسوا کرکے محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا۔ ان میں سے کثیر تعداد کو منہ کے بل چلا کر محشر کے میدان میں لے جایا جائے گا اور ان کے پیچھے آگ لگی ہوگی۔ ان کے مقابلے میں جنتیوں کو درجہ بدرجہ سواریاں مہیا کیں جائیں گی۔ ان میں سے ایسے بھی خوش قسمت ہوں گے جو آنکھ جھپکنے سے پہلے محشر کے میدان میں پہنچادیئے جائیں گے۔ جہنمیوں کو دبر کی طرف سے بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دئیے جائیں گے جنتیوں کو دائیں ہاتھ میں پیش کیے جائیں۔ جہنمی اپنے اعمالنامے دیکھ کر اپنے ہاتھ کاٹیں گے جنتی اعمالنامے دیکھ کر خوش ہونگے اور اپنے عزیزواقربا کو دکھائیں گے۔ حساب و کتاب کے بعد اعلان ہوگا کہ جنتیوں اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ۔ جنتی جنت میں اپنی بیویوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے۔ ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ ان کے دل میں جو بھی چاہت پیدا ہوگی پوری کردی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر سلامتی نازل ہوگی اور ملائکہ انہیں سلام پیش کریں گے۔ ( عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہَلْ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ خَیْلٍ قَالَ إِنِ اللَّہُ أَدْخَلَکَ الْجَنَّۃَ فَلاَ تَشَاءُ أَنْ تُحْمَلَ فیہَا عَلَی فَرَسٍ مِنْ یَاقُوتَۃٍ حَمْرَاءَ یَطِیرُ بِکَ فِی الْجَنَّۃِ حَیْثُ شِءْتَ إِلاَّ فَعَلْتَ قَالَ وَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہَلْ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ إِبِلٍ قَالَ فَلَمْ یَقُلْ لَہُ مِثْلَ مَا قَالَ لِصَاحِبِہِ قَالَ إِنْ یُدْخِلْکَ اللَّہُ الْجَنَّۃَ یَکُنْ لَکَ فیہَا مَا اشْتَہَتْ نَفْسُکَ وَلَذَّتْ عَیْنُکَ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ خَیْلِ الْجَنَّۃِ] ” حضرت سلیمان بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے آپ نے فرمایا اللہ تجھے جنت میں داخل کرے۔ اگر تیری جنت میں یہ چاہت ہوئی کہ تو سرخ یاقوت سے مزین گھوڑے پر سوارہو۔ تو گھوڑے تجھے جنت میں لیے اڑتے پھریں گے تیری یہ خواہش بھی پوری ہوجائے گی۔ ایک اور آدمی نے پوچھا کیا جنت میں اونٹ ہوں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بھی پہلے شخص جیسا جواب دیا اس کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے جنت میں داخل کردیاتو تجھے جنت میں وہ کچھ ملے گا جو تیرا جی چاہے گا اور جو تیری آنکھ کو بھائے گا۔“ مسائل ١۔ جنتی جنت میں ہشاش بشاش اور آپس میں شغل مغل کریں گے۔ ٢۔ جنت میں میاں بیوی صوفوں پر بیٹھے ہوئے جو چاہیں گے وہ پائیں گے۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں کو سلامیاں پیش کی جائیں گی : ١۔ جنتی جنت میں آپس میں ملاقات کے وقت اللہ کی تسبیح بیان کریں گے اور سلام کہیں گے۔ (یونس : ١٠) ٢۔ جنتیوں کا ایک دوسرے کو تحفہ سلام ہوگا۔ (الاحزاب : ٤٤) ٣۔ جنتیوں کو بالاخانے ملیں گے اور وہ آپس میں ملتے وقت دعا و سلام کریں گے۔ (الفرقان : ٧٥) ٤۔ ملائکہ جنتیوں کو سلام کہتے ہوئے کہیں گے کہ جنت کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ۔ (الرعد : ٢٣۔ ٢٤) ٥۔ فرشتے کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو اپنے اعمال کے بدلے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (النحل : ٣٢) ٦۔ جنت کے دربان کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو مزے سے رہو اور ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (الزمر : ٧٣)