سورة يس - آیت 33

وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ایک نشانی ان کے لیے مردہ زمین ہے، ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے غلہ نکالا تو وہ اسی میں سے کھاتے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : ہلاک ہونے والے باغیوں اور نافرمانوں کا خیال تھا کہ مرنے کے بعد ہمیں کوئی اٹھا نہیں سکے گا۔ لہٰذا مارنے کے بعد اٹھا لینے کی دلائل اور مشاہدات پیش کیے جاتے ہیں۔ انسان! اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان ہو یا نافرمان ہر کوئی اسی زمین پر رہتا اور مرتا ہے۔ موت کے بعد زندہ ہونے کی مثال زمین اور لیل و نہار سے پیش کی جاتی ہے۔ جس کا ہر شخص صبح و شام زندگی بھر مشاہدہ کرتا ہے۔ زمین پر غور فرمائیں تو بظاہر یہ بے جان دکھائی دیتی ہے۔ دیکھنے میں اس میں کوئی حِس و حرکت دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ اسے نہ صرف بارش سے زندہ کرتا ہے بلکہ اَن گنت مخلوق کی زندگی کا سبب بھی بنا دیتا ہے۔ بارش سے پہلے زمین مردہ ہوتی ہے۔ جوں ہی یہ سیراب ہوتی ہے تو اپنے پیٹ میں چھپائے ہوئے بیج کو اس طرح اپنے سینے پر سجا لیتی ہے کہ جس کا اس سے پہلے تصور کرنا محال تھا۔ خاص طور پر ویران زمین پر غور کریں کہ بارش سے پہلے آدمی سوچتا ہے کہ یہ زمین بھی سر سبزو شاداب ہوسکے گی لیکن جوں ہی بارش ہوتی ہے تو اس طرح سبزہ اگاتی ہے کہ دیکھنے والا ” اللہ“ کی قدرت پر عش عش کر اٹھتا ہے۔ بالخصوص ایک زمیندار کو اس پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ کس طرح وہ زمین میں دانہ ڈالتا ہے اور اس کے سامنے کس طرح بیج اگتا، پودا بنتا اور پھل دیتا ہے۔ پھر یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ زمین، پانی، فضا اور ہوا ایک ہی ہوتی ہے لیکن ہر بیج اپنی جوہری صلاحیت کی بنیاد پر اگتا، پرورش پاتا اور پھل دیتا ہے۔ جس کے لیے چار چیزوں کا قدرت کاملہ نے اہتمام کیا ہے جو کسی زرعی سائنسدان اور حکمران کے بس کی بات نہیں۔1۔ زمین کو ایک خاص حد تک نرم رکھنا۔ یہاں تک کہ پہاڑ کے سینے میں بھی یہ نرمی رکھی گئی ہے کہ وہ بیج کو اگائے جس کا مشاہدہ ہم پہاڑوں پر اگنے والے بلندو بالا اور سرسبزو شاداب درختوں کی صورت میں کرتے ہیں۔2۔ بارش، شبنم، چشموں اور ندی نالوں کے ذریعے زمین کو سیراب کرنا اور اس میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ 3۔ ہوا میں ایک مخصوص مقدار میں نمی قائم رکھنا اور ہوا کے ذریعے نردرختوں کے جرثوموں کو مادہ درختوں تک پہنچانا اور پھر اسے ہائیڈروجن مہیا کرنا۔ 4۔ سورج کے ذریعے زمین میں پڑے ہوئے بیج کو ایک خاص مقدار سے حرارت دینا اور فصلوں، پودوں اور درختوں تک سورج کی توانائی کو پہنچانا۔ اس سارے نظام میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا عمل دخل نہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں، چوپاؤں، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کی روزی کا بندوبست فرمایا ہے۔ اس نظام پر انسان معمولی سا بھی غور کرے تو اسے توحید باری تعالیٰ کی سمجھ آسکتی ہے۔ اس حیرت انگیز انتظام پر جو شخص بھی غور کرے گا بشرطیکہ وہ ہٹ دھرمی اور تعصّب میں مبتلا نہیں تو اس کا دل گواہی دے گا کہ یہ سب کچھ آپ سے آپ نہیں ہوسکتا۔ اس میں صریح طور پر ایک حکیمانہ منصوبہ کام کررہا ہے جس کے تحت زمین، پانی، ہوا اور موسم کی مناسبتیں نباتات کے ساتھ اور نباتات کی مناسبتیں حیوانات اور انسانوں کی حاجات کے ساتھ، انتہائی نزاکتوں اور باریکیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے قائم کی گئی ہیں۔ کوئی ہوش مند انسان یہ تصور نہیں کرسکتا کہ ایسی ہمہ گیر مناسبتیں محض حادثہ کے طور پر قائم ہوسکتی ہیں۔ پھر یہی انتظام اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ یہ بہت سے خداؤں کا کارنامہ نہیں ہوسکتا۔ یہ تو ایک ہی ایسے خدا کا انتظام ہے اور ہوسکتا ہے جو زمین، ہوا، پانی، سورج، نباتات، حیوانات اور نوع انسانی میں سے سب کا خالق و مالک ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے خدا الگ الگ ہوتے تو کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک جامع، ہمہ گیر اور گہری حکیمانہ مناسبتیں رکھنے والا منصوبہ بن جاتا اور لاکھوں کروڑوں برس تک اتنی باقاعدگی سے چلتا رہتا۔ (تفہیم القرآن، سورۃ یٰسٓ ) توحید کے حق میں دلائل دینے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :” اَفَلَا یَشْکُرُوْنَ“ کیا جس رب نے سب سامان ان کے لیے مہیا کیا ہے اس کے یہ شکرگزار نہیں ہوتے اور اس کی نعمتیں کھا کھا کر دوسروں کے شکریے ادا کرتے ہیں؟ اس کے آگے نہیں جھکتے اور ان معبودوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں جنہوں نے ایک تنکا بھی ان کے لیے نہیں پیدا کیا۔ مسائل ١۔ مردہ زمین کو زندہ کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ ٢۔ اللہ ہی زمین کو زندہ کرنے والا اور اس سے اناج نکالنے والاہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی زمین سے بیج اگاتا ہے : ١۔ بھلا دیکھو جو کچھ تم بوتے ہو کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں۔ (الواقعۃ: ٦٣۔ ٦٤) ٢۔ اللہ تعالیٰ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : ١١) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنون : ١٩) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : ٩٩) ٥۔ اللہ نے باغات، کھجور کے درخت اور کھیتی پیدا کی جوذائقہ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ (الانعام : ١٤١) ٦۔ تمہارے لیے مسخر کیا نباتات کو زمین پر پھیلاکر، ان کی اقسام مختلف ہیں۔ (النحل : ١٣)