سورة يس - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اللہ کے نام سے جو بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

یٰس کا تعارف سورہ یٰس مکی دورکے آخر میں نازل ہوئی۔ پانچ رکوع اور تراسی آیات پر مشتمل ہے۔ ربط سورۃ: سورۃ فاطر کا اختتام اس انتباہ پر ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے جرائم کی وجہ سے پکڑنے پر آئے تو زمین میں انسان ہی نہیں بلکہ چوپائے بھی نہ بچ سکیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک وقت تک لوگوں کو مہلت دے رکھی ہے جب اس مہلت کا وقت ختم ہوگا تو اللہ تعالیٰ سب لوگوں کے سامنے پیش کر دے گا کیونکہ وہ اپنے بندوں کو ہر حال میں دیکھنے والا ہے۔ سورۃ یٰس کا آغاز اس فرمان سے شروع ہوا کہ اے رسول لوگوں کی ہرزہ سرائی پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آپ اپنے رب کے نزدیک لوگوں کے لیے قائد اور سردار ہیں اور آپ انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں لہٰذا اپنا کام جاری رکھیں اور ” اللہ“ پر بھروسہ رکھیں۔ (عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ لِکُلِّ شَیْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ یسَ مَنْ قَرَأَ یس کَتَبَ اللَّہُ لَہُ بِقِرَاءَتِہَا قِرَاءَ ۃَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ وَقَالَ أَبُو عیسَی ہَذَا حَدِیثٌ غَرِیبٌ)[ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی فَضْلِ یٰسٓ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر چیز کا دل ہوتا ہے قرآن کا دل سورۃ یٰسٓ ہے جوایک دفعہ سورۃ یٰس پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب لکھ دیتا ہے۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَرَأَ طہ ویس قَبْلَ أَنْ یَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بِأَلْفِ عَامٍ، فَلَمَّا سَمِعْتِ الْمَلاَءِکَۃُ الْقُرْآنَ قَالَتْ طُوبَی لأُمَّۃٍ یَنْزِلُ ہَذَا عَلَیْہَا، وَطُوبَی لأَجْوَافٍ تَحْمِلُ ہَذَا، وَطُوبَی لأَلْسِنَۃٍ تَتَکَلَّمُ بِہَذَا) [ رواہ الدارمی : باب فِی فَضْلِ سُورَۃِ طہ ویس (لم تتم دراستہ)] ” حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے ہزار سال پہلے سورۃ طٰہ اور یٰس کی تلاوت فرمائی۔ فرشتوں نے قرآن کی تلاوت سنی تو کہنے لگے اس امت کے لیے خوشخبری ہو جس پر یہ قرآن نازل ہوگا، ان سینوں کے لیے مبارک ہو جو اس قرآن کو اٹھائیں گے اور ان زبانوں کو خوش آمدید ہو جو اس قرآن کی تلاوت کریں گی۔“ سورہ یٰسکے پہلے دورکوع میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا ثبوت دیا گیا ہے جس کی ابتدا اس طرح کی ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ سردار ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں اس سے پہلے ڈرانے والا نہیں آیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی کیونکہ ان کی گردنوں میں جہالت کے طوق پڑچکے ہیں اس لیے ان کو سمجھانا یا نہ سمجھانا برابر ہوچکا ہے۔ ان کے سامنے اس بستی کا ذکر کریں جس میں اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے تین پیغمبر بھیجے۔ بستی والوں نے ان پر ایمان لانے کی بجائے یہ دھمکی دی کہ کہ ہم تمہیں پتھر مار مار کر ختم کردیں گے۔ پیغمبروں کی تائید کے لیے اسی بستی کے مضافات سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے اس بستی والوں کو سمجھایا لیکن انہوں نے اسے شہید کردیا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے جنّت میں داخل کیا اور اس کے پیغام کو قرآن مجید میں ذکر فرمایا۔ سورت کے تیسرے اور چوتھے رکوع میں ہر قسم کی نباتات اور شمس و قمر کا حوالہ دے کر ثابت کیا ہے کہ جس طرح چاند اور سورج طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور مردہ زمین سے نباتات اگتی ہیں یہی انسان کی زندگی کا معاملہ ہے اور اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو اٹھائے گا۔ جوں ہی اسرافیل دوسرا صور پھونکے گا تو لوگ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف اس طرح جائیں گے جس طرح تیر اپنے نشانے پر جاتا ہے۔ جوں ہی لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو قیامت کا انکار کرنے والے اپنے آپ پر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم پر افسوس ! ہم قیامت کا انکار کرتے تھے حالانکہ انبیائے کرام (علیہ السلام) صحیح فرماتے تھے۔ اس دن جنتی لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ مسندوں پر بیٹھے ہوئے خوش گپیوں میں مشغول ہوں گے اور جو چاہیں گے ان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ان پرربّ کریم کی مسلسل اور ہمیشہ ہمیش کرم نوازیاں ہوتی رہیں گی۔ ان کے مقابلے میں مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کرکے پوچھا جائے گا کیا تم سے یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ شیطان کی پیروی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے مگر تم نے اپنے عہد کی پاسداری نہ کی لہٰذا جہنّم میں داخل ہوجاؤ۔ سورہ یًٰس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شعروشاعری نہیں سکھلائی اور نہ ہی آپ کی شان ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے شعرگوئی کریں۔ اس لیے قرآن مجید شاعرانہ تخیّل نہیں ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کہ تمہاری موت کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اگر تمہیں اس بات پر یقین نہیں آتا تو اپنی پیدائش پر غور کرو اور زمین و آسمان کو دیکھو ! جس رب نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا وہ دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا؟ اگر انہیں اس بات پر یقین نہیں آتا تو انہیں بتلائیں اور سمجھائیں وہی رب دوبارہ پیدا کرے گا جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو بغیر نمونے کے پیدا کیا ہے۔ اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ اپنی مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے کیونکہ وہ سب کچھ پیدا کرنے والا اور ہر بات کا علم رکھنے والا ہے جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو صرف ” کُنْ“ کا حکم صادر فرماتا ہے اور وہ کام بالکل اس کی مرضی کے مطابق ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی کمزوری سے پاک ہے اور زمین و آسمانوں کی ہر چیز اس کے قبضۂ قدرت میں ہے اور تم سب نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔