سورة آل عمران - آیت 75

وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِقِنطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ وَمِنْهُم مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لَّا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اہل کتاب میں سے بعض وہ ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک خزانہ امانت رکھ دے وہ اسے تیری طرف ادا کر دے گا اور ان میں سے بعض وہ ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک دینار امانت رکھے وہ اسے تیری طرف ادا نہیں کرے گا مگر جب تک تو اس کے اوپر کھڑا رہے، یہ اس لیے کہ انھوں نے کہا ہم پر اَن پڑھوں کے بارے میں (گرفت کا) کوئی راستہ نہیں اور وہ اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب کی علمی خیانت کے بعد مالی بددیانتی کا تذکرہ۔ اہل کتاب کا کثیر طبقہ ہمیشہ سے علمی خیانت کے ساتھ مالی بددیانتی کا شکار رہا ہے۔ اس کی وجہ دین سے لاعلمی، بشری کمزوری اور صرف مالی ہوس نہیں۔ بلکہ بنیادی سبب ان کا یہ عقیدہ ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر اس لیے ایمان نہیں لاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ ہم موسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ کسی کو رسول تسلیم نہ کریں۔ اسی طرح ان کا یہ نظریہ بھی ہے کہ غیر یہودی اور اَن پڑھ لوگوں کے بارے میں ہمیں پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ ان کا مال لوٹنا ہمارے لیے جائز ہے۔ ان کے نزدیک اَن پڑھ سے مرادخاص طور پر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہے۔ ان کی کتابوں میں یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کسی یہودی کے ہاں ایسا مقدمہ پیش ہو جس میں ایک فریق غیر یہودی ہو تو یہودی جج کا فرض ہے کہ وہ ہر طریقے سے اپنے یہودی بھائی کو فائدہ پہنچائے۔ یہاں تک کہ ان کے ہاں غیر یہودی کو قتل کرکے اس کا مال ہڑپ کرنا بھی جائز ہے۔ اس باطل نظریے کی وجہ سے ان میں اس قدر بے باکی پیدا ہوئی کہ اگر اس نظریہ کے حامل لوگوں کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اسے غصب کرنا شرعی حق اور ہر قسم کی عہد شکنی کو اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ امانت رکھنے والا ان کے سر پر سوار ہوجائے بصورت دیگر ان سے امانت کی واپسی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر اس خیانت اور بددیانتی کا جواز تورات سے پیش کرتے ہیں۔ اس کا دوسرے لفظوں میں مطلب یہ ہے کہ وہ دین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خیانت کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ قرآن مجید کی انصاف واصول پسندی پر قربان جائیے کہ اس نے یہودیوں میں جودیانتدار لوگ ہیں ان کو یہ کہہ کر مستثنیٰ قرار دیا ہے کہ ان میں دیانت دار بھی ہیں۔ جن کے پاس ایک خزانہ بھی رکھ دیا جائے تو وہ اس کی پائی پائی لوٹانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ امام رازی (رض) فرماتے ہیں کہ یہی لوگ ہی آپ کی نبوت پہ ایمان لانے والے ہیں۔ یہودیوں کے بارے میں اسرائیلی اخباروبزنس ڈیٹاکی رپورٹ : یہ یہودی فلاسفی ہے‘ کہ یہودی دنیا میں اعتماد‘ یقین‘ لین دین‘ وعدے وعید اور پیسے روپے کے معاملہ میں بدترین قوم ہیں۔ چاروں آسمانی کتابیں متفق ہیں کہ یہودی وعدے کے کمزور ہوتے ہیں۔ بات کر کے مکر جانا ان لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے اور پانچ ہزار سال کی تاریخ بتاتی ہے یہ لوگ جس جگہ رہتے ہیں اس جگہ کا امن و سکون اور اطمینان غارت ہوجاتا ہے وہ جگہ ” دارالحرب“ بن جاتی ہے۔ اس جگہ جنگیں اور لڑائیاں ہوتی ہیں۔ یہ ان لوگوں پر وہ سیاہ دھبے ہیں۔ جنہیں شاید اب دنیا کی کوئی طاقت نہیں دھو سکتی۔ یہ لوگ کرپٹ بھی ہوتے ہیں‘ اسی اخبار میں عالمی بنک کے اعداد و شمار چھپے ہیں ان اعدادو شمار میں انکشاف ہوا کہ اسرائیل کا شمار اس وقت کے کرپٹ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ (بحوالہ جنگ اخبار 10 ستمبر 2005 ء) مسائل ١۔ دین کا نام لے کر جھوٹ بولنا بالواسطہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا ہے۔ ٢۔ ایسے لوگوں کا ضمیر انہیں ملامت کرتا ہے۔ تفسیربالقرآن اہل کتاب کی اکثریت بددیانت اور حرام خورہے : ١۔ اہل کتاب رشوت خور ہیں۔ (البقرۃ: ٨٥) ٢۔ اہل کتاب حرام خورہیں۔ (البقرۃ: ١٧٤) ٣۔ اہل کتاب بددیانت ہیں۔ (آل عمران : ٧٥) ٤۔ اہل کتاب سود خورہیں۔ (النساء : ١٦١) ٥۔ اہل کتاب کی اکثریت گناہ اور زیادتی کے کاموں میں جلدی کرنیوالی اور سود خور ہے۔ (المائدۃ: ٦٢)