سورة فاطر - آیت 2

مَّا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۖ وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

جو کچھ اللہ لوگوں کے لیے رحمت میں سے کھول دے تو اسے کوئی بند کرنے والا نہیں اور جو بند کر دے تو اس کے بعد اسے کوئی کھولنے والا نہیں اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قادر قدیر کے اختیار ات کی ایک اور جھلک پر غور کریں۔ مشرکین میں سے ایک گروہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو کچھ اختیارات دے رکھے ہیں یہاں اس عقیدہ کی کھلے الفاظ میں نفی کرتے ہوئے سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ یا کسی ذات کو رائی کے دانے کے برابر بھی اپنی خدائی میں اختیارات نہیں دیئے۔ وہ کسی کو اپنی رحمت سے سرفراز کرنا چاہے تو اسکی رحمت کو کوئی روکنے والا نہیں اگر وہ اپنی رحمت کو روک لے تو اسے کوئی نازل کرنے والا نہیں ہے۔ وہ اپنے حکم اور فیصلے نافذ کرنے پر غالب ہے۔ پوری طرح غلبہ حاصل ہونے کے باوجود اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا کہ وہی دینے اور عطا فرمانے والا ہے۔ یہ ایسا عقیدہ اور فکر ہے جس سے انسان نہ صرف مخلوق سے بے نیاز ہوجاتا ہے بلکہ در در کی ٹھوکریں کھانے سے بھی بچ جاتا ہے۔ اس کے اخلاق اور معاملات میں اخلاص کا پہلو غالب رہتا ہے۔ وہ کسی کے ساتھ ہمدردی اس لیے نہیں کرتا کہ آنے والے کل کو یہ اسے ضرور فائدہ پہنچائے گا۔ وہ کسی بڑے کو سلام کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ خوف نہیں ہوتا کہ اگر اس نے اسے سلام نہ کیا تو یہ اسے کسی چیز سے محروم کر دے گا۔ کیونکہ اس کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ جو چیز میرا رب مجھے عطا کرنا چاہے گا اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز کو اس نے روک لیا اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ اسی عقیدہ کو تازہ اور پختہ رکھنے کے لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ ” حضرت ابو سعیدخدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو پڑھتے، اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں آسمانوں و زمین کے درمیان خلاء جتنی اور اس کے بعد جتنی تو چاہتا ہے، تو اس ثناء کا سب سے زیادہ اہل ہے اور اس بزرگی کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے جو ثناء اور عظمت تیرے لیے بندہ بیان کرتا ہے ہم تیرے ہی بندے ہیں اے اللہ! جو چیز تو عطاء کرنا چاہیے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے اس کو کوئی عطا کرنے والا نہیں تجھ سے بڑھ کر کوئی عظمت والا اور نفع دینے والا نہیں۔“ [ رواہ مسلم : باب مَا یَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ایک دن میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بچے! میں تجھے چند کلمات سکھاتاہوں۔ اللہ کو یاد رکھنا وہ تجھے یاد رکھے گا، جب تو اللہ تعالیٰ کو یاد رکھے گا۔ تو تواسے اپنے سامنے پائے گا، جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر، جب تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کر اور یقین رکھ کہ اگر پوری مخلوق تجھے کچھ نفع دینے کے لیے جمع ہوجائے تو وہ اتنا ہی نفع دے سکتی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے پر تل جائے تو تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیرے حق میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔“ [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں حکمت ہوتی ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کسی پر کرم فرمائے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے محروم کرنا چاہے تو کوئی اسے دے نہیں سکتا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے غالب ہے۔ تفسیر بالقرآن زمین اور آسمان اللہ ہی کی ملکیت ہیں : ١۔ ” اللہ“ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے۔ (البقرۃ: ١٠٧) ٢۔ اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے۔ (آل عمران : ٢٦) ٣۔ ” اللہ“ جسے چاہتا ہے اسے حکومت دیتا ہے۔ (آل عمران : ٢٦) ٤۔ ” اللہ“ جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔ (آل عمران : ٢٦) ٥۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہی ہے۔ (الشوریٰ : ٤٩) ٦۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ (الملک : ١) ٧۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے معاف کرے گا۔ (الفتح : ١٤)