سورة سبأ - آیت 47

قُلْ مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہہ میں نے تم سے جو بھی اجرت مانگی ہے تو وہ تمھاری ہوئی۔ میری اجرت تو اللہ ہی پر ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : آدمی کی حماقت کی ایک وجہ اس کا مفاد اور لالچ ہوا کرتا ہے نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں سے کوئی دنیوی مفاد نہ تھا جس بنا پر کفار کے سامنے حق بیان کرتے ہوئے چار استفسار کیے گئے ہیں۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! انہیں فرما دیں کہ کیا میں نے تم سے اس دعوت کے کام پر کسی قسم کا کوئی مطالبہ کیا ہے جس بنا پر تم مجھے مجنون کہتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں کسی لالچ کے پیش نظرتمہارے نظریات کی مخالفت کرتا ہوں ؟ ہرگز نہیں میرا مقصد تمہاری اصلاح کرنا ہے۔ لہٰذا اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ میرا صلہ میرے رب کے ذمہ ہے جو میرے اور تمہارے احوال کو اچھی طرح جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا رب مجھ پر حق نازل کرتا ہے جسے میں من و عن تم تک پہنچا رہا ہوں۔ اس سے کسی کا کوئی معاملہ اور بات پوشیدہ نہیں کیونکہ وہ ہر قسم کے غیب سے واقف ہے۔ یاد رکھو ! حق آشکا رہ ہوچکا ہے کہ معبودان باطل نے نہ پہلی بار کسی چیز کو پیدا کیا اور نہ دوسری مرتبہ کسی کو پیدا کرسکتے ہیں۔ ان حقائق کے باوجود تم اپنے نقطہ نظر کے مطابق مجھے بھٹکا ہوا سمجھتے ہو تو اس کا وبال مجھ پر ہوگا اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ اس وحی کا نتیجہ ہے جو میری طرف میرا رب بھیجتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر بات فوری طور پر سننے والا ہے۔ یہ آپ کے بارے میں ایک سوال کا جواب ہے ورنہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حق پر تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورۃ یٰس میں قسم کھا کر فرمایا ہے۔ (یٰسٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ) [ یٰسٓ: ١ تا ٤] ” یٰسٓ۔ قسم ہے قرآن حکیم کی۔ کہ یقیناً آپ رسولوں میں سے ہیں۔ اور سیدھے راستے پر ہو۔“ ان آیات میں قل کہہ کر چار باتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے کہلوائی گئی ہیں۔1 میں تم سے کچھ نہیں مانگتا۔2 جو کچھ میں تمہیں پہنچاتا ہوں وہ ” اللہ“ ہی کا نازل کرتا ہے۔3 حق یہ ہے کہ معبودان باطل نہ پہلی بار پیدا کرسکتے ہیں اور نہ دوسری بار 4 یقیناً میں اپنے رب کی ہدایت پر ہوں۔ مسائل ١۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعوت کے بدلے میں کچھ نہیں لیتے تھے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سے باخبر ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حق نازل فرمایا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہر بات فی الفور سنتا ہے۔ ٥۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حق پر قائم اور لوگوں تک حق پہنچانے والے تھے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر انسان کے قریب ہے اور اس کی ہر بات سننے والا ہے : ١۔ بے شک میرا رب دعاؤں کو سننے والا ہے۔ ( آل عمران : ٣٨) ٢۔ بیشک اللہ دعاؤں کو سننے والا ہے۔ ( ابراہیم : ٣٩) ٣۔ اللہ سے ڈر جاؤ اللہ تعالیٰ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (الحجرات : ١) ٤۔ اللہ تعالیٰ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ (ق : ١٦) ٥۔ اللہ تعالیٰ انسان کے قریب ہے اور ہر کسی کی دعا کو سنتا اور قبول کرتا ہے۔ ( البقرۃ: ١٨٦)