سورة الأحزاب - آیت 22

وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ۚ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا تو انھوں نے کہا یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اور اس چیز نے ان کو ایمان اور فرماں برداری ہی میں زیادہ کیا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نمونہ پیش کرنے اور اس کی اہمیت ذکر کرنے کے بعد صحابہ کرام (رض) کا کردار پیش کیا جاتا ہے۔ ” الْمُؤْمِنُوْنَ“ سے مراد صحابہ کرام] کی جماعت ہے جنہوں نے موسم کی شدت، افراد کی قلت، انتہائی غربت، دشمن کا خوف، داخلی، خارجی مصائب اور مسائل کے باوجود اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس یقین کے ساتھ ساتھ دیا کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو بھی ہمارے ساتھ وعدہ کیا وہ سچ ثابت ہوا اور ہوگا۔ مصائب اور مسائل نے ان کے ایمان میں کمزوری پیدا کرنے کی بجائے اضافہ ہی کیا ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے مال و جان کی قربانی دے کر اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کردیا ہے جو باقی ہیں وہ اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے شہادت کا انتظار کررہے ہیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ قول وفعل میں سچے لوگوں کو ان کی سچائی کی جزا دے گا اور منافقت پر قائم رہنے والوں کو سز ادے گا اگر منافق اپنی منافقت سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان پر مہربانی فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے۔ جنگ کے دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کردار آپ ہر حال میں سب مسلمانوں کے لیے واجب الاتباع نمونہ ہیں : جنگ کی سب سے زیادہ ذمہ داری سپہ سالار پر ہوتی ہے۔ غزوہ خندق میں مسلمانوں کے سپہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ دشمن کی کثرت مسلمانوں کی تعداد اور خوراک کی قلت، حالات کی سنگینی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پائے ثبات میں ذرہ بھر بھی لغزش پیدا نہ کرسکی۔ مسلمانو! تمہارا کردار بھی ایسا ہی ہونا چاہیے اور تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کو بطور نمونہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ جنگ میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں رسول کی ذات تمہارے لیے نمونہ ہونی چاہیے اس مختصر جملہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اور اتباع کو تمام مسلمانوں پر لازم اور واجب قرار دیا گیا ہے۔ سیدنا انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ میرا نام میرے چچا انس بن نضر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ وہ جنگ بدر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر نہ ہو سکے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزرتی تھی اور اس نے کہا کہ اللہ کی قسم! اب اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر ہونے کا موقع آیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں۔ راوی کہتا ہے کہ پھر وہ ڈر گئے اور ان الفاظ کے علاوہ کچھ اور لفظ کہنا مناسب نہ تھا۔ جب اگلے سال احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر ہوئے تو انہیں راستے میں سعد بن معاذ (رض) ملے۔ انہوں نے پوچھا ابو عمر کہاں جاتے ہو ؟ انس (رض) کہنے لگے۔ ” واہ میں تو احدپہاڑ کے پار جنت کی خوشبو پا رہا ہوں۔ چنانچہ وہ بڑی جرأت سے لڑے۔ حتیٰ کہ شہید ہوگئے اور ان کے جسم پر ضربوں، نیزوں اور تیروں کے اسی (٨٠) سے زیادہ زخم پائے گئے۔ میری پھوپھی ربیع بنت نضرنے کہا کہ ” میں اپنے بھائی کی نعش کو صرف اس کے پوروں سے پہچان سکی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (رواہ ترمذی : ابواب التفسیر) حیی بن اخطب نے بنو قریظہ کو کس طرح بدعہدی پر آمادہ کیا : اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ایسی مدد فرمائی کہ عام لڑائی کی نوبت ہی نہ آنے دی اور کفار کے محاصرہ کو اٹھانے کے لیے یخ بستہ ہوا اور فرشتے بھیج دئیے۔ یہود میں اور مکہ کے اتحادیوں میں پھوٹ ڈال دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن بدحواس ہو کر بھاگ کھڑا ہوا۔ بھلا اللہ کی زبردست قوت کے سامنے کون ٹھہر سکتا ہے؟ یہود بنو قریظہ تھے جو مسلمانوں کے معاہد تھے۔ بنو قینقاع اور بنی نضیر کی جلا وطنی کے بعد مدینہ میں یہود کا یہی قبیلہ باقی رہ گیا تھا۔ کیونکہ یہ قبیلہ دوسروں کی نسبت قدرے شریف اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والا تھا۔ جب بنونضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کردیا گیا اور جنگ احزاب کی تیاریاں شروع ہوگئیں تو بنو نضیر کا رئیس حیی بن اخطب رات کی تاریکیوں میں بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا۔ کعب کو اندازہ ہوگیا تھا کہ حیی مجھے مسلمانوں سے عہد شکنی پر آمادہ کرنے کے لیے آیا ہے۔ لہٰذا اس نے دروازہ ہی نہ کھولا۔ حیی نے اس سے کچھ چکنی چپڑی باتیں کیں تو آخر اس نے دروازہ کھول دیا۔ حیی کہنے لگا کعب میں تمہارے پاس زمانے کی عزت اور چڑھتا ہوا سمندر لے کر آیا ہوں۔ ان لوگوں نے مجھ سے عہدوپیمان کیا ہے کہ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے ساتھیوں کا صفایا کیے بغیر یہاں سے نہ ٹلیں گے۔ اس کے جواب میں جو کچھ کعب نے کہا وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔ اس نے کہا حیی واللہ تم میرے پاس زمانے کی ذلت اور برسا ہوا بادل لے کر آئے ہو جو صرف گرج چمک رہا ہے۔ تم پر افسوس مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں صدق وصفا کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ ( ابن ہشام) مگر حیی نے کعب کو سبز باغ دکھا دکھا کر بالآخر بدعہدی پر مجبور کر ہی لیا وہ کہنے لگا اگر قریش محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاتمہ کیے بغیر ہی واپس چلے گئے تو میں بھی تمہارے ساتھ قلعہ بند ہوجاؤں گا اور واپس نہیں جاؤں گا پھر جو انجام تمہارا ہوگا وہی میرا ہوگا۔ اس شرط پر کعب بھی اتحادیوں میں شامل ہوگیا۔ یہود کا انجام اور ان کا سیدنا سعد بن معاذ (رض) کو حکم تسلیم کرنا : یہودیوں کے پاس وافر مقدار میں راشن موجود تھا اور انہوں نے مسلمانوں کے استیصال کے لیے ڈیڑھ ہزار تلواریں، دو ہزار نیزے تین سو زرہیں اور پانچ سو ڈھالیں بھی تیار کر رکھی تھیں۔ مگر وقت پر کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آئی۔ انہوں نے صرف ٢٥ دن کے محاصرہ کے بعد اس شرط پر ہتھیار ڈال دیے کہ ان کے حق میں جو بھی فیصلہ ان کے حلیف سعد بن معاذ کریں گے وہ انہیں منظور ہوگا۔ حالانکہ ان کے پاس قلعہ میں اس قدر راشن موجود تھا کہ اگر وہ چاہتے تو پورا سال قلعہ بند رہ کر آسانی سے گزارا کرسکتے تھے مگر ان کے ضمیر نے انہیں جلد ہی بے چین کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دی۔ بنو قریظہ کا انجام : سیدنا سعد بن معاذ (رض) کو جنگ احزاب میں کاری زخم لگا تھا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے کہ (عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ أُصِیْبَ سَعْدٌ یَوْمَ الْخَنْدَقِ فِیْ الأَکْحَلِ، فَضَرَبَ النَّبِی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَیْمَۃً فِی الْمَسْجِدِ لِیَعُوْدَہُ مِنْ قَرِیْبٍ، فَلَمْ یَرُعْہُمْ وَفِیْ الْمَسْجِدِ خَیْمَۃٌ مِنْ بَنِیْ غِفَارٍ إِلاَّ الدَّمُ یَسِیْلُ إِلَیْہِمْ فَقَالُوْا یَا أَہْلَ الْخَیْمَۃِ، مَا ہَذَا الَّذِیْ یَأْتِیْنَا مِنْ قِبَلِکُمْ فَإِذَا سَعْدٌ یَغْذُوْ جُرْحُہُ دَمًا، فَمَاتَ فِیْہَا)[ رواہ بخاری : کتاب الصلوٰۃ، باب الخیمۃ فی المسجد للمرضی وغیرہم] ” سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جنگ خندق میں سعد بن معاذ (رض) کو ہفت اندام کی رگ میں تیر لگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں ہی ان کے لیے خیمہ لگوادیا۔ تاکہ ان کی عیادت کرتے رہیں۔ مسجد میں بنو غفار کا خیمہ بھی تھا۔ جب سیدنا معاذ (رض) کا خون بہہ کر ان کے خیمہ کی طرف آیا تو وہ ڈر کر کہنے لگے اے خیمہ والو! یہ کیا ہے جو تمہاری طرف سے بہہ کر ہماری طرف آرہا ہے دیکھا تو سعد (رض) کے زخم سے خون بہہ رہا تھا بالآخر اسی زخمی سے وہ چل بسے۔“ مسائل ١۔ صحابہ کرام ] نے ہر حال میں اپنے رب سے کیے ہوئے وعدے پورے کیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ صحابہ کرام (رض) اور اپنے قول وفعل میں سچے مسلمانوں کو جزائے خیر دے گا۔ ٣۔ منافقت سے تائب ہونے والے کو اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے کیونکہ وہ مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن سچائی اور اس کی جزا : ١۔ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کی وہی سچے ہیں۔ (الحشر : ٨) ٢۔ اللہ تعالیٰ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے گا۔ (الاحزاب : ٢٤) ٣۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ نبیوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ (النساء : ٦٩) ٤۔ قیامت کے دن سچے لوگوں کو ان کی سچائی کا صلہ دیا جائے گا۔ (المائدۃ: ١١٩) ٥۔ سچے مومن وہ ہیں جو اپنے مال اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ (الحجرات : ١٥) ٦۔ اے ایمان والو سچے لوگوں کا ساتھ دو۔ (التوبۃ: ١١٩)